بلوچستان سے جبری جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم طویل احتجاجی کیمپ کو آج 6141 دن مکمل ہوگئے۔
اس موقع پر لڈی دشت، کردگاپ ضلع مستونگ میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کیے گئے نوجوانوں، سفیر سمالانی، امان اللہ سمالانی اور عرفان محمد حسنی کے لواحقین نے کیمپ میں شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
لواحقین کے مطابق تینوں نوجوانوں کو 16 اپریل کو پاکستانی فورسز نے لڈی دشت، تحصیل کردگاپ سے حراست میں لیا اور بعد ازاں دوران حراست قتل کرکے اسے جعلی مقابلہ ظاہر کیا۔
وی بی ایم پی چیئرمین نصراللہ بلوچ اور جنرل سیکرٹری جنرل حوران بلوچ کی کوششوں کے بعد تینوں نوجوانوں کی لاشیں سی ٹی ڈی سے وصول کرکے لواحقین کے حوالے کی گئیں، جنہیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردیا گیا ہے۔
چیئرمین وی بی ایم پی نصراللہ بلوچ نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زیرِ حراست افراد کا قتل ملکی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کی جائیں، اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔


















































