‎آہ! ڈاکٹر نوکاپ بلوچ – کامریڈ وفا بلوچ

23

‎آہ! ڈاکٹر نوکاپ بلوچ

تحریر: کامریڈ وفا بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

‎سیاسی پارٹی میں شمولیت سے سیاسی بلوغت کے ساتھ ساتھ عظیم لوگوں سے قربت کا بھی  شرف حاصل ہوتا ہے۔ کاش وقت کو واپس کسی ویڈیو فلم کی طرح دورانے کا کوئی طریقہ ہوتا تو آج میں اپریل 2022 کے گزرے ان لمحات کو ضرور واپس دوراتا جہاں بلوچ قومی جدوجہد کے بہت سے سیاسی مزاحمت کاروں سے ملاقات ہوئیں اور ان کی ہمت اور حوصلوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

‎بی این ایم کی دسواں قومی کونسل سیشن کی تیاری چل رہی تھی۔ بلوچستان کی حالات کو مدنظر رکھ کر بی این ایم کی سیاسی مزاحمت کاروں کو پوری بلوچستان سے ایک جگہ اکٹھا کرنا ایک مشکل امتحان ضرور تھا لیکن بابا خیر بخش مری کے مزاحمت کار اور واجہ غلام محمد بلوچ کے سیاسی پیروکار قومی جدوجہد میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ پاکستان ایک ایسی غیر فطری ریاست ہے جو سیاسی مزاحمت کا جواب گولی، زندان، ٹارچر سیل اور لاپتہ کرنے میں دیتا ہیں۔ کیوں کہ اس ریاست کی بلوچستان پر جبری قبضہ کرنے کے بعد کوئی منطق، دلیل اور سیاسی مناظرہ اور مزاحمت نہیں کر سکتا۔ اس لیے جب بھی آزادی کی سیاسی جدوجہد شروع ہوئی ریاست بجائے مزاکرات اور بات چیت کے سیاسی لیڈران کو ٹارگٹ کلنگ، قید و بند، لاپتہ کرنے والے غیر انسانی رویے اختیار کیے۔ بی این ایم کی لیڈران سے لیکر ورکر تک ہزاروں کو شہید کیا گیا۔ ریاست کی یہ سوچ تھی کہ ان کو شہید کر کے بلوچستان کی آزادی کا سیاسی مزاحمت ختم ہوگا لیکن آج ہزاروں بلوچ نوجوان، بزرگ اور عورتیں بی این ایم کی پلیٹ فارم سے بلوچستان کی آزادی کے جدوجہد میں شامل ہیں۔ تنظیمی حکمت عملی کے تحت قومی کونسل سیشن کے 79 کونسلران کو بلوچستان میں ایک جگہ جمع کیا گیا ان میں ناچیز بھی شامل تھا۔ یہ میرے سیاسی تربیت، فکر کی پختگی اور جہد مسلسل میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس تنظیم کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کر رہا ہوں اس میں شہیدوں کی ایک لمبی فہرست ہیں۔ ان شہداء کی فکر اور نظریہ اور بلوچ قومی تحریک کی سیاسی جدوجہد میں شامل ہو کر کم از کم ضمیر کے بوج کو کم کر سکتا ہوں۔

‎اپریل 2022 میں قومی کونسل سیشن کے دوران میری ملاقات بی این ایم کے لیڈران سے ہوئی۔ چیئرمین کمال بلوچ اور ناظر نور سے پہلے بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم سے طالب علمی کے دور میں ملاقات ہوئی تھی۔ ڈاکٹر جلال بلوچ سے شناسائی تو بہت پہلے سے ہوئی تھی جب شال میں ان کی نظریاتی سرگرمیاں ہوا کرتے تھے۔ شہید کریم دہوار کرانی میں ہمارے ہمسایہ تھا۔ اس دور میں ہم اسکول میں پڑھتے تھے۔ ان کے سیاسی سرگرمیوں سے ہم قومی آزادی کے جدوجہد سے واقف ہوگئے۔ پھر ریاستی ظلم و جبر بڑھ گئی سیاسی لیڈران کو لاپتہ کرنا، مسخ شدہ لاش ویرانوں میں پھینکنا پاکستان اپنی سفاکیت پر اتر گئی۔ اس دوران ڈاکٹر جلال بلوچ قدرے محفوظ جگہ ہجرت کر گئے۔ پھر ان کے کتابیں ہم تک پہنچ جاتے تھے لیکن ان سے بالمشافہ ملاقات کونسل سیشن میں ہوئی۔ ان کے ساتھ ڈاکٹر نوکاپ اور باقی لیڈران اور ورکرز سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور قومی تحریک کے سفر میں ہمت اور حوصلہ بڑھ گیا۔

‎ڈاکٹر نوکاپ کے ساتھ پہلے دن سے ایسی یاری بن گئی کہ جیسے کوئی کہے کہ پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب سے میری پہلی ملاقات تھی۔ ان کی نرم مزاجی اور خوش طب نے مجھے اپنا اسیر بنا دیا۔ سیشن کے دوران جب بھی کوئی موقع ملتا میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کچاری کرتا۔ شروع میں جب میں کونسل سیشن کے مقام پر پہچا تو تھوڑا تھکاوٹ محسوس کیا لیکن جب ڈاکٹر نوکاپ سے نزدیکی ہوگئی یاری بن گئی پھر وقت موقع نہیں دے رہا تھا جب بھی ہم دیوان سجاتے تھے تو وقت جلدی گزر جاتا تھا۔ شہید ڈاکٹر نوکاپ چونکہ پیشے کے اعتبار سے انسانی امراض کا علاج کرتا تھا لیکن فکری اعتبار سے ذہنوں کا بھی علاج کرتا تھا۔ اس دوران ہمارے گفتگو اکثر علاقائی صورتحال کے حوالے سے ہوتے تھے۔ ریاستی جبر، ظلم و ستم ان کے نظریہ اور سوچ کو اور زیادہ مضبوط کردیا تھا۔ میں نے اپنے علاقائی صورتحال سے آگاہ کر کے اپنے سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے ان سے گفتگو کرتا اور مجھے یہ ترغیب دیتا کہ ہم جس منزل کے مسافر ہیں اس میں شہیدوں کے مقدس خون شامل ہیں۔ اس راہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ بزدل کو کبھی نصیب نہیں ہوتا۔ ہم خوش قسمت ہیں اس راہ کے مسافر بن گئے ہیں۔ ہمیں کبھی بھی گھبرانا نہیں اور نہ پیچھے ہٹنا ہے۔ اپنے آخری سانس تک منزل کے طرف قدم بڑھاتے رہیں گے۔ خود بھی بلند فکر اور مضبوط حوصلوں کے ساتھ تحریک کو آگے لے جائیں گے اور دوسروں کو بھی اس کاروان میں شامل کرتے رہیں گے۔ ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے شہیدوں کا منزل آزاد بلوچستان ایک دن ضرور ہوگا۔ پھر ہم سر فخر سے بلند کر گھومیں گے۔

‎آہ! ڈاکٹر جان آپ تو اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ایک کامیاب جہدکار کے بن کر ثابت کردیا کہ قومی تحریک میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا۔ آپ وطن پر قربان ہوگئے۔ آپ آزادی کے شمع کو ہمیشہ کے لیے روشن کر کے چلے گئے۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ آپ کے قربانیوں کو بیان کر سکوں۔ قومی تحریک میں بہت ظلم سہے، کتنے تکالیف اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ریاستی جبر کو اپنے اوپر برداشت کر کے آزادی کے جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے۔

‎افف اڑے شومئی قسمت پھر موقع نہیں ملا کہ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کرتے، بلوچی دیوان سجاتے، شہیدوں کو یاد کرتے، تنظیمی سرگرمیوں پر سیر حاصل بحث کرتے، تھوڑا ہنسی مزاق کرتے، غلامی کے دکھ درد اور ریاستی ظلم و ستم کے داستانوں کے درمیان ہم خوش مزاجی سے ہنستے قہقے لگاتے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔