بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ قومی جنگِ آزادی میں قوم اور وطن کے دفاع کے لیے لڑتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے اپنے ساتھی سرمچاروں شہید کپٹن اختر داؤد، خلیل احمد، عمران آجو، حاصل، عنایت اللہ، اسد رحیم، مجیب الرحمان، ساحل ارمان، جاوید اور محمد یونس کو سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ شہید ساتھیوں نے خون کے آخری قطرے تک قومی جدوجہد سے منسلک رہتے ہوئے اپنا قومی فرض ادا کیا اور دشمن کو یہ واضح پیغام دیا کہ بلوچ قوم اپنی قومی آزادی، بقا اور شناخت کے لیے بغیر کسی سمجھوتے کے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید کپٹن اختر داؤد عرف علی شیر ولد اسد ساجدی، سکنہ پیراندر آواران نے نومبر 2011 میں بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کر کے بلوچ قومی جنگِ آزادی میں باقاعدہ حصہ لیا۔ باقاعدہ عسکری محاذ پر منتقل ہونے سے قبل آپ نے تنظیمی صفوں میں فکری و سیاسی تربیت حاصل کر کے تحریک کے بنیادی مقاصد کو گہرائی سے سمجھا۔ اس کے بعد آپ غیر معمولی عزم، جذبے اور استقامت کے ساتھ پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے اور دمِ آخر تک قومی آزادی کے مقدس مشن سے وابستہ رہے۔ شہید کپٹن اختر داؤد تنظیم کے دیرینہ، انتہائی جفاکش اور مخلص ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، جن کی عسکری و قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت تنظیم نے انہیں کپٹن کے ذمہ دارانہ رینک پر فائز کیا تھا۔ آپ نے آواران، جھاؤ، مشکے، گچک اور واشک کے انتہائی سخت و دشوار گزار محاذوں پر تنظیمی فرائض انتہائی تندہی سے نبھائے، گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ حاصل کیا اور نال جیسے آپریشن میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ ایک نڈر، محنتی اور فکری سرمچار تھے، جنہوں نے ہر مشکل محاذ پر ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے تنظیم کو فعال رکھا اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ساتھیوں کی عسکری و نظریاتی تربیت کی۔ شہید کپٹن اختر داؤد کے بھائی، سیکنڈ لیفٹیننٹ امتیاز بلوچ عرف کامریڈ بھی تنظیم کے ایک جفاکش سرمچار تھے، جو 11 جولائی 2019 کو قابض فوج کے ساتھ بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ شہید کپٹن اختر 2 اگست 2026 کو آوارن کے علاقے بیدی میں ریاستی مخبر کے گرفتاری کے سلسلے میں تنظیم کے مشن پر تھے جہاں پہلے سے مورچہ بند مسلح قومی مجرموں نے سرمچاروں پر حملہ کردیا جس میں کپٹن اختر شہید ہوگئے۔ مذکورہ قومی مجرم کے متعلق ایک تفصیلی بیان جاری کیا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ شہید خلیل احمد عرف استاد اویس ولد شیر احمد، سکنہ دشت پنگوہ ایک سال قبل بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شامل ہو کر مسلح جدوجہد کا حصہ بنے۔ شہید خلیل احمد خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے۔ تنظیم نے انہیں ٹریننگ ماسٹر کی ذمہ داری سونپی تھی۔ بطور ٹریننگ ماسٹر آپ نے کیمپ میں ضرورت کے مطابق سرمچاروں کی عسکری تربیت کی ذمہ داریاں سرانجام دیں، جس کے باعث آپ استاد کے نام سے جانے جاتے تھے۔ بلوچ قومی جدوجہد اور تنظیم کو مزید متحرک و فعال بنانے کے لیے آپ نے ناگاؤ سمیت مختلف محاذوں پر قومی خدمات سرانجام دیں اور اہم جنگی آپریشنز میں دشمن کو شکست سے دوچار کرتے رہے۔ 14 اگست 2026 کو آپ اور شہید عمران عرف آجو دیگر سرمچاروں کے ساتھ تنظیمی گشت پر تھے کہ کوئٹہ کے علاقے ڈغاری میں ان کا سامنا قابض پاکستانی فوج سے ہوا، جو سادہ گاڑیوں اور عام لباس میں ملبوس تھی۔ دشمن فوج نے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی تو سرمچاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن پر حملہ کر دیا۔ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی جھڑپ میں شہید خلیل احمد اور شہید عمران آجو نے مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کو روکے رکھا اور ساتھی سرمچاروں کو نکلنے کا راستہ فراہم کر کے بہادری و جوانمردی سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس جھڑپ میں دشمن کے 5 سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ شہید عمران عرف آجو ولد سیف اللہ، سکنہ کلی شاہنواز سریاب کوئٹہ گزشتہ دو سالوں سے بلوچ قومی جنگِ آزادی میں بلوچستان لبریشن فرنٹ سے منسلک تھے۔ آپ حافظِ قرآن اور ایک باشعور انسان تھے۔ عمر میں چھوٹے ہونے کے باوجود آپ تمام دوستوں کے لیے ہمت اور حوصلے کی اعلیٰ مثال تھے۔ جہاں کہیں بھی تنظیم کو آپ کی ضرورت ہوتی، آپ وہاں قومی ذمہ داریاں سرانجام دینے پہنچ جاتے۔ اسی طرح آپ نے ناگاؤ، ماران، کچھی اور کوئٹہ کے محاذوں پر قومی خدمات سرانجام دیں۔ آپ نے اپنے مثالی کردار سے قومی جدوجہدِ آزادی میں نمایاں ذمہ داریاں نبھائیں۔ 14 اگست 2026 کو آپ ساتھی سرمچاروں کے ساتھ کوئٹہ کے علاقے ڈغاری میں تنظیمی گشت پر تھے کہ پاکستانی فوج کے کارندے سادہ گاڑیوں اور عام لباس میں سامنے آئے اور جھڑپ شروع ہو گئی جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ عمران عرف آجو جان اور خلیل احمد عرف استاد اویس دیگر دوستوں کو باحفاظت نکالنے کے لیے دشمن کے سامنے پہاڑ کی طرح ڈٹے رہے۔ اسی دوران استاد اویس شہید ہو گئے اور آجو جان شدید زخمی ہوئے، لیکن آپ نے زخموں کی پروا نہ کرتے ہوئے دشمن پر وار جاری رکھا اور باقی سرمچاروں کو باحفاظت نکلنے میں مدد دی۔ آپ ایک گھنٹے تک لڑتے رہے اور آخری سانس تک دشمن کے سامنے ڈٹے رہے۔ بلوچ قومی تحریکِ آزادی قربانی اور بہادری کی اعلیٰ مثالوں سے بھری پڑی ہے، لیکن آجو جان نے کم عمری میں ایک ایسی نئی تاریخ رقم کر دی جو آنے والی نسلوں کے لیے ہمت اور حوصلے کی قابلِ رشک و قابلِ فخر مثال ہے۔
ترجمان نے کہا کہ شہید حاصل عرف منیر احمد ولد شیر محمد، سکنہ لنجار نے سال 2025 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کا آغاز کیا۔ آپ ایک انتہائی مخلص، جفاکش، نڈر اور نظم و ضبط کے پابند سرمچار تھے۔ آپ نے جھاؤ، نال اور آواران کے دشوار گزار محاذوں پر گوریلا جنگ کے دوران مختلف عسکری و تنظیمی امور سرانجام دیے۔ آپ نے ہر تنظیمی ذمہ داری کو انتہائی تندہی سے پورا کیا اور اپنے اخلاق، محنت اور انقلابی جذبے کی بدولت تنظیمی صفوں میں اپنے ساتھیوں کے درمیان ایک محترم مقام حاصل کیا۔ 9 اگست 2026 کو وادیِ جھاؤ میں بی ایل ایف کے سرمچار معمول کے گشت پر تھے کہ میرانی کور کے مقام پر مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس جھڑپ کے دوران بی ایل ایف کے جانباز سرمچار شہید حاصل نے بہادری کا اعلیٰ مظاہرہ کرتے ہوئے دلیری سے مقابلہ کیا اور جامِ شہادت نوش کیا۔ شہید حاصل کی جرأت و دلیری نے باقی سرمچاروں کو مضبوط پوزیشن لینے کا موقع فراہم کیا، جس سے سرمچاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ کے متعدد اہلکاروں کو ہلاک کر دیا اور ان کے ہتھیار بھی ضبط کر لیے۔
انہوں نے کہا کہ شہید عنایت اللہ عرف شیر زمان ولد منظور احمد، سکنہ سبری ڈھاڈر رواں سال تنظیم میں شامل ہوئے۔ آپ ایک انتہائی بہادر اور جفاکش سرمچار تھے۔ اس مختصر عرصے میں آپ نے پہلے شہری ذمہ داریاں سرانجام دیں اور پھر تنظیمی فیصلے پر پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے۔ اس قلیل مدّت میں آپ نے اہم جنگی آپریشنز میں حصہ لے کر دشمن کو جانی و مالی نقصان سے دوچار کیا۔ آپ نے بولان، کابو، ماران اور دشت کے محاذوں پر اپنی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ آپ 22 جولائی 2026 کو مستونگ کے جنگی محاذ پر دشمن کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہو کر بلوچ قومی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔
شہید اسد رحیم ولد رحیم بخش سال 2017 سے تنظیم میں باقاعدہ شامل ہو کر شہری محاذ پر مسلح کارروائیوں اور انٹیلی جنس کی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہے۔ آپ قابض پاکستان نیوی کے ملازم رہ کر صدیق ایئربیس سے اہم معلومات اکٹھی کر کے تنظیم کو فراہم کرتے رہے۔ دشمن کی نظر میں آنے کے بعد 13 جون 2026 کو آپ کو شہری محاذ سے پہاڑی محاذ پر منتقل کر دیا گیا۔ 15 جولائی 2026 کو دشت بلنگور میں دلسر کے مقام پر دشمن فوج نے سرمچاروں کا محاصرہ کر لیا۔ آپ نے پہلی صف میں لڑتے ہوئے دشمن پر جوابی حملہ کیا، جس سے محاصرہ کمزور ہوا اور ساتھیوں کو نکلنے کے لیے کور فراہم کرتے ہوئے آپ بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ آپ گوریلا حکمتِ عملی سے واقف ایک دلیر اور باشعور سرمچار تھے۔ صدیق ایئربیس جیسے حساس مقام پر رہتے ہوئے آپ نے دشمن کے بارے میں تنظیم کو انتہائی اہم معلومات فراہم کیں۔ ایک دہائی تک دشمن کے قریب رہتے ہوئے قومی جنگ میں خدمات سرانجام دینا آپ کی گوریلا صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
شہید مجیب الرحمان عرف شے مرید ولد سعید احمد تین سال قبل شہید میجر ماما چاکر کی زیرِ کمان تنظیم کے شہری نیٹ ورک میں شامل ہوئے۔ آپ تنظیمی کاموں کے سلسلے میں ہمہ وقت فعال اور آمادہ رہتے تھے۔ لاجسٹک ضروریات ہوں یا عسکری ذمہ داری، آپ مخلصانہ اور خوش اسلوبی سے اپنی تمام ذمہ داریاں سرانجام دیتے تھے۔ تنظیمی فیصلے کے تحت آپ فروری 2026 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے۔ اس مختصر عرصے میں آپ نے کھڈ کوچہ، مستونگ، زہری، شور، بارکھان، منگچر اور قلات کے محاذوں پر قومی خدمات سرانجام دیتے ہوئے دشمن فوج کو ایسی کاری ضربیں لگائیں جو اسے عرصے تک یاد رہیں گی۔ آپ رہنمائی کی صلاحیت سے سرشار سرمچار تھے۔ اسی قابلیت کی بدولت آپ کو ایک کیمپ کی ذمہ داری بھی سپرد کی گئی تھی جسے شہادت تک آپ مستقل مزاجی سے نبھاتے رہے۔ آپ 19 مئی 2026 کو دشمن کے ساتھ جھڑپ میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔
شہید ساحل عرف ارمان ولد پیرل، سکنہ کیساک نے 29 نومبر 2025 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ عسکری تربیت کے دوران آپ نے تنظیمی ڈسپلن، فکری پختگی اور جنگی اصولوں کی بنیادی واقفیت حاصل کی، جس کے بعد آپ اپنے مضبوط عزم کے ساتھ باقاعدہ محاذ پر منتقل ہو گئے۔ آپ ایک انتہائی مخلص، جفاکش، نڈر اور محنتی سرمچار تھے۔ اس مختصر عرصے میں آپ نے بلوچستان کے دشوار گزار محاذوں پر گوریلا جنگ کے دوران مختلف عسکری و قومی خدمات سرانجام دیں اور ہر تنظیمی ذمہ داری کو مخلصی کے ساتھ پورا کیا۔ آپ ہمہ وقت قومی فرائض کی انجام دہی میں مصروف رہتے تھے اور آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ قوم کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ آپ شہادت تک انہی قومی اصولوں پر قائم رہے۔
شہید جاوید عرف مرشد 2013 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شامل ہو کر بلوچ قومی جدوجہدِ آزادی کا باقاعدہ حصہ بنے۔ آپ نے عسکری تربیت حاصل کرنے کے بعد بالگتر اور اس کے اطراف کے محاذوں پر قومی ذمہ داریاں سرانجام دیتے ہوئے قابض دشمن کو کاری ضربیں لگائیں۔ دشمن فوج کے خلاف مختلف معرکوں میں شہید جاوید عرف مرشد نے صفِ اول میں رہتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔ آپ ایک متحرک سرمچار تھے جو اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی واقف تھے اور بروقت اپنے تنظیمی امور کو احسن طریقے سے سرانجام دیتے تھے۔ بالگتر میں تنظیمی فرائض کی انجام دہی کے دوران آپ شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔
شہید محمد یونس عرف طالب ولد محمد عمر، سکنہ کلی چوتو مستونگ کے رہائشی تھے۔ آپ بطور شہری گوریلا شہید میجر چاکر کی کمان میں قومی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ آپ ایک نہایت بہادر، جفاکش اور مخلص ساتھی تھے۔ شہری گوریلا حکمتِ عملی کے تحت آپ دشمن کی نقل و حرکت اور حربی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتے اور انتہائی محتاط انداز میں دشمن فوج کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیتے رہے۔ تاہم، شہری گوریلا حکمتِ عملی کے اصولوں کے تحت آپ نے کبھی اپنی شناخت ظاہر نہیں ہونے دی۔ آپ شہید شے مرید کے ساتھ مختلف محاذوں پر سرگرم رہے اور دشمن فوج اور اس کے آلہ کار مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں کے خلاف اہم عسکری کارروائیوں میں شریک رہے۔ اگست 2025 میں آپ مستونگ کے علاقے چوتو کے مقام پر دشمن کے ساتھ براہِ راست جھڑپ کے دوران شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے۔ مذکورہ جھڑپ ایس ایچ او پر حملے کے دوران پیش آئی، جس میں ایس ایچ او سمیت اس کے چار اہلکار ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں موقع پر پہنچنے والی فوجی کمک کے ساتھ بھی جھڑپ جاری رہی، جس میں فوج کے متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ بلوچ قومی جنگِ آزادی کے سفر میں شہید ہونے والے تمام ساتھیوں کو سلام اور خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ شہدا کی قربانیاں ہمارے لیے قومی شناخت، بقا اور ایک زندہ قوم ہونے کی دلیل ہیں۔ شہدا کے مشن کو بلوچ قومی آزادی کے حصول تک جاری رکھا جائے گا۔













































