اپوزیشن رکن نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی بدتر ہوچکی ہے۔
بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن رکن یونس عزیز زہری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی بدتر ہوچکی ہے اور لوگوں کے لیے پیدل چلنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
آج بلوچستان اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یونس عزیز زہری نے کہا کہ انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا ہے کہ اسمبلی کو امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی جائے تاکہ ارکان کو معلوم ہوسکے کہ اس حوالے سے حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اب تک کیا اقدامات اور کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی دن بدن آگے بڑھ رہی ہے، اگر کسی علاقے میں اس میں کمی آتی ہے تو دوسرے علاقے میں صورتحال خراب ہوجاتی ہے۔
ان کے مطابق اس معاملے پر فوری طور پر اسمبلی کو بریفنگ دی جانی چاہیے، جس کے بعد ارکان اس بات پر بحث کرسکیں گے کہ حکومت نے امن و امان کی بحالی کے لیے کتنی کامیابی حاصل کی ہے۔
وفاقی حکومت اور بلوچستان میں بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے امن و امان کے لیے مسلح دستے یا لشکر تشکیل دینے سے متعلق اعلانات کے حوالے سے سوال پر یونس عزیز زہری نے کہا کہ سیاسی نمائندے نہ مسلح دستے بنا سکتے ہیں اور نہ ہی لشکر تشکیل دینا ان کا کام ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ شہریوں کو سیکورٹی فراہم کرنا ریاست حکومت اور فورسز کا کام ہے، ہم کوئی لشکر نہیں بنائینگے اور نا ہی کسی تصادم کا حصہ بنے گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ حکومت اور عسکری ادارے کہتے ہیں: ’’لشکر بناؤ اور مسلح افراد کے خلاف لڑو، یہ ہمارا نہیں، فوج کا کام ہے، اور وہ اسی کی تنخواہ لیتے ہیں۔


















































