بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں غیرت کے نام پر قتل کا سلسلہ جاری ہے۔
پولیس کے مطابق نصیراباد اور جھل مگسی کے سرحدی ایریا شہید کلو کے مقام پر مسلح افراد نے مبینہ طورپر کاروکاری کے الزام میں فائرنگ کرکے ایک خاتون زر بانو اور فتح علی نامی شخص کو قتل کردیا اور موقع واردات سے فرار ہوگئے۔
پولیس نے جاے وقوع پر پہنچ کر لاشوں کو اپنی تحویل میں لیکر ہسپتال منتقل کردیں جہاں ضروری کاروائی کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کردی گئی پولیس نے ورثاء کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے قاتلوں کی تلاش شروع کردی گئی۔
یاد رہے کہ جھل مگسی اور نصیرآباد ڈویژن کے دیگر اضلاع میں ماضی میں بھی غیرت کے نام پر قتل کے متعدد واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2024 کے درمیان بلوچستان میں کم از کم 212 افراد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ نصیرآباد اور جعفرآباد ان اضلاع میں شامل ہیں جہاں ایسے واقعات کی تعداد نسبتاً زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جعفرآباد میں اسی عرصے کے دوران 23 افراد غیرت کے نام پر قتل کیے گئے تھے، رواں مہینے جولائی میں غیرت کے نام پر یے قتل کا دوسرا واقعہ ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکے ہیں، جس کے تدارک کے لیے مؤثر قانونی کارروائی اور متاثرین کے تحفظ کے اقدامات ناگزیر ہیں۔


















































