بی ایل اے نے کوئٹہ ولی تنگی میں جانبحق سرمچاروں کے تفصیلات جاری کردئے

637

تنظیم نے ولی تنگی حملوں میں جانبحق اپنے سرمچاروں کے تفصیلات میڈیا کو فراہم کردئے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے تنظیم کے آفیشل چینل ہکل پر جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ولی تنگی کوئٹہ میں شہید ہونے والے نور احمد سمالانی، عرف نوتک، ولد نور خان سمالانی گزشتہ آٹھ سال سے بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ رہتے ہوئے جنگی محاذ پر دشمن کے خلاف سرگرم رہے۔

“تحریک سے فکری اور نظریاتی وابستگی کی وجہ سے انہوں نے سخت سے سخت حالات کا انتہائی پُرجوش انداز، بہادری اور شجاعت کے ساتھ مقابلہ کیا اور ایک مستقل، فعال اور جنگی معرکوں میں بھرپور حصہ لینے والے سرمچار کے طور پر محاذ پر موجود رہے”۔

تنظیم کے مطابق بولان کے محاذ پر گزشتہ عرصوں کے دوران دشمن پر انتہائی سخت اور کاری ضربیں لگانے میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہنے والے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور جنگی حالات میں کسی بھی وقت حالات کا رخ اپنی طرف موڑنے کی بھرپور صلاحیتیں ان میں موجود تھیں۔

بی ایل اے نے انکے حوالے بتایا ہے کہ شہید نوتک کے ایک بھائی شہید محمد جان عرف لیلا، نے بھی بی ایل اے کی صفوں میں رہ کر قومی آزادی کے اس عظیم کاروان میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے وطن پر اپنا حق ادا کیا، انہوں نے اپنے بھائی کی شہادت کے ایک سال بعد جنگ میں شمولیت کا فیصلہ کیا اور تنظیمی احکامات کے تحت بولان کے محاذ کو اپنی جنگی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔

“گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران بولان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں دشمن پر جنگی برتری حاصل کرنے، اپنی جنگی لائنوں کو وسعت دینے، افرادی و عسکری قوت اور صلاحیت میں اضافہ کرنے، اور دشمن کے خلاف انتہائی سخت اور بڑے آپریشنز کی منصوبہ بندی اور انجام دہی میں شہید نوتک نے ایک ذمہ دار اور ہر تنظیمی حکم کی تعمیل کرنے والے سرمچار کے طور پر خود کو ثابت کیا، جنگی محاذ پر مستقل مزاجی ان کے کردار کا نمایاں وصف تھی، جو انہیں منفرد بناتی تھی”۔

تنظیم کے مطابق شہید نوتک نے تنظیمی پالیسیوں اور نظم و ضبط سے اصولی اور انقلابی وابستگی کو آخر تک قائم رکھا اور دشمن کے خلاف اپنی صلاحیتوں اور انفرادی قوت کو منظم انداز میں بروئے کار لاتے رہے، بولان کے محاذ پر دشمن کے مورچوں کو فتح کرتے ہوئے اور فرنٹ لائن میں دشمن کو بھاری نقصان پہنچاتے ہوئے انہوں نے قومی آزادی، مادرِ وطن کی سالمیت اور بلوچ ریاست کی آزادانہ حیثیت کی بحالی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور بلوچ شہدا کے کاروان کا ہمیشہ کے طور پر حصہ بن گئے۔

تنظیم نے اپنے دوسرے ساتھی کے حوالے بتایا ہے کہ کوئٹہ کے رہائشی رینک کمانڈر میر عالم کیازئی عرف سلمان ولد امام بخش کیازئی بلوچ لبریشن آرمی کے ان بے خوف، انتہائی بہادر اور بے باک انقلابی سرمچاروں میں شامل تھے جنہوں نے جنگی محاذ کو انقلابی اصولوں، انسانی شعور اور قومی تقاضوں کی بنیاد پر منتخب کیا اور میدان جنگ میں خود کو ایک ناقابل شکست سرمچار کے طور پر ثابت کیا۔

انہوں نے کہا ہے شہید عالم عرف سلمان نے کسی حادثے یا وقتی سوچ کی وجہ سے بندوق اٹھانے اور دشمن کے خلاف سرگرم ہونے کا فیصلہ نہیں کیا، بلکہ انہوں نے شہری جنگ کا دقیق تجربہ حاصل کرنے، تعلیمی سفر طے کرنے، تحریک کے تکنیکی پہلوؤں سے واقفیت حاصل کرنے اور مقصد سے علمی تعلق استوار کرنے کے بعد، تنظیمی فیصلے کے تحت جنگی محاذ پر منتقل ہوئے۔

تنظیم نے کہا معیشت کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے قومی درد، احساس اور شعور کو بھی اپنے ساتھ جوڑے رکھا اور یہی درد اور شعور بالآخر ان کے انقلابی فیصلے کا سبب بنا، انہوں نے دشمن کے خلاف مسلح مزاحمت کی قومی، تکنیکی، معاشی اور سیاسی بنیادوں کو سمجھ کر اس میں شمولیت اختیار کی اور قابض دشمن پر وہ ضربیں لگائیں جنہیں اس کی نسلیں یاد رکھیں گی۔

“تین سال کے عرصے میں انہوں نے جنگی اور انتظامی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، دشمن کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی سے لے کر انہیں سرانجام دینے کی انتظامی صلاحیت تک، انہوں نے ہر حوالے سے خود کو ایک منظم سرمچار کے طور پر ثابت کیا”۔

بی ایل اے کے مطابق انہی صلاحیتوں کی بنیاد پر انہیں کوئٹہ کے جنگی محاذ پر کیمپ کمانڈ کی اہم اور بھاری ذمہ داریاں سونپی گئیں، جنہیں انہوں نے اپنے عمل، کردار اور محنت سے بھرپور انداز میں نبھایا، علاقے میں تنظیمی برتری قائم رکھنے اور نئے بھرتی ہونے والے سرمچاروں میں تنظیمی سوچ، نظم و ضبط کی پابندی اور انقلابی اصولوں کا شعور اجاگر کرنے میں انہوں نے بہترین کردار ادا کیا۔

بلوچ لبریشن آرمی کے مطابق شہید سلمان نے اپنی تعلیمی، انتظامی اور جنگی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر قومی آزادی کے سفر میں جو قربانیاں دیں، وہ بلوچ نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ آخر تک دشمن کے خلاف متحرک رہے اور دشمن کے ایک کیمپ پر قبضے اور تنظیمی فتح کے دوران وطن پر قربان ہو گئے ان کی قربانیاں ہمارے اس عہد کو مزید مضبوط کریں گی، جس کا منتج ایک آزاد ریاستِ بلوچستان کی صورت میں قوم کو ملے گا۔