مستونگ: فوجی بسوں اور ان کی سیکورٹی پر حملہ، جھڑپوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں

0

ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں جمعرات 16 جولائی کو مسلح افراد اور پاکستانی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، پاکستانی فورسز کے ایک قافلے کو مرکزی کوئٹہ-کراچی روٹ پر گرو کے مقام پر نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ قافلے میں شامل بسوں میں چھٹی پر جانے والے فوجی اہلکار سوار تھے، جنہیں حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق حملے کے دوران متعدد بسیں اور دیگر گاڑیاں، جن میں بکتر بند گاڑیاں بھی شامل تھیں، متاثر ہوئیں۔

ذرائع کے مطابق، قافلے میں شامل دس بسوں میں سے متعدد کو نقصان پہنچا، جبکہ چار بسوں اور دیگر گاڑیوں پر براہ راست حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان بسوں میں سوار چھٹی پر جانے والے اہلکاروں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

مزید اطلاعات کے مطابق، قافلے کو مدد فراہم کرنے کے لیے آنے والی فورسز کی کمک کو بھی مرکزی شاہراہ پر مدینہ ہوٹل کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا، جہاں دو گاڑیوں پر حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپیں تاحال جاری ہیں اور اب تک 50 سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت کے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم اس تعداد کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

علاقے میں فورسز کی اضافی نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے، جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی آمد کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

واقعے کے بعد نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال مستونگ میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ ہسپتال اور اس کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔