عالم کا کردار اور تاریخ کا فیصلہ – کماش بلوچ

29

عالم کا کردار اور تاریخ کا فیصلہ

تحریر: استاد کماش بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

جب حق، آزادی اور بلوچ قوم کے مستقبل کا سوال ہو تو پھر کوئی شخص ’’عالم‘‘ کے لقب کے پیچھے نہیں چھپ سکتا۔ ایسے ہی وقت میں آزاد عالم اور درباری عالم کے درمیان فرق کھل کر سامنے آتا ہے؛ ایک عوام کے ساتھ کھڑا ہو کر قیمت ادا کرتا ہے، جبکہ دوسرا اقتدار کے سامنے سر جھکا کر ظلم کے لیے جواز تراشتا ہے۔

مولوی عبدالخالق، مولوی عمران اور مولوی شاہ جی، معروف بہ سبغت اللہ کے نام بلوچ قوم کے لیے استقامت اور جرأت کی علامت ہیں۔ مولوی شاہ جی، معروف بہ سبغت اللہ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ہمراہ پاکستانی جیلوں میں قید ہیں؛ ایسے لوگ جنہوں نے اپنی ذاتی آسائش اور آزادی کے بجائے عوام کی آزادی اور عزت کو ترجیح دی۔

دوسری طرف درباری علماء موجود ہیں؛ وہ لوگ جنہوں نے عمامے کو حق کی حفاظت کے بجائے اقتدار کے قریب جانے کا ذریعہ بنا لیا اور منبر کو مظلوم کی آواز بننے کے بجائے طاقتوروں کے ظلم کا جواز پیش کرنے کا پلیٹ فارم بنا دیا۔

جو عالم ظلم دیکھ کر خاموش رہے، مظلوم کی آواز سن کر منہ موڑ لے اور حق کو مفاد اور منصب کے بدلے بیچ دے، وہ صرف ’’عالم‘‘ کا لقب استعمال کرکے اپنے کردار کو پاک نہیں کر سکتا۔

عمامہ سوال اور تنقید سے بالاتر ہونے کا لائسنس نہیں؛ منبر اقتدار کے لیے سفید چیک نہیں؛ اور ’’عالم‘‘ کا لقب ظلم کے سامنے خاموشی کو مقدس نہیں بنا سکتا۔

آج ممکن ہے کچھ لوگ اقتدار، منصب اور طاقت کے سہارے بلند آواز میں بولیں، لیکن تاریخ کی آواز ان سب سے بلند ہوگی۔ تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ مشکل وقت میں کون عوام کے ساتھ کھڑا تھا اور کون اپنے منصب کی حفاظت کے لیے حقیقت سے منہ موڑ گیا۔

آزادی پسندوں کو میدانِ عمل اور جیلوں میں دیکھا جا سکتا ہے؛ وہ لوگ جو اپنے عقیدے اور اپنے مؤقف کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اب درباری علماء کو دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ کون عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور کون اقتدار کے ساتھ۔

جب تاریخ کے اوراق پلٹیں گے تو عوام ہر منبر اور ہر عمامے سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ تم نے کیا کہا تھا؛ وہ پوچھیں گے: سخت ترین دنوں میں تم نے کیا کیا تھا؟

اس دن ان لوگوں کے درمیان فرق چھپانا ممکن نہیں ہوگا جنہوں نے عوام کے لیے قیمت ادا کی اور ان لوگوں کے درمیان جنہوں نے اقتدار کے لیے خاموشی اختیار کی۔

بلوچ قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی؛ نہ ان لوگوں کو جنہوں نے میدان اور جیل میں استقامت کی قیمت ادا کی، اور نہ ان لوگوں کو جنہوں نے اقتدار کے سائے میں بیٹھ کر اپنے منصب اور مفاد کے بدلے اپنی خاموشی فروخت کی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔