سابق اسپیکر پاکستان اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے 98 فیصد حصے پر حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، روزانہ کی بنیاد پر شاہراہوں پر حملے اور فورسز کے جوان ہلاک ہو رہے ہیں۔ ایک طرف ریاست دعویٰ کرتی ہے کہ ہم نے اتنے دہشتگرد مار دیئے، مگر بلوچستان میں گزشتہ روز ہونے والے دہشتگردی کے واقعات صورتحال کی سنگینی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ زیارت کراس پر فوجی گاڑیوں کے کانوائے پر حملے میں گاڑیوں اور ٹرکوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں 15 سے اہلکار اپنی جانوں سے گئے۔ بھاگ شہر میں مسلح افراد کے دھاوے میں تھانے، بینکوں اور سرکاری عمارات کو نذرِ آتش کر دیا گیا، جبکہ نصیرآباد اور لورالائی میں گھر پر ڈرون طیارہ گرا۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں مسلح افراد کھلے عام نقل و حرکت کر رہے ہیں اور فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔ جب فورسز اپنے آپ کو نہیں بچا پا رہی تو عوام کو کیسے بچائے گی۔
قاسم سوری نے کہا کہ بلوچستان اس وقت بدترین دہشتگردی کی زد میں ہے، معاشی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں، کاروبارِ زندگی ختم ہو چکا ہے، تجارتی سامان کوئٹہ تک پہنچ نہیں سکتا اور راستے میں لوٹ لیا جاتا ہے، مال سمیت ٹرکوں کو جلا دیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں خوف کی فضا ہے۔ جس بلوچستان کو یہ ایک ایس ایچ او کی مار کہتے تھے اور کہتے تھے کہ 1500 لوگ ہیں، ہم ان کی نسلیں تباہ کر دیں گے، وہاں پر الٹا فورسز کے جوان اپنی زندگیاں کھوتے جا رہے ہیں۔













































