قصہِ جنگ، بیانِ یزدانیت، کہانی فدائی شعبان
تحریر: ہارون بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
رات اپنی گہرائی پکڑ رہی ہے اور میرے سامنے میرے سنگت کی آنکھوں میں موجود وہ حقیقی گہرائی ہے جس نے اسے جیسے نوجوانی میں ہی بزرگ بنا دیا ہے، اس عمر میں عاجز بنا دیا ہے جب وہ نوجوانی کی اپنی انتہا میں ہے۔ یہ جنگ میں ہی ممکن ہے، تحریک اور انقلاب میں ہی ممکن ہے۔ پتا نہیں کیوں کبھی کچھ کردار سے ملاقات کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ چند ساتھیوں میں ان کی سچائی اس حد تک موجود رہتی ہے کہ انہیں دیکھ کر انہیں انتہائی گہرائی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے، ان کی باتوں کو سن کر ان کی کہانی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یزدان کی آنکھوں میں موجود اس حقیقت کو نظر انداز کر دینا کبھی کبھار میرے لیے مشکل رہتا ہے۔ میں اکثر اسے نظر انداز کر دینے کی کوشش کرتا ہوں، کیونکہ سچائی کی گہرائی انسان کو اس کیفیت کا شکار بنا دیتی ہے کہ وہاں سے نکلنا کبھی کبھار مشکل بن جاتا ہے۔
تقریباً ہمیں دو گھنٹے ہو چکے ہیں کہ ہم گاٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں، لیکن ان کے ساتھ بیٹھ کر وقت کب چلا جاتا ہے، اس کا اندازہ نہیں ہوتا، کیونکہ وقت اس وقت سخت لگتا ہے جب وہ بے معنی لگنے لگے، معنی خیز وقت کے لیے گھڑی کو دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی بلکہ اسے زیادہ سے زیادہ جینے کی کوشش ہوتی ہے۔ یزدان کی آنکھوں میں موجود سچائی، باتوں میں موجود حقیقت اور رمضان کے کردار پر جب وہ بات کر رہا ہوتا ہے تو اس کے الفاظ میں معنویت کو نظرانداز کر دینا مشکل بن جاتا ہے۔ اس لیے یہ الفاظ شاید میرے ہوں گے، مگر ان جذبات پر میرا حق نہیں، کیونکہ یہ جذبات میرے سنگت کے ہیں جو انہوں نے ان کے اندر ہمیشہ محسوس کیے ہیں۔
رمضان کی وطن کے ساتھ محبت پر جب وہ بات کر رہا ہوتا ہے تو جیسے اس کا خاموش مزاج ٹوٹ جاتا ہے، عام حالات کی شرمیلاہٹ ختم ہو جاتی ہے، عام حالات کی بے چینی ختم ہو جاتی ہے اور وہ اچانک جذبات سے بھر جاتا ہے۔ اس کی آنکھیں جیسے کھلنا شروع ہو جاتی ہیں، چہرے پر جیسے نور چھا جاتا ہے، کیونکہ یہ کہانی عام انسان سے بڑھ کر وطن و زمین سے محبت، عشق، درد، اذیت اور محنت و سختی کی وہ داستان ہے جو کسی بھی خاموشی کو توڑنے کے لیے کافی ہے۔ میں اسے لکھنے کی کوشش اس لیے کر رہا ہوں کہ میں چاہتا ہوں کہ وطن کے عشق کی یہ کہانی عشقِ زمین تک پہنچ جائے۔ جذبات شاید یزدان کے ہوں، الفاظ شاید میرے ہوں، لیکن اس حقیقت پر حق اس قوم کا ہے جس پر رمضان نے اپنا ہر ذرہ فنا کر دیا تھا، جس پر رمضان اپنی ہر انتہا فنا کرنا چاہتا تھا، جس پر رمضان اپنا سب کچھ دینا چاہتا تھا۔
عشقِ زمین کی ہزاروں داستانوں میں، داستانِ شعبان کو لکھنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ وطن پر مر مٹنے والے یہ کردار اپنے حقیقی لوگوں تک پہنچ جائیں، ان تک جو اس زمین سے محبت کی داستان کو سمجھنا چاہتے ہیں، اس درد اور اذیت کو جینا چاہتے ہیں جسے شعبان جیسے کرداروں نے جیا ہے۔ یہ کہانیاں عشقِ وطن کی وہ انمول کہانیاں ہیں جو بہت کم لوگوں تک پہنچتی ہیں، جو اپنے حقیقی وارثوں تک کم پہنچتی ہیں۔ وطن پر مر مٹنے والے یہ کردار اور کہانیاں بلوچ قومی تاریخ، جدوجہد اور جنگ کی سب سے انمول ترین حقیقت ہیں، جنہیں لکھا نہیں، جینا چاہیے، کیونکہ جنگ میں سب سے بڑی تربیت، حقیقت، علم اور جذبہ قربانی یہی ہے۔
آپ چاہے ہزاروں کتابیں پڑھ لیں، لیکن ان ہزاروں کتابوں میں موجود علم یزدان کی آنکھوں میں موجود سچائی اور حقیقت سے زیادہ بامعنی اور پرمطلب نہیں ہو سکتا جو اس وقت میں محسوس کر رہا ہوں، کیونکہ وہاں ذات اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے، انا ختم ہو چکی ہے، کچھ پانے کا غرض ختم ہو چکا ہے اور بس یہاں وطن زندگی کر رہا ہے، وطن کی کہانیاں، محبت اور سرزمین سے اس عشق کی لازوال کہانیاں۔ ایک سرمچار چند مہینوں میں زندگی جی کر خود کو مکمل سمجھنے لگتا ہے۔ زمین سے لازوال عشق کی آخری شکل یہی ہے۔ ایک سرمچار ایک انسان ہوتا ہے، وہ ایسے ہی خود کو فنا نہیں کر دیتا، بلکہ یہ سنگین پاکیزگی پر مبنی کردار ہیں جو انسان کو غلامی سے آزادی کی انتہا تک پہنچا دیتے ہیں۔
کردار کی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ انہیں بنا دیکھے بھی محسوس کیا جا سکتا ہے، ان سے ایک رشتہ بن جاتا ہے، وہ رشتہ جس کے کوئی عام معنی نہیں ہوتے، یہ ایک کیفیت کے حساب سے انسان سے جڑ جاتا ہے۔ کردارِ شعبان کو سننا، پڑھنا اور لکھنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ یہ داستانیں نسلوں تک قائم رہیں کہ وطنِ بلوچستان کی آزادی میں عاشقِ سرزمین نے کس جذبے، شعور، آگاہی، وطن دوستی، زمین دوستی اور فکرِ اسلم و فکرِ شارل کے ساتھ قربانی دی ہے۔ یہ صرف فدا ہونے والے جسم نہیں، بلکہ یہ زندگی کے وہ احساس ہیں جو انسان کو مکمل کرتے ہیں، معنی دیتے ہیں، محنتی بناتے ہیں، بے غرض بنا دیتے ہیں، زندگی میں فنا کر دیتے ہیں، عاجز بنا دیتے ہیں، اسے خود سے الگ کرکے قوم کا بنا دیتے ہیں۔ جسم ان کا ہوتا ہے، مگر ان کے اندر روحِ جدوجہد، تنظیم، تحریک اور سنگتوں کی رہتی ہے، اور نئے آنے والے ساتھیوں و سنگتوں اور قوم کے نوجوانوں کو جنگ کی حقیقت و جنگ کی سچائی سے آشنا کراتے ہیں، اس کے پیچھے موجود فلسفے سے آگاہ کرا دیتے ہیں۔
جب دنیا حیران و پریشان ہے کہ اتنی کم مدت میں یہ سینکڑوں نوجوان کیسے وطن پر فدا ہو رہے ہیں، جن کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، تو یہ وہی جذبہ، احساس اور زندگی کی پُرمعنیت ہے، جس کا تعلق عشقِ وطن سے اس مقام تک ہے جہاں موت آزادی کا مطلب دیتی ہے، جہاں موت اس دردِ وطن سے وفا کی وہ نشانی اور تصور ہے جہاں پہنچتے ہوئے انسان خود میں اس حد تک مکمل ہو جاتا ہے کہ پھر اس کی زندگی اپنی ذات کھو دیتی ہے، اس کی ذات مکمل طور پر فنا ہو جاتی ہے، وہ صرف وطن کا ہو جاتا ہے، اس کا ہر ذرہ ذرہ وطن کا ہو جاتا ہے۔ یہاں دردِ وطن و عشقِ وطن و فدائے وطن کے لیے کسی کتاب و فلسفے کو پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک سنگت کی آنکھوں میں موجود احساس سے پورا ہو جاتا ہے۔
میں یزدان کے اندر موجود اس کی حقیقت کو ہمیشہ نظرانداز کر دیتا تھا، لیکن آج میں اسے نظرانداز کرنے سے قاصر تھا۔ سردی نے ہمیں اب جکڑ لیا تھا، اب ہمیں تقریباً چار گھنٹے ہو چکے تھے کہ ہم گاٹ پر تعینات تھے۔ مجھے اس وقت آنے والے دشمن سے زیادہ کردارِ شعبان، اس کی مہرِ وطن اور اس کی کہانی زیادہ اپنی طرف کھینچ رہی تھی، جیسے گویا رات کی گہرائی میں چھپے سناٹے میں کوئی اپنی غیر موجودگی میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہو۔ جنگ کے اندر میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ کبھی کبھار کسی کردار سے آشنا ہونے کے لیے ملاقات کی ضرورت نہیں ہوتی، اسے پڑھ کر محسوس کیا جاتا ہے، کسی سنگت کی توسط سے اس کے بارے میں سنتے ہی وہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ کردارِ شعبان بھی انہی میں سے ہے، جسے میں یزدان کی آنکھوں میں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وطن کی اس گہرائی سے محبت میں مبتلا تھا کہ جب کوئٹہ میں وہ آپریشن ہیروف کے دوران موجود تھا اور ساتھیوں کا حکم تھا کہ ہمیں واپس چلے جانا ہے، کیونکہ ہم نے حملے کے سیاسی و جنگی مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔
شعبان وہ آخری انسان تھا، جب انہوں نے شال کو واپسی پر الوداع کر دیا تھا، کیونکہ وہ وہاں شال کو الوداع کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ شال کی وادی میں فنا ہونے کے غرض سے آ چکا تھا۔ اس لیے جب وہ شال پہنچا تو مختلف علاقوں میں سنگت گشت کر رہے تھے، جبکہ کئی جگہوں پر جھڑپیں چل رہی تھیں۔ انہوں نے اس دوران ایک رکشے میں بیٹھ کر شال کی گلیوں میں گھومنے نکل گیا تھا، وہ جنگ کے ان آخری دنوں میں صرف فنا ہونا نہیں چاہتا تھا بلکہ جینا بھی چاہتا تھا۔ پڑھنے میں شاید یہ انتہائی مزاحیہ لگے، کیونکہ عشقِ وطن میں یہ سرمچاری گنوکی کی حدیں پار کر دیتے ہیں۔ وہ شال کی گلیوں کے منظر کو اس حد تک جذب اور محسوس کر رہا تھا جیسے انہیں زندگی میں ہی جنت مل گئی ہو۔
ایک سرمچار کی جنت وطن ہے، اس سے بڑھ کر نہ وہ کچھ سوچتا ہے اور نہ کچھ خیال کرتا ہے۔ اُس کا ایمان و ارمان، خواہش و پسند، ہر چیز وطن کی ہوتی ہے۔ شعبان بھی وطن کا تھا۔ وہ وطن کے لیے ہر انتہا تک پہنچنے کو تیار رہتا تھا۔ یزدان قصہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ میں نے جنگ سے اس حد تک تعلق اور محبت شاید ہی کبھی دیکھی تھی۔ جب بھی دشمن پر کوئی فوجی کارروائی ہوتی تو شعبان کے لیے وہ لمحہ جیسے ایک عید نما ہوتا تھا۔ مکران سے لے کر کوہِ سلیمان تک، وہ ہر جگہ دشمن پر کسی بھی حملے کا سن کر اتنا خوش ہو جاتا جیسے وہ دشمن کے خلاف ہونے والے ہر حملے اور ہر جنگ کو خود جی رہا ہو۔ وہ ہمیشہ ایسی خبریں اور نیوز تلاش کرتا کہ کہاں پر دشمن پر کوئی کاری ضرب لگی ہو۔
شعبان کی جنگ سے محبت کی گہرائی اس خاموش شام کی گہرائی، دور چمکتے ستاروں کی ہلکی سی روشنی اور چاروں اطراف خاموشی کی گہری معنویت میں چند ہلکی آوازوں سے محسوس ہو رہی تھی، جو چرند و پرند کی طرف سے مسلسل آ رہی تھیں۔ اب ہمیں ایک ہلکی سی ٹھنڈی ہوا لگنے لگی تھی، مگر یہ لمحہ اس وقت جیسے اتنا پُرسکون تھا کہ جسمانی تھکاوٹ ہمیں محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ مجھے کہانیاں ہمیشہ پسند رہی ہیں اور اکثر ایسی کہانیاں میرے لیے نہایت پرمعنی رہی ہیں، اس لیے جب وہ داستانِ شعبان بیان کر رہا تھا، مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ یہ شام کب صبح ہونے لگی تھی۔ مگر میں اس وقت پرندوں کی آوازوں سے زیادہ داستانِ شعبان کی گہرائی کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
کیونکہ میں یزدان کو ہمیشہ خاموش مزاج سمجھتا تھا، مگر جب بھی وہ شعبان و ساتھیوں کی گفتگو شروع کر دیتا تو اس کی خاموشی ٹوٹ جاتی۔ وہ اس جذبے سے بات کرنا شروع کر دیتا جیسے وہ انتہائی مجلسی و محفلی سنگت ہو۔ کبھی وہ شال کی ان گلیوں میں رمضان کی بات کرنا شروع کر دیتا، جب وہ ریڈ زون تک دشمن کو تباہ کرنے کے لیے پہنچ جاتا ہے اور ساتھی اہداف کی تکمیل پر انہیں واپس کر دیتے ہیں، جبکہ کبھی وہ بولان کے پہاڑوں پر شعبان اور آفتاب کی داستان شروع کر دیتا کہ شعبان آفتاب کے کردار سے کس حد تک متاثر ہو چکا تھا، کیونکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے آفتاب جیسے خاندان کے نوجوان کو پہاڑوں میں ان سختیوں میں دیکھا تھا، اور اس جنگ کی کہانی شروع کر دیتے جہاں آفتاب شہید ہو جاتا ہے۔
وہ آفتاب کے انتہائی زیادہ قریب تھا، ہمیشہ قصہ کرتا کہ آفتاب کی شہادت پر ان کی آنکھوں میں کئی بار آنسو نکل آتے۔ مجھے پتا نہیں کیوں، مگر یزدان کی زبان تیزی سے بڑبڑانے لگ جاتی ہے، کیونکہ وہ زیادہ سے زیادہ اس کی کہانیاں سنانا چاہتا ہے، جیسے گویا کسی محفل میں پانچ منٹ بات کرنے کی اجازت دی گئی ہو۔ بولان کے پہاڑوں سے نکل کر وہ سیدھا آپریشن ہیروف کی تیاریوں کے سلسلے میں ان کی محنت و مشقت کی باتیں شروع کر دیتا ہے کہ اس ٹٹرتی سردی میں، جب شال کے پہاڑوں کی برف پاؤں کے گھٹنوں تک پہنچ چکی تھی، مگر اس کے پاؤں میں کوئی لرزش، زبان پر کوئی شکوہ، پریشانی کا اظہار یا تکلیف کی کوئی بات نہیں تھی، بلکہ وہ مسلسل اس شدید سردی میں فدائی ساتھیوں کی مڈی برابر کرنے میں لگا رہتا۔ وہ ہمیشہ دشمن پر ایک ایسا حملہ و وار کرنا چاہتا تھا جسے دشمن نسلوں تک یاد رکھے، اسی لیے وہ مسلسل مڈیوں کو برابر کرنے پر اپنا وقت لگا دیتا۔
ہیروف کی تیاریوں کی کہانی کا سلسلہ ختم ہی نہیں ہوتا، جیسے انہوں نے شعبان کے بارے میں کچھ بول دینا بھول گیا ہو، اور پھر وہ آپریشن درہ بولان کی کہانی شروع کر دیتا ہے کہ کیسے شعبان نے مچھ کے تاریخی آپریشن کے لیے خواری برداشت کیں۔ بھوک، پیاس اور تکلیف میں وہ صرف وطن اور دشمن پر بڑے سے بڑے ضرب کی ہی سوچتا رہتا تھا۔ اب سردی جان کو زیادہ پکڑ رہی ہے، صبح کی ٹھنڈی ہوا زیادہ تیز ہو رہی ہے، مگر اس کا احساس ہم دونوں کو نہیں ہو رہا، کیونکہ وہ بولتا جا رہا ہے، کہتا جا رہا ہے، اور میں مسلسل اسے تصوراتی شکل میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے ذہن میں وہ خیالات چل رہے ہیں اور یہ سلسلہ چلتا جا رہا ہے۔
وہ جب بھی کسی واقعے کو بیان کر رہا ہوتا ہے، جیسے انہوں نے ایک اور کہانی بھلا دی ہو، ایک اور قصہ و درد بھول گئے ہوں، اور وہ واپس درہ بولان سے نکل کر اس کی محنت پر بات کرنا شروع کر دیتا ہے کہ رمضان کی موجودگی میں کبھی بھی کسی بھی ساتھی کو کوئی پریشانی کا سامنا نہیں رہتا تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ ساتھیوں کا بار آسان کر دینا چاہتا تھا۔ کوئی بھی تکلیف اور کوئی بھی مشکل ہوتی، وہ اسے خود قبول کر لیتا، لیکن وہ اپنے سنگت کو کسی بھی تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ رمضان کی موجودگی میں وتاک سے لے کر سفر تک جتنی بھی چھوٹی بڑی انتظامی سرگرمیاں ہوتی تھیں، وہ ہمیشہ خود انہیں کرنا شروع کر دیتا، اور ساتھی ہمیشہ اپنے کسی بھی کام کے سلسلے میں بلاجھجھک شعبان کو کہہ دیتے، کیونکہ وہ ہمیشہ ہر وقت ساتھیوں کے لیے کام کرنے کو تیار رہتا تھا۔
ان کی زندگی میں انہوں نے کئی سالوں تک مسلسل پند و خواری دیکھی، مگر وہ اپنے ہر وقت و حالات کو صرف سنگتوں کی نظر میں دیکھتا کہ اس دور میں میں نے اس سنگت کے ساتھ کافی وقت گزارا تھا، اور وہ ایسی پرمعنی زندگی جیتا تھا۔ پھر وہ شہید قدرت اللہ و شعبان کی سنگتی و کہانی شروع کر دیتا ہے کہ وہ بولان کے محاذ سے کوئٹہ کے محاذ تک آخری لمحے کس حد تک ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہتے تھے اور کیسے دونوں وطن کی محبت و عشق میں ہمیشہ فنا ہونا چاہتے تھے۔ چند لمحوں کے لیے جیسے یزدان پھر سے دوسرے ساتھیوں کے خیالات میں غم ہو جاتا ہے کہ بولان سے شال کے محاذ تک انہوں نے کن کن ساتھیوں کو کھو دیا تھا، لیکن چند لمحوں کی خاموشی کے بعد پھر وہ جنگ کی حقیقت کو قبول کر لیتا ہے کہ جنگ میں ساتھیوں کی شہادتیں تحریک اور جدوجہد کا حصہ ہوتی ہیں، اس لیے وہ واپس شعبان پر آ جاتا ہے۔
میں اور یزدان اس سے پہلے جب بھی گاٹ پر بیٹھ جاتے تو ہمیشہ ٹائم دیکھتے کہ کب ٹائم ختم ہوگا اور آرام کرنے چلیں، لیکن آج اس وقت ہم گاٹ ختم ہونے کے ایک گھنٹہ بعد تک بیٹھے رہے تھے اور ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ گاٹ کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ سورج کی کرنیں آہستہ آہستہ اب ہلکی ہلکی روشنائی پیدا کر رہی ہیں، ٹھنڈی ہوا زیادہ جسم کو چھوتی جا رہی ہے، آسمان سے ستارے اب نظر سے اوجھل ہو رہے ہیں، رات کی گہری خاموشی ختم ہوتی جا رہی ہے، مگر یزدان کی نظروں میں موجود گہرائی ہر لمحے کے بعد شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، جیسے وہ مسلسل بات کرنا چاہ رہا ہے، شدت سے آوازیں لگانا چاہتا ہے، اپنے دل میں موجود اس آہ کو نکال باہر کرنا چاہتا ہے جسے وہ شدت کے ساتھ محسوس کر رہا ہے، جس نے اس کے دل میں ایک جستجو و ولولہ پیدا کر دیا ہے، لیکن حالات و مقام ان دونوں کی اجازت دینے سے قاصر ہیں۔
کیونکہ جدائی کا وہی درد جو شعبان اپنے ساتھیوں کو یاد کرکے ہمیشہ محسوس کرتا تھا، اب وہی درد اور اذیت یزدان محسوس کر رہا ہے۔ انقلاب میں ہم ہمیشہ سنتے تھے کہ جسم جدا ہوتے ہیں، مگر سینکڑوں جہدکار اور انقلابی ایک ہی احساس، ایک ہی جذبے اور ایک ہی خیال کو جیتے ہیں۔ جیسے اس وقت میں یزدان کی شکل میں رمضان کو جی رہا تھا، اسے محسوس کر رہا تھا، اس کی محنت، عشقِ وطن اور زمین دوستی کا اندازہ لگا رہا تھا۔ گویا اس وقت میرے سامنے یزدان کی شکل میں وہ سینکڑوں کردار جنگی، انقلابی، تحریکی اور وطن پرستی کی کہانیاں سنا رہے ہیں، انقلاب کی باتیں کر رہے ہیں، جنگ کی باتیں کر رہے ہیں اور انقلاب کو معنی دے رہے ہیں۔
انقلابی کہانیوں کی ایک خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ یہ اس حد تک جذبات سے بھرے ہوتے ہیں کہ جب وہ شروع ہوتے ہیں تو ان کا کوئی اختتام نہیں ہوتا اور ہر سنگت سے دوسرے سنگت تک یہ کہانیاں چلتی جاتی ہیں۔ یزدان کی باتوں میں بھی کوئی ربط نہیں تھا، کوئی منظم طریقہ کار موجود نہیں تھا، بس انقلابی جذبات تھے، اور وہ کبھی جذبات سے بھرے انداز میں تو کبھی ایک گہری کیفیت کے ساتھ ان کا بیان شروع کر دیتا۔ ان کی کہانیوں کا دائرہ بھی ایک جہدکار تک محدود نہیں ہوتا، اور جب بھی رمضان کا ذکر کرتے ہوئے اس کے سامنے کوئی نیا کردار آ جاتا تو وہ ایک لمحے کے لیے اسے خیال کرنا شروع کر دیتا، ایک نئے ساتھی و سنگت کی یادیں اس کے سامنے آ جاتیں۔
جیسے شعبان پر بات کرتے کرتے وہ اوسامہ پر آ جاتا کہ کیسے انہوں نے کوئٹہ کے مقام پر تنِ تنہا زراعت کے مقام پر دشمن کی بکتر بند گاڑیوں کا مقابلہ کیا تھا، اور کیسے انہوں نے اکیلے کئی گھنٹوں تک دشمن فوج سے مقابلہ کیا، اور کیسے اوسامہ اپنی قوم کو یاد کرتے ہوئے سیدھا اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے، اور وہ کیسے ان کے درد اور تکلیف کو اپنے دل میں محسوس کرتا۔ اوسامہ کی کہانیاں کرتے کرتے اچانک یزدان کو یاد آ جاتا ہے کہ وہ شعبان پر بات کر رہا تھا، اس کے عشقِ وطن و دردِ وطن کی کہانیاں سنا رہا تھا، مگر میں خاموش اسے محسوس کر رہا تھا اور اس کی باتوں میں موجود گھبراہٹ کی وجہ بھی محسوس کر رہا تھا، کیونکہ وہ کسی بھی انقلابی ساتھی، انقلابی سنگت اور جہدکار کو بھولنا نہیں چاہتا، جیسے گویا وہ ہر کسی کے بارے میں بتانا چاہتا تھا کہ وطن کے لیے یہ کتنے درد اور اذیتیں برداشت کرتے ہیں، وطن کو کتنا جیتے ہیں، وطن کے لیے کیا کیا درد اور اذیت برداشت کرتے ہیں۔
اس کی آنکھوں میں موجود بے چینی کی وجہ آج مجھے بالکل سمجھ آ رہی تھی۔ وہ بے چینی ان کہانیوں کو بتانے کی شکل میں اس کے دل میں زخم کی طرح موجود تھی۔ جب بھی ہم ایک ساتھ بیٹھ جاتے تو وہ مسلسل انہی کی کہانیوں کا ذکر کرتا، انہی کی باتیں بتانا شروع کر دیتا، انہی کی زندگیاں بیان کرنا شروع کر دیتا، جیسے کوئی بوجھ اس کے دل میں رہ گیا ہو۔ مگر جب بھی وہ بیان کرنا شروع کر دیتا تو اس کے دل میں بیٹھا بوجھ ہلکا محسوس ہونے لگتا، جیسے وہ قوم تک، سنگتوں تک، لوگوں تک ان عاشقانِ وطن کی کہانیاں پہنچانے کا بے انتہا جنون رکھتا ہو۔ زیادہ باتیں کرنا اس کے مزاج کے برخلاف تھا، مگر جب بھی شہیدوں کا ذکر ہوتا، جہدکاروں کی خواری و درد کا ذکر ہوتا، قوم سے محبت کی انتہا کا ذکر ہوتا تو اس کی آنکھیں کھل جاتیں اور وہ بے وقت و بلا روک ٹوک گھنٹوں تک ان جہدکاروں پر بات کرتا۔
اب سورج مکمل طور پر اپنی کرنیں ظاہر کر رہا تھا، چرندوں کی آوازیں گم ہو چکی تھیں اور روشنی ظاہر ہو رہی تھی۔ اب آسمان سے ستارے جیسے غائب ہو چکے تھے۔ ہمارے سامنے موجود چند درختوں کی شاخوں پر صبح نئے نئے شانتل جاگ رہے تھے، اور حالات ہمیں بھی زیادہ سننے، کہنے، بتانے اور اظہار کا موقع دینے پر راضی نہیں تھے، اس لیے ہم نے بھی یہیں سے اختتام کرنا تھا۔ مگر یہ شعبان کے اختتام کا مقام نہیں، بلکہ اس انقلاب کے تسلسل کو آگے بڑھانے کا زیادہ عزم کے ساتھ سورج نہیں بلکہ انقلاب جیسے ایک نئے ظہور میں سامنے ابھرنے کا مقام ہے۔ یہ وطن سے عشق کی وہ کہانی ہے جس پر آئے دن کوئی نہ کوئی نوجوان خود کو خوشی خوشی فدا کر دیتا ہے۔ یہ داستان صرف شعبان کی نہیں، بلکہ ان سینکڑوں وطن زادوں کی ہے جو وطن سے بے غرض و بے مطلب عشق کی اس گہرائی کو جیتے ہیں اور گمنامی میں شہادت قبول کر لیتے ہیں، جو شاید اپنی زندگی کے بدلے وطن و تحریک سے ایک ہلکی خواہش کا اظہار بھی نہیں کرتے، بلکہ وہ بس خود کو مسلسل فنا کرتے جاتے ہیں۔
یہ شام نہ اولین تھی، نہ آخری، کیونکہ انقلاب کے اس سفر میں جب سے میں نے قدم رکھا ہے، مجھے اس عشقِ وطن و سرزمین سے محبت کی ایسی داستان کا کوئی اختتام نظر نہیں آ رہا، بلکہ یہ ایسے ہی ہر دن، ہر لمحے اور ہر گھنٹے کے ساتھ بڑھتا جائے گا، کیونکہ یہاں شعبان مرنے کے لیے فنا نہیں ہوتے، بلکہ ان انقلابی فکر و شعور کی صورت میں زندہ رہنے کے لیے جسمانی موت کا انتخاب کرتے ہیں، جہاں انقلاب مزید شدت کے ساتھ ظہور پذیر ہو جاتا ہے، مزید شعبان پیدا ہوتے ہیں، مزید قدرت اللہ جنم لیتے ہیں جو وطن کے لیے ہر انتہا کو پار کرنے کو تیار رہتے ہیں، ایسے سگاری ورنا پیدا ہوتے ہیں جو صرف سوچ سے نہیں بلکہ روح سے انقلاب کا ہوتے ہیں اور انقلاب کو زندگی کرتے ہیں۔
میں اسے کسی اختتامی نوٹ کے ساتھ ختم نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ داستانِ شعبان و عظیم جہدکاروں کا کردار اختتام کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ وہ انسانوں کی، نسلوں کی، سوچ اور خیالوں کی تشکیل کا عمل ہوتا ہے۔ ایک جاتا ہے، اپنی پاکیزگی سے دیگر پانچ کو جنم دیتا ہے، اور یہ تسلسل آزادی کے سورج کے طلوع تک ایسے ہی چلتا رہے گا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































