اپنے ہی سرزمین پر مہاجرین کی زندگی گزارنے والے بلوچ سیاسی جہدکاروں کو نشانہ بناکر شہید کرنا قابض کی جنگی جرائم ہیں۔ بی ایس او آزاد

31

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے ترجمان شولان بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی آوازوں کو دبانے اور انہیں خاموش کرنے کے لیے قابض پاکستانی ریاست بلوچ جہدکاروں اور ان کے خاندانوں کو نشانہ بناتی آرہی ہے۔ کئی سیاسی جہدکاروں کو جبراً گمشدہ کرکے ان کو نامعلوم ٹارچر سیلوں میں رکھا گیا ہے جبکہ کئی رہنماؤں اور کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی گئی ہیں۔ کئی سیاسی کارکنان کو نشانہ بنا کر انہیں شہید کیا گیا ہے، بلوچستان کو سیاسی آواز سے محروم رکھنے میں حقیقی سیاسی خلاء کو ختم کیا گیا ہے۔ ان مظالم اور جبر کے سائے تلے کئی سیاسی کارکنان مہاجرین کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بہت سے بلوچ سیاسی کارکنان بیرون ملک میں مہاجر بنے ہوئے ہیں جبکہ کئی سیاسی کارکنان اور خاندانیں اپنے ہی سرزمین ایران مقبوضہ بلوچستان میں مہاجرین کی زندگی جی رہے ہیں۔ ان میں کئی اپنے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لیے ہوئے ہیں جو بلوچ قوم کی ایک قدیم روایت ہے۔ قابض پاکستانی ریاست اپنی جارحانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہوکر بلوچ سیاسی کارکنان کو ہمسایہ بلوچ علاقوں میں بھی نشانہ بناتی آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے بلوچ فرزند جو مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کو نشانہ بنانے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں، حالیہ بلوچ نیشنل مومنٹ کے مرکزی سیاسی کارکن ڈاکٹر عبدالرشید ارف نوکاپ کو نشانہ بناکر شہید کرنا قابض کی جارحانہ اور ریاستی دہ شتگری کی کڑی ہے۔ ڈاکٹر عبدلرشید جو قابض کی مظالم سے تنگ ہوکر اپنے رشتہ داروں کے ہاں مہاجرین کی زندگی گزارہا تھا۔ ان کے خاندان کو اجتماعی سزا کا بشانہ بنا کر انہیں ڈرایا دھمکایا گیا تاکہ وہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں سیاسی جدوجہد سے دستبردار رہے۔ مگر انہوں نے اپنی قومی زمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے مہاجرین کی زندگی کو ترجیح دی اور قومی تحریک کا حصہ رہے۔ وہاں پر ہی انہوں نے اپنے پیشے پر عمل کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت کی۔ انہوں نے دور دروز علاقوں جہاں صحت جیسے سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے، وہ ان کی خدمت کے لیے کلینک کھول کر لوگوں کی علاج کررہے تھے۔ وہ سیاسی جہدکار ہونے کے ساتھ طبعی شعبے میں خدمتِ انسان کے ایک مخلص کارکن تھے۔

ترجمان نے کہا کہ اس سے پہلے بھی کئی بلوچ سیاسی کارکنان کو ہمسایہ بلوچ علاقوں میں نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ شم سر کا واقعہ ہمارے سامنے ہے جہاں قابض پاکستانی ریاست نے جنگی طیاروں سے ایک پوری بلوچ خاندان کو نشانہ بنا کر شہید کیا۔ جبکہ دوسری جانب کئی خاندانوں کو اجتماعی سزا دے کر ان کے رشتہ داروں کو شہید کرنے اور ان کے گھروں کو جلانے کی بھی کئی جارحانہ عمل پیش آئے ہیں۔ بلوچستان میں سیاسی ماحول کو ختم کرنے اور سیاسی آوازوں کو دبانے کی کوشش میں قابض کئی سیاسی کارکنان کی شہادت سمیت ہمسایہ بلوچ علاقوں تک بلوچ نسل کشی میں ملوث ہے۔ اپنے ہی سرزمین پر مہاجرین کی زندگی گزارنے والے بلوچ سیاسی جہدکاروں کو نشانہ بناکر شہید کرنا قابض پاکستانی ریاست کی جنگی جرائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ڈاکٹر عبدالرشید بلوچ سمیت تمام ان بلوچ فرنزدوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے قابض کی تمام تر مظالم کے باوجود مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوکر بلوچ قومی تحریک آزادی سے جڑے رہے۔ بلوچستان پر جبری قبضے کے بعد بلوچ قوم اپنے ہی سرزمین پر مہاجرین کی زندگی گزاررہی ہے، عالمی اداروں پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بلوچ مہاجرین کو تسلیم کرکے ان کی حفاظت یقینی بنائی جائے اور قابض پاکستانی ریاست کو جوابدہ کرکے بلوچ نسل کشی کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات لئے جائیں۔