سترہ سال کے طویل عرصے کے بعد صرف ایک ہی سوال: زاکر مجید کہاں ہے؟
تحریر: شولان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
2011ء کی بات ہے، جب میں آٹھ سال کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا۔ ہمارے علاقے میں ”بی ایس او آزاد“ کی جانب سے ایک ریلی نکالی گئی، جس میں پورے علاقے کے لوگوں نے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ کچھ نے اپنی شعوری بنیاد پر، کچھ نے رواج اور رجحان کی بنیاد پر، جبکہ کچھ نے جذباتی بنیاد پر اس ریلی میں شرکت کی۔ انہی لوگوں میں ایک میں بھی تھا۔
جب میں جائے وقوعہ پر پہنچا، جہاں ریلی شروع ہونے والی تھی، تو میں نے دیکھا کہ جو سنگت اس ریلی کی سربراہی کر رہے تھے، ان میں سے ایک میرا بڑا بھائی بھی تھا۔
جیسے ہی میری نظر اپنے بھائی پر پڑی، میں بہت زیادہ ڈر گیا اور وہاں سے خود کو نکالنے ہی والا تھا کہ اچانک اُس کی نظر مجھ پر پڑی۔ وہ میری طرف قدم بڑھاتے ہوئے آنے لگا۔ جب وہ میرے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اُس کے ہاتھ میں ایک نوجوان کی تصویر اور ایک سفید شیٹ تھی، جس پر لکھا تھا:
”ذاکر مجید کہاں ہے؟“
یہ پہلی بار تھا کہ میں نے یہ نام دیکھا اور سنا تھا۔
میرے بھائی نے مجھ سے کہا، ”ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ میرا گھر نہیں ہے کہ میں تمہیں ڈانٹوں گا۔ میں صرف اس بات کا احساس دلاؤں گا کہ میں تم سے بڑا ہوں۔ یہ ایک قومی ریلی ہے، اس میں جتنا میرا حق ہے، اتنا ہی تمہارا بھی حق ہے کہ تم اس میں حصہ لو۔“
اس کے بعد اُس نے میرے ہاتھ میں وہ شیٹ اور تصویر تھما دی اور کہا کہ یہ نعرہ لگانا شروع کرو:
”ذاکر مجید کو بازیاب کرو، ذاکر مجید کو بازیاب کرو۔“
اُس دن میں نے خوب نعرے لگائے اور ریلی میں بھرپور حصہ لیا۔ لیکن میرے گمان میں یہ نہ تھا کہ سترہ سال بعد بھی وہی سوال میرے سامنے ہوگا:
”ذاکر مجید کہاں ہے؟“
اور وہی ایک نعرہ ہوگا:
”ذاکر جان کو بازیاب کرو۔“
آٹھ سال کے ایک چھوٹے سے بچے سے لے کر تئیس سال کی عمر تک کے اس نوجوانی کے سفر میں بس وہی ایک سوال اور وہی ایک نعرہ میرے سامنے رہا۔
نہ یہ نعرہ لگاتے لگاتے ہم تھکے اور نہ ہی یہ نعرہ سن سن کر سرکاری ادارے تھکے۔
اس طویل عرصے میں ہم نے بہت کچھ دیکھا۔ ہم نے ایک بہن کو اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے ریلیوں سے لے کر ہر اُس سرکاری ادارے کے دروازے تک دستک دیتے دیکھا۔ ہم نے پرزانہ مجید کو پورے پاکستان میں لانگ مارچ کرتے ہوئے، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد تک جاتے ہوئے دیکھا۔
لیکن نہ ذاکر جان کے متعلق کوئی خبر ملی، نہ اُس کی خیریت کی کوئی اطلاع ملی۔
اس کے علاوہ، ہم نے ایک ماں کو دیکھا، جو سالہا سال سڑکوں پر اپنے لال کے لیے روتی رہی۔ اُس عظیم ماں نے کوئٹہ کی برف باری اور سرد راتیں سڑکوں اور پریس کلب میں گزاریں اور سالہا سال اپنے بیٹے کے انتظار میں بیٹھی رہی۔
لیکن آج بھی بس وہی ایک سوال باقی ہے:
ذاکر جان کہاں ہے؟
آخر کب تک ہم یہ سوال کرتے رہیں گے؟
آخر کب اُس عظیم ماں کی ممتا کو سکون ملے گا، جو اپنے لال کے لیے سترہ سال سے تڑپ رہی ہے؟
آخر کب تک ایک بہن اپنے لختِ جگر بھائی کے لیے تڑپتی رہے گی؟
آخر کب تک ہم اس سوال کے جواب کو ڈھونڈتے رہیں گے کہ:
”ذاکر جان کہاں ہے؟“
آخر کب تک؟
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































