دُرّک جان ایک دوست، ایک رہنما، ایک ناقابلِ فراموش یاد – احسان بلوچ

79

دُرّک جان ایک دوست، ایک رہنما، ایک ناقابلِ فراموش یاد

تحریر: احسان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کچھ لوگ ہماری زندگی میں آتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ہماری یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہماری زندگی سے رخصت ہو کر بھی ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ دُرّک جان بھی میرے لیے ایسے ہی لوگوں میں سے ایک تھا۔ آج جب میں اس کے بارے میں لکھنے بیٹھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی شخصیت، اس کی قربانیوں اور اس کے ساتھ گزرا ہوا وقت بیان کرنے کے لیے میرے الفاظ بہت کم ہیں۔ دُرّک جان نے اپنی زندگی کی بہت سی خواہشیں اپنی مادرِ وطن کی آزادی کے لیے قربان کر دیں اور اسی جدوجہد کے دوران دشمن کے ساتھ ایک جنگ میں شہید ہوا۔ لیکن میرے لیے دُرّک صرف ایک شہید کا نام نہیں تھا۔ وہ ایک ایسا دوست تھا جس کے ساتھ میری زندگی کے کئی قیمتی لمحات، سفر، گفتگوئیں اور یادیں وابستہ ہیں

میری اور دُرّک جان کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب میری تربیت مکمل ہوئی اور مجھے گشت کرنے والی ٹیم کے ساتھ روانہ کیا گیا۔ وہیں پہلی بار دُرّک سے ملاقات ہوئی۔ سلام دعا کے بعد ہم دونوں اس طرح باتوں میں گھل مل گئے جیسے ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہوں۔ وقت کے ساتھ ہماری دوستی مزید گہری ہوتی گئی۔ ہم نے کئی سفر ایک ساتھ کیے اور مختلف تنظیمی کاموں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔ دُرّک ایک سینئر ساتھی کی حیثیت سے ہر وقت ہمیں کچھ نہ کچھ سکھاتا رہتا تھا۔ اس کے اندر سیکھنے اور دوسروں کو سکھانے کا ایک خاص جذبہ تھا۔ مجھے اس کے ساتھ سفر کرنے اور کام کرنے میں ہمیشہ خوشی محسوس ہوتی، کیونکہ وہ نئے طریقوں اور نئی حکمتِ عملی کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ اس کی گفتگو میں تجربہ بھی تھا اور دوسروں کے لیے خیرخواہی بھی ایک مرتبہ کسی تنظیمی سفر کے دوران ہم دونوں ایک دریا کے قریب رکے۔ ہم کافی بھوکے تھے، اس لیے سفر کے لیے ساتھ رکھے ہوئے کچھ کیک اور بسکٹ کھائے اور ہاتھ منہ دھویا۔ اسی دوران میں نے دُرّک سے کہا: “یار، نہ میں آپ کو شہری زندگی میں جانتا تھا اور نہ آپ مجھے۔ آج دیکھو، میں اور آپ ایک ساتھ سفر کر رہے ہیں اور ایک دوسرے پر کتنا بھروسہ ہے۔ دُرّک نے جواب دیا یار، بس یہی تو اس آزادی کی جدوجہد کی خوبصورتی ہے۔ انہی شہیدوں کی قربانیاں ہیں کہ آج میں اور آپ اس جدوجہد کا حصہ ہیں اور ایک ساتھ ایک مقصد کے لیے چل رہے ہیں۔ اس کا یہ جواب آج بھی میرے دل میں محفوظ ہے۔ شاید اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایک عام سی گفتگو مستقبل میں میرے لیے اتنی گہری یاد بن جائے گی۔ دُرّک سے ایک بات میں نے ہمیشہ محسوس کی کہ وہ مشکل اور غیر یقینی حالات میں بھی دوستوں کو ہنسانے کی کوشش کرتا تھا۔ وہ اکثر کہتا کہ زندگی میں کسی کو معلوم نہیں کہ کون سا دوست کب اور کہاں جدا ہو جائے، شاید اسی لیے وہ چاہتا تھا کہ جب تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں خوش رہیں، ہنسیں اور ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا کریں۔

کچھ عرصے بعد حالات اور ذمہ داریوں کی وجہ سے ہمیں الگ الگ کیمپوں کی طرف روانہ ہونا پڑا۔ میں اپنی ذمہ داریوں میں مصروف ہوگیا اور دُرّک بھی اپنے کام میں مشغول رہا۔ کافی عرصے تک ہماری ملاقات نہ ہو سکی، لیکن جب بھی وہ نیٹ ورک کی حدود میں آتا تو لازما رابطہ کرتا، میرا حال پوچھتا اور دوسرے دوستوں کا بھی حال چال معلوم کرتا۔ یہی اس کی شخصیت کا خوبصورت پہلو تھا کہ فاصلے اور مصروفیات کے باوجود وہ اپنے دوستوں کو نہیں بھولتا تھا۔ میں نے دُرّک سے بہت سی چیزیں سیکھیں۔ اس کی باتیں، نصیحتیں اور اس کا طرزِ زندگی آج بھی میرے لیے قیمتی ہیں۔ کچھ لوگ ہمیں کتابوں سے زیادہ اپنی زندگی اور کردار سے سکھاتے ہیں دُرّک بھی میرے لیے ایسا ہی ایک شخص تھا۔

کافی عرصے بعد ایک سفر کے دوران ہمیں دُرّک جان کے کیمپ کی طرف جانا پڑا۔ چاندنی رات تھی جب ہمارا سفر شروع ہوا کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد ایک ٹھنڈی اور روشن صبح طلوع ہوئی اور تقریبا آٹھ سے نو گھنٹے بعد ہم دُرّک کے کیمپ تک پہنچے۔ کیمپ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے میری نظر دُرّک جان پر پڑی۔ وہ سو رہا تھا۔ جیسے جیسے میں اس کے قریب جاتا گیا، میرے قدموں کی آواز تیز ہوتی گئی قریب پہنچنے پر دُرّک نیند سے اٹھ گیا۔ کافی عرصے بعد ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم دونوں اتنے خوش ہوئے کہ اس وقت میرے پاس اپنے جذبات بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ باقی دوستوں سے سلام دعا کے بعد میں دُرّک کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔ ہم نے دیر تک باتیں کیں اور بہت سی پرانی یادیں تازہ کیں۔ اس وقت ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ ملاقات ہماری زندگی کی سب سے قیمتی یادوں میں سے ایک بننے والی ہے۔

دُرّک جان کے کیمپ میں ایک رات گزارنے کے بعد ہمیں اپنی منزل کی طرف روانہ ہونا تھا۔ دُرّک نے ہم سے کہا کہ اتنی جلدی کس بات کی ہے، کچھ دن یہیں گزار لو۔ ہمارا بھی دل چاہتا تھا کہ رک جائیں، مگر اپنی ذمہ داریوں اور اجازت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں روانہ ہونا پڑا۔ روانگی کے ان آخری لمحات میں دُرّک جان اور ہم نے کچھ تصویریں بھی بنوائیں۔ شاید دل کے کسی کونے میں یہ احساس تھا کہ نہ جانے اب دوبارہ کب ملاقات ہو، لیکن اس وقت مجھے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ واقعی میری اور دُرّک جان کی آخری ملاقات ہے۔ ہم دوستوں کو رخصت کرکے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔ منزل پر پہنچنے کے بعد نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے دُرّک سے کوئی رابطہ نہ ہو سکا۔ کچھ دن گزرے، پھر جب ہم نیٹ ورک کی حدود میں آئے تو دُرّک جان سے دوبارہ بات ہوئی۔ وہ معمول کے مطابق بات کر رہا تھا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ ہماری آخری گفتگوؤں میں سے ایک بننے والی ہے۔

پھر 30 اگست کی وہ شام آئی جسے میں شاید کبھی بھلا نہیں سکوں گا۔ ہم دوستوں کی محفل میں بیٹھے تھے کہ اچانک ایک دوست نے مجھ سے پوچھا: “کیا دُرّک جان شہید ہوگئے ہیں؟مجھے اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ میں نے فوراً کہا نہیں، ابھی تو پرسوں میری دُرّک جان سے بات ہوئی ہے اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ کسی کام سے دوسرے دوست کے کیمپ گیا ہے۔ لیکن میرے دل کو چین نہیں آیا میں نے دوسرے دوستوں سے اس دل دہلا دینے والی خبر کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہاں، دُرّک جان دشمن کے ساتھ ایک جنگ میں شہادت نوش کر چکا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی میں جیسے اندر سے خاموش ہوگیا۔ جس دوست سے کچھ ہی دن پہلے بات ہوئی تھی، جس کے ساتھ سفر کیے تھے، جس کے ساتھ بیٹھ کر ہنسی مذاق کیا تھا اور جس سے میں نے بہت کچھ سیکھا تھا، وہ اب اس دنیا میں نہیں تھا۔ اس لمحے دُرّک جان کی وہ بات میرے ذہن میں دوبارہ گونجنے لگی کہ زندگی اور جدوجہد میں انسان کو کبھی کبھی اپنے بہت قریبی دوستوں سے بھی جدا ہونا پڑتا ہے۔ ایسی جدائی کے لیے انسان شاید کبھی مکمل طور پر تیار نہیں ہو سکتا۔

آج دُرّک کے جانے کا غم اپنی جگہ مگر اس کی زندگی اور اس کے کردار پر مجھے فخر بھی ہے۔ دُرّک جان، تمہیں ابھی نہیں جانا تھا۔ تمہارے ساتھ ابھی بہت سی باتیں باقی تھیں، بہت سے سفر باقی تھے اور بہت سی یادیں بننی تھیں، لیکن وقت نے ہمیں ایک ایسی جدائی دے دی جسے قبول کرنا آسان نہیں۔ آج جب میں تمہیں یاد کرتا ہوں تو آنکھوں کے سامنے وہی مسکراتا ہوا چہرہ آتا ہے، وہی نرم مزاج دوست وہی ہنسی مذاق، وہی گفتگوئیں اور وہی سفر یاد آتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب تم سامنے نہیں ہو۔ تم صرف میرے ایک دوست نہیں تھے تم میری زندگی کے ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے مجھے کچھ سکھایا، میرے سفر کا حصہ بنے اور میری یادوں میں ہمیشہ کے لیے اپنی جگہ بنا لی۔

آج تم ہمارے درمیان نہیں ہو، مگر تمہاری یاد ہمارے ساتھ ہے۔ تمہاری مسکراہٹ، تمہاری باتیں، تمہارا نرم مزاج اور تم سے سیکھی ہوئی بہت سی باتیں آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہیں۔ وقت گزر جائے گا فاصلے بڑھ جائیں گے اور زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھتی رہے گی، لیکن کچھ لوگ وقت کے ساتھ یاد نہیں پڑتے، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی یاد اور بھی گہری ہوتی جاتی ہے۔ دُرّک جان، تم بھی انہی لوگوں میں سے ہو۔ تم جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو گئے ہو، مگر تمہاری یادیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ شاید انسان کی اصل زندگی اس کی سانسوں کے ختم ہونے سے نہیں، بلکہ اس وقت ختم ہوتی ہے جب اسے یاد کرنے والا کوئی باقی نہ رہے۔ تم خوش نصیب ہو کہ تمہاری یاد کو زندہ رکھنے والے دل آج بھی موجود ہیں۔ تم چلے گئے، مگر تمہاری دوستی، تمہاری مسکراہٹ اور تمہاری یاد ہمارے ساتھ رہ گئی۔ دُرّک جان تمہیں ہم بھلا نہیں سکتے تم ہماری یادوں کا وہ حصہ ہو جسے وقت بھی ہم سے جدا نہیں کر سکتا۔⁩


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔