کوئٹہ، بزرگ سیاستدان مرحوم ملک فیض محمد دہوار کی صاحبزادی اور مستونگ کی رہائشی سیاسی و سماجی کارکن ڈاکٹر عائشہ فیض نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسلح جنگجو دہشت گرد نہیں بلکہ بلوچستان کی جنگِ آزادی کے سپاہی اور گوریلا جنگجو ہیں، جو اپنی قومی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
یہ بات انہوں نے پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، ڈاکٹر عائشہ فیض نے بلوچستان کی موجودہ مزاحمت اور بلوچ خواتین کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ستر کی دہائی میں پہاڑوں میں موجود سرمچاروں کو بلوچ خواتین اپنے گھروں میں مہمان رکھتی تھیں اور ان کی خدمت کرتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ جب سرمچار کئی دن پہاڑوں میں رہتے تھے تو خواتین انہیں اپنے گھروں میں مہمان رکھتی تھیں، کیونکہ پہاڑوں میں ان کا کھانا پینا مناسب نہیں تھا، ان کے مطابق اگر کسی سرمچار کی طبیعت خراب ہوتی تو ڈاکٹر گھر پر آتا اور گھر میں ہی ان کا علاج کیا جاتا تھا۔
ڈاکٹر عائشہ فیض نے کہا کہ یہ غیرت مند بلوچوں کی کہانی ہے ان کا کہنا تھا کہ بلوچوں کو ریاستِ قلات کا الحاق واپس چاہیے، کیونکہ ان کے مطابق قلات کا الحاق بلوچوں کی مرضی کے بغیر ہوا تھا۔
انہوں نے کہا جو قلات کا الحاق ہماری مرضی کے بغیر ہوا ہے، ہم نے وہ واپس لینا ہے ہمیں وہ ہر حال میں چاہیے، یہ ہماری سرزمین چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم اور بلوچ خواتین غیرت مند ہیں ، بلکہ بلوچ خواتین نے ستر کی دہائی میں ہی جنگِ آزادی میں حصہ لینا شروع کیا تھا، ان کے مطابق مزاحمت کاروں کی خدمت کرنا بھی بلوچ خواتین کے جذبے، غیرت اور بلوچستان کی جنگِ آزادی میں ان کے حصے کا اظہار تھا۔
ڈاکٹر عائشہ فیض نے کہا کہ میرے والد صاحب نے آخری دنوں میں بتایا تھا کہ لوگ فکر نہ کریں، زیرِ زمین جو فوج بن رہی ہے وہ بلوچستان کو آزاد کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ بسترِ مرگ پر ہونے کے باوجود قلات اور آزاد ریاست کی فکر موجود تھی، ان کے مطابق قلات سے لوگوں کو بے دخل کرکے قبضہ کیا گیا اور دھوکے سے الحاق کروایا گیا، جسے وہ واپس لینے کی جدوجہد جاری رکھنے کی بات کرتی ہیں۔
ڈاکٹر عائشہ فیض نے کہا کہ بشیر زیب اور ڈاکٹر اللہ نذر آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں یہ بلوچستان کے جنگجو، بلوچستان کی جنگِ آزادی کے سپاہی، نڈر جنگجو اور ریپبلک آف بلوچستان کی فوج، آرمی اور گوریلا جنگجو ہیں ہمارے بہادر ہیں وہ اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان جنگجوؤں کو دہشت گرد قرار دینا درست نہیں جنگوں میں دو فریق ایک دوسرے کے خلاف لڑتے ہیں، دو قومیں لڑتی ہیں اگر ایک فریق دہشت گرد ہے تو دوسری جانب کو بھی دہشت گرد قرار دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمتی تنظیمیں اپنے ویڈیوز اور آڈیوز کے ذریعے متعدد بار لوگوں کو ان علاقوں میں آنے سے منع کرتی رہی ہیں جہاں ان کے مطابق جنگ جاری ہے، ان کے مطابق تاجروں، کاروباری افراد، عام شہریوں اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں نہ آئیں کیونکہ وہاں جنگ جاری ہے۔
ڈاکٹر عائشہ فیض نے حکومت کی جانب سے صوبائی وزیر داخلہ کے قافلے پر حملے کو جواز بنا کر باغات کاٹنے اور لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کی بھی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے لوگوں کی مشکلات بڑھیں گی اور ریاست کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کھڈ کوچہ کے لوگوں کو بے دخل کیا گیا اور ان کے باغات کاٹے گئے تو علاقے کے مرد و خواتین مزاحمت پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ لوگ اپنے علاقے سے کسی صورت نقل مکانی نہیں کریں گے اور نہ اپنے باغات کاٹنے کی اجازت دیں گے۔
ڈاکٹر عائشہ فیض نے مزید کہا کہ بلوچستان میں شورش آج کی نہیں بلکہ کئی سالوں پر محیط ہے اور ان کے خاندان نے بھی ریاستِ قلات کے الحاق کی مخالفت میں جدوجہد کی تھی۔
خیال رہےملک فیض محمد یوسفزئی (دہوار) بلوچستان کی ابتدائی سیاسی و قومی تحریک کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ میر عبدالعزیز کرد، میر یوسف عزیز مگسی اور دیگر بلوچ رہنماؤں کے ہمراہ انجمن اتحاد بلوچان کی سیاسی جدوجہد میں شامل رہے، جس نے بلوچستان میں سیاسی اصلاحات، بلوچ علاقوں کے اتحاد اور سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ بعد ازاں وہ قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں بھی شامل رہے اور بلوچ سیاسی شعور کو منظم کرنے میں کردار ادا کیا


















































