جیونی کا 8 روز سے گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع، 50 سے زائد نوجوان جبری لاپتہ

66

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے علاقے جیونی میں گزشتہ آٹھ روز سے زمینی آمدورفت معطل ہونے کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق شہر کا گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ محدود ہونے کے نتیجے میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جبکہ مریضوں کو بروقت علاج کے لیے دوسرے شہروں تک رسائی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ایک حالیہ واقعے کے بعد پورے علاقے کو ایسے اقدامات کا سامنا ہے جن کے اثرات ہزاروں عام شہریوں پر پڑ رہے ہیں۔ اہلِ علاقہ کے مطابق پانوان سمیت مختلف علاقوں سے اب تک تقریباً 50 سے زائد نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ بعض مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ بزرگ افراد کو بھی ان کارروائیوں سے مستثنیٰ نہیں رکھا گیا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ چند افراد کے اقدامات کی ذمہ داری پورے شہر یا علاقے پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق ہزاروں شہریوں کو نقل و حرکت، روزگار، خوراک اور علاج جیسی بنیادی سہولیات سے محروم کرنا نہ صرف انسانی مشکلات میں اضافہ کرتا ہے بلکہ عوام میں خوف، بے یقینی اور بے چینی کو بھی جنم دیتا ہے۔

شہریوں نے وفاقی و صوبائی حکومت، انسانی حقوق کے اداروں، منتخب عوامی نمائندوں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جیونی کی موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال کی جائے، خوراک اور طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، اور حراست میں لیے گئے افراد کے بارے میں ان کے اہلِ خانہ کو قانونی طریقۂ کار کے مطابق آگاہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ رواں سال 3 جولائی کو پانوان میں پاکستان کوسٹ گارڈز کے کیمپ پر بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ کے خودکش حملے کے بعد پاکستانی فوج نے مقامی آبادی کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔