کوہِ سلیمان کی بیٹی سمی بزدار
تحریر: وہشین بزدار
دی بلوچستان پوسٹ
سمو کے سرزمین کوہِ سلیمان میں بیٹیوں کی زندگی اس طرح نہیں ہے جس طرح سمو کی زندگی تھی۔ کوہِ سلیمان کے بچے تعلیم سے دور، شعور سے ناواقف، گھریلو دباؤ تلے زندگی جینا جانتے ہیں، حتیٰ کہ پوری زندگی ایک بے مقصد ہو کر گزرتی ہے، جہاں عورت قبائلی رسومات کا شکار ہو کر جینا بھی بھول جاتی ہے، جہاں عورت بلوچ ہونے سے ناواقف ہو، جہاں عورت نظریاتی لفظ سے بھی ناواقف ہو، وہاں سے ایک شہزادی سرزمین کے لیے جینے کو اپنا مقصد بناتی ہے۔ وہ ایک قلیل عرصے میں زندگی کے مقصد کو سمجھ لیتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ بلوچ ایک محکوم قوم ہے، جہاں پنجابی استعماریت کا قبضہ ہے۔
وہ سمو بزدار ہیں، جی ہاں، وہ میرل کی سمی، جی، وہ کوہِ سلیمان کی سمی، مست نکتہ سلیمان کے علاقے سڑتھوخ میں غالباً ڈیڑھ صدی پہلے ایک چیذغ سمو کے نام سے منسوب کرکے رکھا تھا، وہی چیذغ میرل کی سمی بن کر گلزمین پر قربان ہونے کے لیے نکلی۔
اس سمی کے ساتھی میرل تھے، وہ میرل جو اکثر مجھے کہا کرتے تھے کہ اپنی زندگی کو وطن پر قربان کرکے اس مٹی کے قرض کو اتارنا چاہیے، قبضہ گیر کو اپنے سرزمین سے بے دخل کرکے اپنے سرزمین کی حفاظت خود کرنی چاہیے، جس سرزمین کو قبضہ گیر سالوں سے لوٹ رہا ہے۔
میرل کے ساتھی شاید اس سے بھی پختہ ایمان رکھتی تھی، وہ تو اپنے میرل کو قربان کرنے کے بعد خود اسی سفر پر چل کر قربان ہوگئی۔
آپریشن ہیروف ٹو میں جہاں درجنوں بلوچ خواتین اپنے وطن کی دفاع کرتے ہوئے فدائی بن کر تاریخ کا حصہ بن گئیں، وہاں ایک مریم بزدار (سمی) جو کوہِ سلیمان کے سڑتھوخ سے تعلق رکھنے والی ایک متوسط فیملی سے تھی، وہ بھی نوشکی محاذ پر فدائی بن کر امر ہوگئی۔
سمی کوہِ سلیمان کی فخر ہیں، سمی کوہِ سلیمان کی بانڑی ہیں، سمی کوہِ سلیمان کی سمو ہیں، جو وطن کی دیوانی تھی اور وتن پر قربان ہوگئیں، جس پر آج کوہِ سلیمان نازاں ہے۔
آج اگر میں سڑتھوخ جاؤں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں عظیم لوگوں کے وطن میں آیا ہوں، جہاں فیلنگ ہی کچھ عجیب آنے لگتے ہیں، جہاں وطن پر قربان ہونے والی جوڑی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔
مجھے فخر ہے کہ میں نے آج چند الفاظ اس سمی کی قربانی پر لکھے جو رشید کے ہمسفر تھی اور رشید ہمارے عظیم ساتھی تھے۔ مجھے تم دونوں کی قربانی پر فخر ہے۔ آپ دونوں نے نوشکی کے مقام پر قربان ہوکر اپنا فرض نبھایا۔ آپ نے ثابت کیا کہ بلوچ جس خطے سے بھی ہو، اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے وطن، اپنی شناخت، اپنے ڈغار کا دفاع کرے۔ آج آپ کی قربانی صرف میرے لیے نہیں، کوہِ سلیمان کے ہر مرد و خواتین کے لیے مشعلِ راہ بن چکی ہے۔
مریم کی قربانی اس بات کی علامت ہے کہ اس خطے کی بیٹیاں وطن پر مرمٹنے کے لیے تیار ہوجائیں، فیوڈل اور قبائلی نظام کو مات دے کر اپنے فیصلے نظریاتی بن کر کریں۔ جہاں بلوچ تحریک میں سینکڑوں خواتین حصہ لے کر اپنا فرض نبھا رہے ہیں، وہاں کوہِ سلیمان کے بیٹیوں کے کندھوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوچکی ہے کہ مریم کے نقشِ قدم پر چل کر اپنے آپ کو وتن کی حفاظت میں سرخرو کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ بلوچ کے ہر مرد و زن کا منزل یہی ہے: وتن کی حفاظت۔ مگر کوئی تو اس خوبصورت منزل کی طرف چل پڑا، کوئی ابھی انہی خیالوں میں پیوست ہے۔
آخر میں، میں اپنے کوہِ سلیمان کے نوجوانوں سے ایک درخواست کرکے اپنی تحریر کو سمیٹ لیتا ہوں:
یہاں کے نوجوان کافی باشعور ہونے کے باوجود اپنے فیصلے خود نہیں کر پارہے، وہ معاشرے کے رحم و کرم پر ہیں۔ معاشرہ انہیں جس طرف دھکیل دے، مگر بلوچ کے نوجوان کو معاشرے کی بے رحمیوں پر نہیں بلکہ ریاستی قبضہ گیریت پر اپنی منزل کا تعین کرنا چاہیے۔ نظریاتی ہونے کے ساتھ ساتھ اسے اپنے نظریے کو دل میں چھپانے کی بجائے اپنے حقیقی منزل کی جانب بڑھ کر بقا کی جنگ میں شامل ہونا چاہیے۔ یہاں کے نوجوان کو ٹارچر سیلوں کے نظر ہونے کے بجائے جنگِ آزادی میں شامل ہوکر اس قبضہ گیر کو اپنا فیصلہ بتانا چاہیے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































