“یار دروک آپ کو ابھی جانا نہیں تھا۔” – کوہ پروش بلوچ

40

“یار دروک آپ کو ابھی جانا نہیں تھا۔”

تحریر: کوہ پروش بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ہائے دورک جان، کہاں سے لکھوں، کیسے لکھوں؟ ہاتھ کانپ رہے ہیں، سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا لکھوں۔ دوست تو سب ایک جیسے ہوتے ہیں، مگر پھر کوئی ایک ایسا دوست آ جاتا ہے کہ اس کے جانے سے آپ کو یوں لگتا ہے جیسے آپ کی پوری دنیا ہی بدل گئی ہو۔

کل میں ایک کام کر رہا تھا۔ اچانک ایک دوست آیا اور کہنے لگا: “دورک شہید ہو گیا ہے۔” یہ بات سنتے ہی ایسا لگا جیسے میری جان ہی نکل گئی ہو۔ بدن سن ہو گیا۔ ابھی تک مجھے یقین نہیں آ رہا، یار دورک، آپ کو جانا نہیں تھا۔ پھر آزادی کی راہ ایسی کیوں ہے؟ انسان چاہتا ہے کہ اس کا کوئی بھی دوست اس سے دور نہ جائے، لیکن آزادی کی راہ میں قربانی دینا پڑتی ہے۔ آزادی کو خون کے بغیر حاصل کرنا شاید ناممکن ہے۔ اس راستے پر چلنے والے جانتے ہیں کہ منزل کی قیمت کبھی کبھی بہت بھاری ہوتی ہے، مگر جب مقصد دل میں اتر جائے تو انسان اپنی ذات سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ کہتے ہیں: “آزادی وہ خواب ہے جس کی تعبیر کے لیے نسلیں قربان ہو جاتی ہیں۔” اور شاید آزادی کی سب سے بڑی قیمت یہی ہے کہ کچھ لوگ وہ صبح دیکھنے سے پہلے ہی چلے جاتے ہیں جس کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی لگا دی ہوتی ہے۔

یار دورک، چار دن پہلے ہی تو ہماری بات ہوئی تھی۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ آپ ہم میں نہیں ہیں۔ کاش یہ ایک خواب ہوتا اور میں اٹھتا تو پتا چلتا کہ یہ سب جھوٹ ہے، آپ یہیں ہیں، ہمارے درمیان ہیں۔ آپ کو یہاں ہونا تھا۔ آپ کو کام کرنا تھا۔ آپ کو دوستوں کے ساتھ بیٹھنا تھا، ہنسنا تھا، باتیں کرنی تھیں۔ ابھی تک تو کوہ یار کی قبر کی مٹی بھی خشک نہیں ہوئی۔ اس کے جانے کے غم سے ابھی نکل بھی نہیں پایا تھا کہ آپ بھی چلے گئے۔ ایسا لگتا ہے جیسے غم نے ہمیں سانس لینے کی مہلت ہی نہیں دی۔ ایک دوست کی قبر کی مٹی ابھی نم تھی کہ دوسرے دوست کے جانے کی خبر آ گئی۔ انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ آخر دل کتنی جدائیاں برداشت کر سکتا ہے۔

دورک جان، آپ سے پہلی ملاقات وتاخ میں ہوئی تھی۔ ہم بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ دو موٹر سائیکلوں پر دوست سفر سے آئے۔ ان میں سے ایک دورک تھا۔ اس کے بال بڑھ چکے تھے، داڑھی بھی بڑھ چکی تھی۔ وہ مجھے غور سے دیکھ رہا تھا اور میں بھی اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ اس شخص کو میں نے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔ خیر، دوست بیٹھ گئے اور ہم سب نے ساتھ چائے پی، بعد میں میں اور دورک وتاخ سے تھوڑا دور چلے گئے اور ایک جگہ بیٹھ گئے۔ پھر میں اور وہ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس نے مجھے پہلی مرتبہ شال میں دیکھا تھا۔ اس کی بات سن کر مجھے بھی یاد آ گیا کہ ہاں، میں نے اسے وہاں دیکھا تھا۔ پھر ہم کافی دیر تک ہنستے رہے۔

وہ دوسروں سے بالکل الگ تھا۔ ہمیشہ ہنسنے والا، ہمیشہ خوش مزاج۔ دوستوں سے محبت بھرے لہجے میں بات کرنا جیسے اس کی فطرت کا حصہ تھا۔ اس کے ساتھ بیٹھتے ہی انسان کو ایک عجیب سی اپنائیت محسوس ہوتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے بہت پرانے زمانے سے جانتا ہوں۔ خیر، ایک دن وہ ہمارے ساتھ رہا۔ ایک کام کے لیے آیا تھا اور پھر واپس چلا گیا۔ وقت گزرتا رہا، اور پھر کافی وقت تک میں نے اسے نہیں دیکھا۔ ہم اپنے کام میں لگے رہے۔ ہیروف ٹو بھی نزدیک آ رہا تھا۔ ہم ہیروف ٹو کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ دن بعد ہیروف ٹو شروع ہو گیا۔ کام، مصروفیات اور سفر کے دن گزرتے گئے۔ جب ہیروف ٹو ختم ہوا تو ہم واپس اپنے وتاخ جا رہے تھے۔ ہم نے تین دن پیدل سفر کیا۔ تین دن کا وہ پیدل سفر بہت تھکا دینے والا تھا۔ مسلسل چلنے کی وجہ سے جسم بالکل تھک چکا تھا۔ آخرکار وتاخ پہنچا۔

وتاخ پہنچتے ہی میں سو گیا۔ پتا نہیں کتنی دیر سویا رہا۔ جب نیند سے اٹھا تو دیکھا کہ ایک بندہ میرے سرہانے بیٹھا ہے اور کافی ہنس رہا ہے، جبکہ دوسری طرف دوسرے دوستوں کے ساتھ باتیں بھی کر رہا ہے۔ میں نے غور سے دیکھا تو وہ دورک جان تھا۔ اسے دیکھتے ہی ایسا لگا جیسے جان میں جان آ گئی ہو۔ میں نے اسے دیکھتے ہی ہنسی میں کہا: “زندہ بچ گئے!” ہم نے کافی باتیں کیں۔ کچھ دن ساتھ رہے۔ دورک بھی کیا یار تھا! جب بھی اسے دیکھتا، اسے ہنستے ہوئے دیکھتا۔ کیا خوش مزاج انسان تھا۔ اس کے چہرے پر جیسے ہنسی ہمیشہ رہتی تھی۔ وہ اپنے اردگرد کے دوستوں کو بھی ہنسا دیتا تھا۔ پھر تنظیمی کاموں کے سلسلے میں وہ کسی اور وتاخ چلا گیا اور میں بھی سفر پر نکل گیا۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ہم اپنی زندگی کے دکھ درد سب ایک دوسرے سے شیئر کرتے تھے۔ اس نے کئی موقعوں پر مجھے سنبھالا۔ کبھی باتوں سے، کبھی حوصلے سے، کبھی صرف اپنے پاس بیٹھنے سے۔ وہ بہت مخلص انسان تھا۔ تنظیمی کاموں کو ہمیشہ اخلاص اور ایمانداری سے کرتا تھا۔ جو کام اس کے ذمے ہوتا، اسے دل سے کرتا۔ اس کے لیے کام صرف ایک ذمہ داری نہیں تھا بلکہ ایک امانت تھا۔

دوستوں کے درمیان اس کا الگ مقام تھا۔ اس کا مزاج الگ تھا، اس کی بات کرنے کا انداز الگ تھا، اس کی ہنسی الگ تھی۔ وہ واقعی دورک تھا۔ دورک، تمہاری سب سے خوبصورت چیز شاید یہی تھی کہ تم لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے کے لیے کبھی کوشش نہیں کرتے تھے۔ تم بس جیسے تھے، ویسے ہی رہتے تھے، اور دوست خود تمہارے قریب آ جاتے تھے۔ تمہارے ساتھ گزارا ہوا وقت شاید وقت کے حساب سے بہت کم تھا، مگر یادوں کے حساب سے بہت زیادہ ہے۔ کچھ لوگ برسوں ساتھ رہ کر بھی دل کے قریب نہیں آتے، اور کچھ لوگ چند ملاقاتوں میں ہی دل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ تم بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ آج تم نہیں ہو تو ہر وہ جگہ جہاں تم بیٹھے تھے، خالی محسوس ہوتی ہے۔ ہر وہ بات جس پر تم ہنستے تھے، اب یاد بن گئی ہے۔ ہر وہ سفر جس میں تم ساتھ تھے، اب دل میں ایک سوال چھوڑ گیا ہے کہ کاش ایک بار پھر وہ وقت واپس آ جائے۔ کاش انسان کو معلوم ہوتا کہ کون سی ملاقات آخری ہے، کون سی بات آخری ہے، کون سی ہنسی آخری ہے۔ شاید پھر ہم اپنے دوستوں کے ساتھ کچھ لمحے اور بیٹھتے، کچھ باتیں اور کرتے، اور جاتے وقت انہیں تھوڑا اور دیکھتے۔ مگر زندگی ہمیں آخری ملاقات کا پتا نہیں دیتی۔

چار دن پہلے تم سے بات ہوئی اور آج تمہاری یاد میں الفاظ تلاش کر رہا ہوں۔ دورک جان، تمہارا جانا صرف ایک دوست کا جانا نہیں ہے۔ تمہارے جانے سے ایک ہنستا ہوا چہرہ کم ہو گیا، ایک مخلص دوست کم ہو گیا، ایک ایسا ساتھی کم ہو گیا جو اپنے کام کو ایمانداری سے کرتا تھا اور اپنے دوستوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا تھا۔ آزادی کی راہ میں قربانی دینے والے شاید جسمانی طور پر ہم سے دور ہو جائیں، مگر ان کی یادیں، ان کے خواب اور ان کی قربانیاں باقی رہتی ہیں۔ “جو لوگ آزادی کے لیے اپنا آج قربان کرتے ہیں، وہ آنے والی نسلوں کا کل روشن کرتے ہیں۔” اور ایک بات ہمیشہ یاد رہے: “آزادی کی قیمت صرف وہ جانتا ہے جس نے اس کے لیے کسی اپنے کو کھویا ہو۔”

تم نے اپنا حصہ ادا کر دیا، دورک جان۔ اب تم ہمارے درمیان نہیں ہو، مگر تمہاری ہنسی ہمارے درمیان ہے، تمہاری باتیں ہمارے درمیان ہیں، تمہاری یادیں ہمارے درمیان ہیں۔ تمہاری وہ چائے، وہ سفر، وہ وتاخ، وہ دوستوں کے ساتھ بیٹھنا، وہ بے فکری سے ہنسنا سب کچھ اب ہماری یادوں کا حصہ ہے۔ تم شاید یہ سوچ کر گئے ہوگے کہ دوست تمہیں یاد رکھیں گے۔ ہاں دورک، ہم تمہیں یاد رکھیں گے۔ تمہیں صرف اس وقت یاد نہیں کریں گے جب تمہاری برسی آئے گی، بلکہ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی یاد کریں گے جو ہمیں تمہاری طرف لے جائیں گی۔ کسی دوست کی ہنسی میں، کسی چائے کی محفل میں، کسی سفر کی تھکن میں، کسی پرانی بات کے ذکر میں۔ تمہارے جانے کا دکھ شاید کبھی ختم نہ ہو، لیکن تمہاری قربانی ہمیں یہ ضرور یاد دلاتی رہے گی کہ جس راستے پر ہم چل رہے ہیں، اس راستے کے پیچھے کتنے لوگوں کا خون اور کتنی یادیں ہیں۔ کہتے ہیں: “شہید مر نہیں جاتے، وہ اپنے لوگوں کی یادوں اور اپنے خوابوں میں زندہ رہتے ہیں۔”

دورک جان، آج میرے پاس تمہارے لیے صرف الفاظ ہیں، اور سچ یہ ہے کہ یہ الفاظ بھی بہت کم ہیں۔ دل چاہتا ہے تمہیں آواز دوں۔ کہوں: “کہاں چلے گئے یار؟ واپس آؤ، ابھی تو بہت سی باتیں باقی ہیں۔” مگر جواب نہیں آتا۔ صرف خاموشی ہے۔ اور اس خاموشی میں تمہاری ہنسی سنائی دیتی ہے۔ تم چلے گئے ہو، مگر تمہاری یاد نہیں جائے گی۔ تم ہمارے ساتھ تھے، ہمارے دوست تھے، ہمارے دکھ کے ساتھی تھے، اور اب ہماری یادوں کا حصہ ہو۔ کچھ لوگ زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر دل سے کبھی نہیں جاتے۔ تم بھی انہی لوگوں میں سے ہو۔ تم ہم سے دور ہو گئے ہو، مگر ہماری یادوں سے نہیں۔ اور شاید یہی انسان کی اصل زندگی ہے—جسم چلا جاتا ہے، مگر محبت باقی رہتی ہے۔ انسان خاموش ہو جاتا ہے، مگر اس کی یاد بولتی رہتی ہے۔ اور شہید رخصت ہو جاتا ہے، مگر اس کا خواب زندہ رہتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔