خطے کے تقریباً نصف انتہائی غریب افراد پاکستان میں مقیم۔عالمی بینک

31

عالمی بینک کی جانب سے جاری ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فروری 2026 میں خلیج فارس میں شروع ہونے والے تنازع نے پاکستان، افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پر مشتمل خطے میں لوگوں کے ذرائع معاش کو متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ انسانی سطح پر بھی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس خطے میں روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے افراد میں سے تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔

خطے کے ممالک سے متعلق جاری کیے گئے اکنامک اپ ڈیٹ میں عالمی بینک نے کہا ہے کہ لبنان، پاکستان، شام اور متحدہ عرب امارات میں پٹرول کی قیمتوں میں 40 فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ ڈیزل کی قیمت لبنان میں 80 فیصد سے زیادہ، متحدہ عرب امارات میں تقریباً 70 فیصد اور پاکستان، مغربی کنارے اور غزہ میں 40 فیصد سے زائد بڑھی۔

رپورٹ کے مطابق قیمتوں پر حکومتی کنٹرول اور سبسڈیز نے صارفین کو فوری اثرات سے کسی حد تک تحفظ فراہم کیا، تاہم اس کے نتیجے میں حکومتوں پر مالی دباؤ بڑھ گیا۔ مصر، اردن اور تیونس میں حکومتی قرضے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 80 فیصد سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ لبنان میں یہ شرح 130 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

عالمی بینک کے مطابق الجزائر، جبوتی، عراق، مراکش اور پاکستان کو بھی قرضوں اور مالی ضروریات کے حوالے سے نمایاں دباؤ کا سامنا ہے۔ اسی طرح ایندھن اور دیگر اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شام اور پاکستان میں احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح 2018-19 سے 2024-25 کے دوران روزانہ تین ڈالر کی غربت کی لکیر کے حساب سے 6.4 فیصد پوائنٹس، جبکہ 4.20 ڈالر یومیہ کی غربت کی لکیر کے حساب سے 3.2 فیصد پوائنٹس بڑھی۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں کووڈ-19 کی وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند افراطِ زر، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ نے غربت میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔ اندازہ ہے کہ یہ منفی رجحانات 2026 تک برقرار رہیں گے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت کی شرح وبا سے پہلے کی سطح سے اب بھی بلند ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خطے کے انتہائی غریب افراد میں تقریباً نصف کا تعلق پاکستان سے ہے، جبکہ دیگر غریب افراد کی بڑی تعداد افغانستان، شام اور یمن میں رہتی ہے۔ یہ تینوں ممالک جنگوں اور تنازعات سے متاثر ہیں، اور ان میں مجموعی طور پر روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے افراد کا مزید 47 فیصد حصہ آباد ہے۔