دُرک – سنگت سربلند

22

دُرک

تحریر: سنگت سر بُلند

دی بلوچستان پوسٹ

دُرک میرے لیے سرف ایک نام نہیں، بلکہ (حوصلہ، ہمت) کی ایک کہانی ہے۔ آپ کی زندگی میں بہت لوگ آتے جاتے ہیں، مگر اُن میں کچھ لوگ آپ کی زندگی میں بہت کم وقت کے لیے آئے ہو، مگر آپ کے دل میں بڑا جگہ بنا کے جاتے ہیں۔ اُن کی ہر ایک بات دل میں خون کی طرح جگہ بنا لیتی ہے۔ اُن کا ہر ایک خیال ذہن میں مرتے دم تک رہتا ہے۔ اُن کا ہسنا سرف ہسنا نہیں، بلکہ آنے والے وقت میں روشنی کی اُمید دلاتا ہے۔

یہ اُس وقت کی بات ہے جب کمانڈر نے مجھے ٹریننگ پہ بھیجا، اور جب میں وہاں پہنچا تو راستے میں ہی میری ملاقات دُرک اور ایک اور ساتھی سے ہوا۔ حال احوال کرنے کے بعد سنگت نے کہا کہ چلو چلتے ہیں۔ وہاں سے نکل پڑے اور ایک اونچی پہاڑ کے اوپر جا کے بیٹھ گئے۔

سنگت نے کہا تھوڑا نیٹورک استعمال کر کے چلے جاتے ہیں، اور ہم بیٹھ گئے۔ جیسا ہی شام ہوتا جا رہا تھا، ویسے ہی سردی تیز ہو رہی تھی۔ اور اچانک دُرک کی نظر میرے لرزتے ہوئے بدن پر پڑی۔ اُس نے کہا: سنگت، سردی لگ رہی ہے آپ کو؟ میں نے کہا: (جی سنگت)۔ تو اُس نے اپنی جیکٹ اتار کر مجھے دی، بولا: پہن لو۔ میں نے کہا: اور آپ؟ اُس نے کہا: سنگت، میرا خیر ہے، آپ پہن لو۔ سنگت کی یہ مہر دیکھ کر تب مجھے ایسا لگا کہ مہر آج بھی زندہ ہے۔ اس سے پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ مہر سرف ایک لفظ ہے، لیکن اُس دن احساس ہوا کہ مہر زندہ ہے، اور وہ بھی آپ کو کہیں اور نہیں، بلکہ جہدکار سنگتوں کے ساتھ ملے گا۔ اور اُسی دن سے دُرک کی ایک عمل نے میرے دل میں جگہ بنا لی۔

خیر، وہاں سے ہم نکل پڑے اور وتاخ کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہاں سنگت نے مجھے دوسرے سنگت اُن سے ملایا۔ اور چلتے چلتے شام ہو گیا، اور سارے سنگت ایک ساتھ ہو کر کھانا کھائے۔ اور اُس کے بعد کچھ سنگت تھک گئے تھے تو وہ سو گئے، اور ہم کچھ سنگت، جن میں دُرک بھی تھا، سارے وتاخ سے دور دیوان کرنے کا سوچا۔ ہم نے اپنا دیوان شروع کیا۔ چلتے چلتے شہید اُن کی بات ہونے لگی۔ تب میری آنکھوں سے آنسو آنے لگے، تو دُرک نے کہا: (نہیں سر بُلند، دل بڑا کرو، ابھی رونے کا وقت نہیں ہے۔ ان ہی شہید اُن کی عظیم مقصد، مقصدِ آزادی کے لیے اپنی جدّ کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہو جاؤ۔) اُس نے کہا: دیکھو سر بُلند، آزادی ہم سے قربانی مانگتی ہے، اور اُس کے لیے سنگتوں نے بہت قربانی دی ہے اور آگے بھی دیں گے۔ تو ابھی ہمارے پاس رونے کا وقت نہیں ہے۔ ابھی ہم ان ہی شہید اُن کی قربانی سے اپنا حوصلہ بڑھائیں، اور شہید اُن کی مقصد کے لیے اپنی دل و جان سے زیادہ محنت کریں اور جدّ کو آگے بڑھائیں۔ یہ بات کہتے ہی وہاں خاموشی والا ماحول بن گیا۔

تھوڑی دیر بعد دُرک جان نے ہستے ہوئے کہا: بس سر بُلند، آپ سب سنگت جاؤ، میں اکیلے بلوچستان کو آزاد کروں گا۔ پھر سے سب ہسنے لگے۔

سنگت دُرک ایک ایسا ساتھی تھا جس کے ساتھ رہ کر آپ کو بڑے بڑے مشکلات بھی آسان لگتے تھے، کیونکہ سنگت (ہمت، حوصلہ، مہر، محبت) بخشنے والا ساتھی تھا۔ اُس کے بعد وقت گزرتا گیا، اور میری ٹریننگ کا آخری دن تھا۔ ہم کچھ ساتھی ایک ساتھ بیٹھے تھے، تب میں نے دُرک کو کہا: سنگت، کل تو میں جاؤں گا، اُس کے بعد آپ اپنے کاموں میں لگ جاؤ گے، مجھے بھول جاؤ گے۔ سنگت نے ہستے ہوئے کہا: یار سر بُلند، آپ ابھی دل میں بسے ہو، ہم آپ کو نہیں بھول سکتے۔ سنگت کی یہ بات سن کے ایسا لگا جیسے اُس نے میرے آنسو اُن کو بول لیا۔ سنگت نے مجھے دیکھ کر کہا: یار سر بُلند، آپ کا دل بہت چھوٹا ہے۔ خود کو مضبوط کرو، ہر جگہ دُرک آپ کو نہیں ملے گا۔ پھر کہا: آپ ابھی سے رو رہے ہو، جب میں شہید ہو جاؤں گا پھر آپ کیسے میرے لیے تحریر لکھو گے؟ میں نے کہا: قربان، ایسا نہیں بولو۔ کیا پتا آپ سے پہلے میں شہید ہو جاؤں؟ تو سنگت نے کہا: نہیں یار، ایسا نہیں سوچو۔ آپ کے لیے ابھی بہت کام رکھے ہیں، جن کو کرنا بہت ضروری ہے۔

سنگت کی یہ باتیں آج یاد آتی ہیں تو سوچتا ہوں کیا لکھوں؟ دُرک جیسا ساتھی، پہ جو آزادی کے جنگ کے ساتھ ساتھ (مہر، محبت، حوصلہ، ہمت، جذبہ، فکر، وفا) والے سنگت کے لیے میرے الفاظ کم پڑ رہے ہیں۔ سنگت دُرک ایک ایسا ساتھی تھا جس کی باتیں صرف باتیں نہیں، بلکہ اس اندھیری دنیا میں چراغ کی مانند تھیں۔

دُرک جان، آج آپ بلہ ہمارے ساتھ نہیں ہو، لیکن آپ کی باتیں، آپ کی ایمانداری ہمارے لیے وفا کی زندہ مثال رہیں گی، اور آپ ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہو گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔