بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کی جانب سے جاری کردہ مرکزی پریس ریلیز میں 30 ہزار سے زائد بلوچوں کو ان کے آبائی گھروں سے بے دخل کرکے کیمپوں میں منتقل کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آنے والے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں، ناانصافیوں، جبر اور ناروا اقدامات کے باعث بلوچستان آج شدید بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ بلوچستان کے عوام کو ان کے آبائی گھروں سے بے دخل کرکے کیمپوں میں منتقل کرنا انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
بیان کے مطابق، بلوچستان کے عوام پہلے ہی بدامنی، عدم تحفظ، احساسِ محرومی اور مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ہزاروں خاندانوں کو ان کے گھروں سے محروم کرنا ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اگر 30 ہزار سے زائد بلوچوں کی بے دخلی اور منتقلی سے متعلق اطلاعات درست ہیں تو یہ ایک سنگین انسانی بحران ہے، جس کا فوری نوٹس لینا ناگزیر ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے کہا کہ فارم 47 کے حکمرانوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت، جبر اور غیر منصفانہ پالیسیوں کے ذریعے بلوچستان کے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ ایسے اقدامات سے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا بحران مزید گہرا ہوگا۔
بی این پی نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کی صورتِ حال فوری طور پر واضح کی جائے، ان واقعات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، متاثرین کی جان و مال، بنیادی حقوق اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی غیر قانونی اقدام میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ بلوچ عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی، جبری بے دخلی اور انسانی حقوق کی پامالی پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں، بلکہ انصاف، آئین و قانون کی بالادستی، عوامی حقوق کے احترام اور بنیادی انسانی آزادیوں کے تحفظ میں مضمر ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے مطالبہ کیا کہ بلوچ عوام کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے اور انہیں کیمپوں میں منتقل کرنے کے اقدامات فوری طور پر روکے جائیں، کیونکہ انصاف کے بغیر پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔


















































