جبری گمشدگی کے پانچ ماہ بعد رحمدل بلوچ کی مسخ شدہ لاش برآمد ۔ بی وائی سی

27

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ سنگ آباد تجابان کیچ کے رہائشی 24 سالہ نوجوان رحمدل بلوچ ولد محمد بخش کے ماورائے عدالت قتل بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے ۔

لواحقین کے مطابق رحمدل بلوچ کو جنوری 2026 میں پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتا کیا تھا۔

اہلِ خانہ کے مطابق رحمدل بلوچ کو پاکستانی فورسز نے ہوشاب کیمپ طلب کیا تھا۔ بعد ازاں انہیں بتایا گیا کہ وہ واپس جا سکتے ہیں، مگر کیمپ سے روانگی کے کچھ ہی فاصلے پر ریاستی فورسز اور ان کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں نے انہیں اور ان کے بڑے بھائی کو روک لیا۔ ان کے بڑے بھائی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد چھوڑ دیا گیا جبکہ رحمدل بلوچ کو اپنے ساتھ لے جایا گیا، جس کے بعد وہ جبری گمشدگی کا شکار رہے۔

رحمدل بلوچ کی بازیابی کے لیے ان کے اہلِ خانہ نے کئی ماہ تک مسلسل آواز بلند کی۔ 20 جنوری 2026 کو خاندان کے افراد اور مقامی لوگوں نے تجابان میں سی پیک شاہراہ کو بند کرکے احتجاج کیا اور ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔ حکام کی جانب سے رحمدل بلوچ کی بازیابی کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا، مگر یہ وعدے محض دھوکہ ثابت ہوئے۔

بی وائی سی نے کہاکہ پانچ ماہ تک بے یقینی، اذیت اور انتظار کے بعد 20 جون 2026 کی صبح رحمدل بلوچ کی مسخ شدہ لاش بانک چڈائی کیچ کے علاقے میں پھینکی ہوئی ملی۔ اس واقعے نے ایک اور بلوچ خاندان کو ناقابلِ تلافی صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ رحمدل بلوچ کا قتل بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ بلوچستان کے سینکڑوں خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے دربدر ہیں۔ بہت سے خاندان مہینوں اور برسوں تک اپنے لاپتا عزیزوں کی واپسی کی امید لگائے بیٹھے رہتے ہیں، مگر آخرکار انہیں ان کی لاشیں وصول ہوتی ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی رحمدل بلوچ کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور اجتماعی سزا کی پالیسی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے۔