جبری لاپتہ غلام حیدر کے اہلخانہ کی پریس کانفرنس، بازیابی کا مطالبہ

10

جبری لاپتہ غلام حیدر کے اہلخانہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ غلام حیدر کرد ولد جمعہ خان کو 12 مارچ 2026 کو کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس، گلی نمبر 19، نزد کلی پرکانی سے سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

انہوں نے کہا کہ غلام حیدر کے بارے میں آج تک ہمیں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔ ان کی والدہ، بہن، بھائی اور دیگر اہلِ خانہ شدید ذہنی کرب، اذیت اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ ایک ماں اور خاندان کے لیے یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے کہ انہیں اپنے پیارے کی موجودگی اور سلامتی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غلام حیدر کرد کو فوری طور پر بحفاظت بازیاب کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لاکر قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، الزامات سے آگاہ کیا جائے اور انہیں صفائی اور قانونی دفاع کا مکمل حق دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم صحافی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ غلام حیدر کرد کے اہلِ خانہ کی آواز بنیں اور ان کی بازیابی کے لیے ہماری فریاد حکام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔