بلوچ خواتین میدانِ عمل میں مؤثر کردار ادا کریں — مولانا عبدالحمید

0

مغربی بلوچستان کے مرکزی شہر زاہدان کی مسجد مکی کے سربراہ مولانا عبدالحمید نے اپنے ایک پیغام میں بلوچ خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمت اور اعتماد کے ساتھ معاشرے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں اور دیگر خواتین اور بچیوں کی رہنمائی کریں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ خواتین خود کو کمزور نہ سمجھیں اور اپنے ذہن سے یہ خیال نکال دیں کہ وہ کچھ نہیں کر سکتیں، بلکہ انہیں بہادر، باہمت اور بااعتماد بن کر معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

مولانا عبدالحمید نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں خواتین نے عظیم کارنامے انجام دیئے ہیں اور آج بھی مختلف شعبوں میں خواتین نہایت اہم ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ خواتین کو اپنی شناخت، اقدار اور اصولوں پر قائم رہتے ہوئے ہر میدان میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور اپنی قوم و معاشرے کی ترقی میں بھرپور حصہ ڈالنا چاہیے۔

واضح رہے کہ حالیہ عرصے کے دوران بلوچستان میں جاری مسلح تحریک میں بلوچ خواتین کا کردار غیر معمولی طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ ماضی میں اگرچہ مختلف سطح پہ خواتین کی محدود شمولیت رہی ہیں، تاہم حالیہ پیش رفت نے اس پہلو کو ایک نئی جہت دی ہے۔ مبصرین کے مطابق حالیہ واقعات سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ مسلح تنظیموں میں نہ صرف خواتین کی تنظیمی سطح پر شمولیت بڑھا رہے ہیں بلکہ انہیں عملی اور عسکری سرگرمیوں میں بھی نمایاں کردار دے رہے ہیں۔

اسی تناظر میں حال ہی میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنی ایک خاتون کمانڈر، شاہناز بلوچ، کو پہلی مرتبہ منظرِ عام پر متعارف کرایا، جسے تنظیم کی جانب سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ اس اعلان کے بعد رواں ماہ گوادر کے علاقے جیونی میں بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کی ایک کارروائی کے دوران بھی خواتین کو محاذ پر مسلح انداز میں شریک دیکھا گیا۔ اس واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز منظرِ عام پر آنے کے بعد بلوچستان میں جاری مسلح تحریک میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت موضوع بن گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلح تحریکوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت تنظیمی حکمتِ عملی میں تبدیلی کی عکاسی ہے۔