بلوچستان کے مختلف علاقوں، چاغی، واشک اور پنجگور میں پاکستانی فورسز کو مختلف نوعیت کے حملوں میں جانی نقصانات اٹھانے کی اطلاعات ہیں۔
آج صبح پنجگور کے علاقے پروم میں ہوکانی کے مقام پر نامعلوم افراد نے پاکستانی فورسز کو بم دھماکے میں نشانہ بنایا۔ دھماکے کے بعد علاقے میں ہیلی کاپٹروں کی پروازیں دیکھنے میں آئی ہے۔
گذشتہ روز کوئٹہ تفتان تجارتی شاہراہ پر چاغی کے علاقے چہتر میں پاکستانی فورسز کے قافلے میں شامل ایک بکتر بند گاڑی کو نامعلوم افراد نے بم دھماکے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گاڑی کو نقصان پہنچا۔
دھماکے کے بعد تجارتی گاڑیوں کے کانوائے کو رات گئے تک روکا گیا جبکہ علاقے میں فورسز کی جانب سے شدید فائرنگ کے ساتھ مختلف اطراف میں مارٹر گولے فائر کیئے گئے، مزید برآں متعدد افراد کو فورسز کی جانب سے جبری لاپتہ کرنے کی اطلاعات ہیں۔
دریں اثناء گذشتہ روز ہی واشک کے علاقے ارماگئے میں سی پیک روٹ پر مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کے قافلے کو اس وقت گھات لگاکر حملے میں نشانہ بنایا جب وہ بسوں کے قافلے کی شکل میں جارہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق حملے کی زد میں آنے سے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ حکام نے ایک اہلکار، نائیک سلام کی ہلاکت اور بارہ اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ان حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم مذکورہ علاقوں میں بلوچ مسلح آزادی پسند متحرک ہیں۔


















































