سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پنجگور شہر کی مختلف شاہراہوں کی بندش کے باعث چتکان بازار آنے جانے والے شہریوں، تاجروں، مزدوروں اور کاروباری حلقوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
بالخصوص پنجگور کالج روڈ کی بندش سے اس سے منسلک گیراج، آٹو مارکیٹ اور مختلف دکانیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
اس حوالے سے آٹو اور گیراج یونین کے نمائندوں اور مختلف مزدوروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہوں کی مسلسل بندش نے پنجگور کی کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاجروں اور مزدوروں نے اپنی جمع پونجی خرچ کر دی ہے، جبکہ گیراجوں اور دکانوں میں کام کرنے والے کئی مزدور نانِ شبینہ کے محتاج ہو گئے ہیں۔
مظاہرین کے مطابق شاہراہوں کی بندش کا اثر صرف چند دکانوں یا مارکیٹوں تک محدود نہیں، بلکہ پورے چتکان بازار کی رونق متاثر ہوئی ہے۔ بازار میں ٹریفک کی روانی انتہائی کم ہو گئی ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیوں میں کمی کے ساتھ ساتھ خوف و ہراس کا ماحول بھی پایا جاتا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ شاہراہوں کی بندش کے بعد اسپتال روڈ سے ایک عارضی راستہ نکالا گیا ہے، مگر یہ راستہ انتہائی دشوار گزار اور خراب حالت میں ہے۔ ان کے مطابق اس متبادل راستے پر ٹریفک حادثات بھی پیش آئے ہیں، جن کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تنگ گلیوں پر مشتمل اس متبادل راستے سے دکانوں کے لیے سامان لانے والے بڑے ٹرک، ٹریلر اور دیگر بھاری گاڑیاں گزرنے کے دوران پھنس جاتی ہیں، جبکہ انہیں موڑنے یا واپس نکلنے کے لیے مناسب جگہ بھی دستیاب نہیں۔
مختلف دکانداروں نے بھی شاہراہوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری طبقہ پہلے ہی شدید مشکلات سے دوچار ہے اور موجودہ صورتحال نے ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
تاجروں اور مزدوروں نے متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ پنجگور کی اہم شاہراہوں کو جلد از جلد کھولا جائے تاکہ شہریوں کی آمدورفت بحال اور کاروباری سرگرمیاں معمول پر آ سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خدابادان، گرمکان، ٹرانس اور دیگر علاقوں سے شہریوں کو بازار تک پہنچنے کے لیے طویل اور دشوار راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے نہ صرف عوام بلکہ دکاندار اور مزدور بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
تاجر برادری نے مطالبہ کیا کہ عوام کی آمدورفت اور کاروبار میں آسانی کے لیے تمام ممکنہ راستے بحال کیے جائیں تاکہ پنجگور بازار کی رونقیں دوبارہ بحال ہوں اور کاروباری طبقہ اپنے روزگار کا سلسلہ جاری رکھ سکے۔

















































