گوادر جیمڑی کی جغرافیائی اہمیت کے باعث پاکستان مقامی آبادی کو بے دخل کرنا چاہتا ہے۔ بی این ایم

0

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ترجمان نے بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل جیمڑی کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیمڑی گزشتہ ایک ہفتے سے پاکستانی فوج کے مکمل محاصرے میں ہے۔

ترجمان کے مطابق تحصیل کے مرکزی قصبے جیمڑی سمیت گرد و نواح کے دیہات میں ادویات اور اشیائے خورد و نوش کی قلت پیدا ہو چکی ہے، حالیہ دنوں پاکستانی فوج نے پانچ افراد کو حراست میں قتل کیا، 60 سے زائد افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا، پانوان میں متعدد مکانات مسمار کیے اور سینکڑوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔

ترجمان نے کہا کہ جیمڑی اور اس کے نواحی علاقوں کی اسٹریٹیجک اہمیت کے باعث پاکستانی فوج مقامی آبادی کو ان علاقوں سے بے دخل کرنا چاہتی ہے۔

بی این ایم کے مطابق بلوچ سرمچاروں کے حملوں کو جواز بنا کر پاکستانی فوج براہِ راست عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے، شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کیے جارہے ہیں، جبکہ نقل و حرکت کی آزادی چھینی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ خطے میں بین الاقوامی اور علاقائی طاقتوں کے مفادات کے تصادم نے جیمڑی کی اسٹریٹیجک اہمیت میں مزید اضافہ کردیا ہے، ماضی میں استعماری طاقتیں اس علاقے کو اپنی فضائی اور بحری کارروائیوں کے لیے ایک اہم اڈے کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں، جبکہ موجودہ علاقائی تبدیلیوں کے تناظر میں بھی یہ علاقہ دوبارہ غیر معمولی اہمیت اختیار کررہا ہے۔

بی این ایم ترجمان نے کہا کہ بلوچ قوم کو ان واقعات کو محض کسی ایک حملے کے ردعمل کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ یہ ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں جس طرح سی پیک روٹ کے اطراف واقع آبادیوں کو سیکیورٹی کے نام پر مسلسل فوجی کارروائیوں، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے ذریعے ہجرت پر مجبور کیا گیا، اسی حکمت عملی کے تحت آج جیمڑی اور پانوان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انھوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، یورپی یونین، خطے کے ہمسایہ ممالک اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے معیارات کی پاسداری کا پابند بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں، تاکہ مقبوضہ بلوچستان کے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔