بنتِ خاک سے طوفانِ آہن تک – برزکوہی

218

بنتِ خاک سے طوفانِ آہن تک

تحریر: برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

سدو کے ظہور میں کوئی ڈرامائیت نہیں تھی۔ نہ اس نے اپنے گرد کوئی اسطورہ تعمیر کیا، نہ اپنی آمد کا اعلان کیا، نہ اپنے لیئے وہ زبان تراشی جس کے ذریعے لوگ اپنی ذات کو اپنے عمل سے بڑا بنا لیتے ہیں۔ برسوں تک وہ انہی لوگوں کے درمیان موجود رہی جن کے درمیان اب بھی موجود ہے، انہی راستوں پر چلتی رہی، انہی گفتگوؤں میں شریک رہی، انہی خطرات کے ساتھ زندگی بسر کرتی رہی۔ مگر بعض شخصیات کا اصل ظہور اُس دن نہیں ہوتا جب وہ پہلی بار لوگوں کی نگاہ میں آتی ہیں، بلکہ اُس دن ہوتا ہے جب لوگ اچانک محسوس کرتے ہیں کہ جو چیز ان کے سامنے موجود تھی، وہ دراصل ان کے گمان سے کہیں زیادہ بڑی تھی۔ سدوکے متعلق میرا احساس ہمیشہ کچھ ایسا ہی رہا ہے۔

(۱)
بلوچوں کے پہاڑوں کی شامیں شہروں کی شاموں سے مختلف ہوتی ہیں۔ شہروں میں شام روشنیوں کے سپرد ہوجاتی ہے، یہاں شام زمین کے سپرد ہوتی ہے۔ پہاڑ اپنی تاریک قامتوں کو افق پر پھیلا دیتے ہیں، وادیاں سیاہی کے دھندلے حاشیوں میں تحلیل ہونے لگتی ہیں، اور ہوا میں ایک ایسی بو در آتی ہے جسے محض مٹی کی بو کہنا اس کے ساتھ زیادتی ہوگی، کیونکہ اس میں نمک بھی ہے، سوکھی گھاس بھی، شکستہ قافلوں کی گرد بھی، اور شاید ان لوگوں کی سانسوں کی بازگشت بھی جو اس سرزمین پر چلتے چلتے تاریخ کے کسی گم شدہ گوشے میں معدوم ہوگئے۔ سدو اس منظر کو اس طرح نہیں دیکھتی جیسے عام لوگ دیکھتے ہیں۔ وہ منظر کی سطح پر نہیں رکتی، اس کی نگاہ ہمیشہ اس شے کی طرف جاتی ہے جو موجود ہوکر بھی پوری طرح موجود نہیں۔ اسے پہاڑوں میں محض پہاڑ دکھائی نہیں دیتے، اسے ان کے اندر صدیوں کی تہہ نشینی دکھائی دیتی ہے۔ اسے وادیوں میں محض خاموشی سنائی نہیں دیتی، اسے ان کے اندر مدفون گفتگوؤں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

لوگ اکثر اس کی پہلی شناخت اس کے ظاہر میں تلاش کرتے ہیں، حالانکہ سدو کا ظاہر اس کی سب سے کم اہم جہت ہے۔ اس کے متعلق پہلی غلطی یہ کی جاتی ہے کہ اسے محض ایک عورت سمجھا جاتا ہے، اور دوسری یہ کہ اسے ایک استعارہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ چند لمحوں کی گفتگو کے بعد یہ دونوں تعینات اپنی معنویت کھو دیتی ہیں۔ جنس، عمر، وضع قطع، یہ سب تفصیلات پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور سامنے صرف ایک ذہن باقی رہ جاتا ہے، ایک ایسا ذہن جس میں مزاحمت٬ ادراک، سوز جستجو اور استغراق اس درجہ باہم مدغم ہیں کہ ان کی الگ الگ شناخت دشوار ہوجاتی ہے۔

اور اسی ذہن کے نہاں خانوں میں، جہاں حافظہ، کلفتِ آگہی، اور استغراق ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہیں کہ ان کے مابین حدِ فاصل قائم کرنا دشوار ہوجاتا ہے، ایک اور روپ برسوں تک خاموشی سے نشوونما پاتا رہا، وہ روپ جو اب بی ایل اے کے ابلاغی ادارے کے پردے پر، بلوچستان کے کسی نامعلوم، سنگلاخ اور دور افتادہ پہاڑی مقام سے، ایک طویل مزاحمتی پیغام کی صورت میں منظرِعام پر آیا ہے۔ مادی آنکھ نے اسے پہلی بار مسلح خواتین کے ایک منظم ہراول دستے کے درمیان دیکھا، جنگی لباس و سامان سے آراستہ، گرد و غبار، پہاڑ، چٹانیں، خاموش چہرے، اور ان سب کے بیچ ایک ایسی عورت جس کی موجودگی میں عورت ہونا پس منظر میں چلا جاتا ہے اور صرف کمان، ارادہ اور ضبط باقی رہ جاتے ہیں۔

یہ وہی سدو ہے، جسے دنیا اب کمانڈر شہناز بلوچ کے نام سے جانتا ہے اور جسے قریبی ذرائع محبت وقرابت سے سدو پکارتے ہیں۔ کیچ کے تاریخی قصبے تمپ کی مٹی سے ابھرنے والی سدو نے اپنی ابتدائی تعلیمی ساعتیں اویسس اسکول کے صحنوں میں گزاریں، پھر تمپ ڈگری کالج میں اپنے اعلیٰ تعلیم کا سفر طے کیا۔ طالبِ علمی کے انہی ایام میں وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے فکری حلقوں سے وابستہ رہی۔ وہ بی ایس او – آزاد جس نے بلوچ مزاحمتی سیاست میں ہمیشہ ایک نرسری، ایک ابتدائی مدرسہ، ایک فکری زینہ اور ایک دریچے کا کردار ادا کیا ہے، جہاں نوجوان ذہن پہلی بار قوم، تاریخ، محکومی، آزادی اور انسان کے وقار کو محض کتابی الفاظ نہیں بلکہ اپنی زندگی کے بنیادی سوالات کے طور پر محسوس کرنے لگتے ہیں۔

سدو محض ایک عام گوریلا جنگجو نہیں۔ اس کی معنویت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ وہ بلوچ مزاحمتی تاریخ میں پہلی ایسی خاتون کمانڈر کے طور پر سامنے آئی ہے جس نے تنظیمی صفوں میں کمان، قیادت اور تدبیر کے مدارج کو اپنے وجود میں جذب کیا ہے۔ اس کی شخصیت کی سب سے پختہ اور پر اسرار جہت یہ ہے کہ وہ سات برس سے زائد عرصے تک اس دشوار راستے پر گامزن رہی، ایک عام سپاہی کی حیثیت سے آغاز کیا، پھر رفتہ رفتہ قیادت کے اس مقام تک پہنچی۔ مگر اس تمام سفر کے دوران اس کی رازداری، نظم، ضبط اور باطنی احتیاط کا یہ عالم رہا کہ اس کے انتہائی قریبی ہم نشینوں اور روزمرہ کے ساتھیوں کو بھی اس طویل وابستگی کی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ یہ پوشیدگی محض خفیہ پن نہیں تھی، یہ اس کے مزاج کا حصہ تھا، وہ مزاج جو ذاتی نمائش، خود غرضی، سستی شہرت اور اپنے گرد مصنوعی اسطورہ تراشنے کی خواہش کو اپنے نزدیک بھٹکنے بھی نہیں دیتا۔

اور شاید اسی لیئے اس کے وجود میں ایک آہنی مگر غیر متکبر اعتماد ہے۔ اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے آدمی کو بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانے کی معمول کی رفتار سے نہیں سوچتی۔ وہ فوری نتائج کی قائل نہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں جو ہر سوال کیلئے پہلے سے تراشا ہوا جواب رکھتے ہیں۔ اسے عجلت نہیں ہوتی، شاید اسلیئے کہ اسے معلوم ہے کہ زندگی کی اکثر اہم حقیقتیں سیدھی لکیر میں نہیں ملتیں۔ وہ تہہ در تہہ ہوتی ہیں، ہر تہہ کے نیچے ایک اور تہہ، ہر پردے کے پیچھے ایک اور پردہ، یہاں تک کہ آدمی کو معلوم ہی نہیں رہتا کہ وہ حقیقت کی طرف بڑھ رہا ہے یا حقیقت کے امکان کی طرف۔ سدو شاید اسی سبب جوابوں سے زیادہ ساختوں میں دلچسپی لیتی ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ جو لوگ صرف جوابوں کے تعاقب میں رہتے ہیں، وہ اکثر ان سوالوں کی ماہیت ہی کھو بیٹھتے ہیں جن سے تمام جواب جنم لیتے ہیں۔

کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ سدو کی اصل وابستگی حال سے نہیں بلکہ خود زمانے سے ہے۔ وہ اپنے عہد کے اندر رہتی ضرور ہے مگر اس کی نگاہ صرف موجود لمحے پر نہیں رکتی۔ جب وہ کسی واقعے کے بارے میں گفتگو کرتی ہے تو اس کے سامنے ہمیشہ اس کا ماقبل اور مابعد بھی کھلا رہتا ہے۔ اس کیلئے ہر واقعہ کسی طویل سلسلہ ایام کا ایک جزو ہوتا ہے، اسی لیئے وہ چیزوں کو کبھی ان کی فوری صورت میں قبول نہیں کرتی۔ اسے ہر مسئلے کی جڑ تلاش کرنے کی عادت ہے، اور پھر اس جڑ کے نیچے موجود ایک اور جڑ کی۔ بعض لوگ نتائج سے آغاز کرتے ہیں، سدو اسباب سے آغاز کرتی ہے۔ بعض لوگ جوابوں کی طرف دوڑتے ہیں، سدو سوال کی ساخت کا معائنہ کرتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے اس کی گفتگو میں اکثر ایک ایسا توقف موجود رہتا ہے جو بے خبری کا نہیں بلکہ غورکا توقف ہوتا ہے۔

(۲)
اب شام مزید گہری ہو چکی ہے۔ پہاڑ تاریکی میں مدغم ہو رہے ہیں۔ دور کہیں ایک تنہا چراغ لرز رہا ہے۔ ہوا سرد ہونے لگی ہے۔ سدو خاموش بیٹھی ہے اور میں یہ سوچ رہا ہوں کہ شاید سدو کی اصل اہمیت اس میں نہیں کہ وہ کیا جانتی ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ چیزوں کو کس طرح دیکھتی ہے۔ دنیا میں علم رکھنے والے لوگ کم نہیں، مگر باطن بینی رکھنے والے لوگ نایاب ہیں۔ اور سدو ان نایاب لوگوں میں سے ہے، جو ہر شے کو اس کی سطح پر نہیں بلکہ اس کے باطن میں دیکھنے کی ضد رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیئے اس کی صحبت میں آدمی کو اپنے بارے میں بھی ایسی چیزیں معلوم ہونے لگتی ہیں جنہیں وہ برسوں سے جانتا تو تھا مگر ان کا ادراک نہیں رکھتا تھا۔ اور شاید یہی وہ موڑ ہے جہاں کسی شخصیت کا تعارف ختم ہوتا ہے اور اس کی اصل کہانی شروع ہوجاتی ہے۔

مجھے یاد نہیں کہ کتنی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ لوگ کسی مسئلے پر طویل بحث میں مبتلا ہوں اور سدو خاموش بیٹھی ہو۔ وہ فوراً مداخلت نہیں کرتی۔ شاید اسلیئے کہ اسے معلوم ہے کہ اکثر گفتگوئیں اپنے ابتدائی مرحلے میں دراصل خیالات کا اظہار نہیں بلکہ جذبات کا اخراج ہوتی ہیں۔ لوگ بولتے ہیں تاکہ اپنی بے چینی کو ترتیب دے سکیں۔ لوگ دلائل دیتے ہیں تاکہ اپنے یقین کو محفوظ رکھ سکیں۔ لوگ تاریخ کا حوالہ دیتے ہیں تاکہ اپنے حال کو جواز عطا کرسکیں۔ سدو ان سب کو سنتی ہے، مگر اس کی سماعت کا مرکز الفاظ نہیں ہوتے۔ وہ ان مفروضات کو سنتی ہے جن پر الفاظ تعمیر کیئے گئے ہوتے ہیں۔ وہ ان خاموش مقدمات کو دیکھتی ہے جنہیں سب نے مان لیا ہے مگر کسی نے بیان نہیں کیا۔ اسی لیئے جب وہ آخرکار بولتی ہے تو اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گفتگو پہلی مرتبہ اپنے اصل موضوع کے قریب پہنچی ہے۔

اس کی طبیعت میں ایک عجیب قسم کا استنکاف ہے۔ وہ آسان توضیحات کو قبول نہیں کرتی۔ اسے ان بیانیوں سے بھی احتراز ہے جو ہر مسئلے کا واحد سبب تلاش کرلیتے ہیں، اور ان سے بھی جو ہر حقیقت کو اس درجہ پیچیدہ بنا دیتے ہیں کہ کوئی اخلاقی موقف باقی نہ رہے۔ اس کے نزدیک دنیا نہ اتنی سادہ ہے جتنی خطائب بیان کرتے ہیں، نہ اتنی مبہم جتنی بعض فلاسفہ تصور کرتے ہیں۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان ایک دشوار مقام پر کھڑی ہوتی ہے، جہاں آدمی کو بیک وقت وضاحت بھی درکار ہوتی ہے اور یقین بھی۔ شاید اسی لیئے سدو اپنی رائے کو کبھی آخری کلمہ نہیں بناتی۔ وہ نتیجہ اخذ کرتی ہے، مگر نتیجے کی پرستش نہیں کرتی۔

بلوچستان کے متعلق اس کی گفتگو سننا ایک الگ تجربہ ہے۔ اسلیئے نہیں کہ وہ کوئی غیر معمولی دعوے کرتی ہے، بلکہ اسلیئے کہ وہ اس سرزمین کو ایک واحد داستان میں مقید کرنے سے انکار کرتی ہے۔ اس کے نزدیک کوئی قوم صرف اپنی مظلومیت سے نہیں بنتی، جس طرح کوئی قوم صرف اپنی فتوحات سے بھی نہیں بنتی۔ قومیں یادداشت، خطا، وقار، خوف، مزاحمت، بصیرت، حماقت، استقامت اور تغافل کے پیچیدہ امتزاج سے بنتی ہیں۔ اسی لیئے وہ ہر اس بیان سے محتاط رہتی ہے جو تاریخ کو محض نوحہ یا محض فخر میں تبدیل کردے۔ اس کے نزدیک دونوں صورتیں حافظے کے ساتھ ناانصافی ہیں، کیونکہ دونوں انسان کو حقیقت کے صرف ایک رخ سے آشنا کرتی ہیں۔

اسی تاریخی شعور کی بازگشت اس کی حالیہ گفتگو میں بھی سنائی دیتی ہے، جہاں وہ بلوچ عورت کی داستان کو محض حال کے آئینے میں نہیں بلکہ تاریخ کے طویل سلسلہ ایام میں دیکھتی ہے۔ اس کے نزدیک بلوچ معاشرے میں عورت کا مقام کوئی نووارد یا مستعار مقام نہیں، بلکہ اس اجتماعی روایت کا حصہ ہے جس میں عزت، وقار اور شرکت ہمیشہ ایک دوسرے سے پیوست رہے ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ تاریخ خود اس امر کی شاہد رہے گی کہ بلوچ عورت سماجی وسیاسی زندگی میں کبھی محض حاشیے کی مخلوق نہ تھی، بلکہ مرد کے شانہ بشانہ زندگی کے دشوار مرحلوں، اجتماعی فیصلوں اور قومی سرنوشت کے معاملات میں شریک رہی ہے۔ اسی ضمن میں وہ میر چاکر خان رند کی ہمشیرہ بانڑی بلوچ کا حوالہ دیتی ہے، جس کی شخصیت اس کے نزدیک اس امر کی روشن شہادت ہے کہ صدیوں قبل بھی قیادت، تدبیر اور معرکہ آرائی کے میدان بلوچ عورت کیلئے اجنبی نہ تھے۔

سدو کی نگاہ میں اس روایت کا انقطاع فطری نہ تھا۔ وہ سمجھتی ہے کہ پہلے سینڈیمنی نظم نے بلوچ معاشرت کی بہت سی قدیم ساختوں کو کمزور کیا اور بعد ازاں پاکستانی قبضہ گیری نے اس تفریق کو مزید گہرا کرتے ہوئے سیاسی، ثقافتی اور سماجی سطحوں پر انتشار اورجنسی افتراق کی نئی صورتیں پیدا کیں۔ مگر اس کے نزدیک تاریخ کا سفر ہمیشہ یک رخا نہیں رہتا۔ اسی لیئے وہ اس بات پر اصرارکرتی ہے کہ مزاحمت کے موجودہ مرحلے میں مرد وزن ایک بار پھر ایک ہی صف، ایک ہی سنگت اور ایک ہی مقصد کے تحت مجتمع ہوئے ہیں۔ اس کے خیال میں اس تبدیلی کے پس منظر میں وہ فکری زاویہ کارفرما ہے، جس نے قربانی، رفاقت اور اجتماعی ذمہ داری کو جنس کی حدود سے ماورا ایک قومی فریضہ قراردیا، اور یوں عورت ومرد کے مابین قائم مصنوعی فاصلوں کو دوبارہ سوال کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔

اسی فکری پختگی کی بنا پر سدو روایتی، فرسودہ اور مصلحت اندیش سیاسی مزاج سے بھی الگ دکھائی دیتی ہے اور غیر منظم، غیر اصولی، غیر انقلابی جنگی اطوار سے بھی اپنی ذات کو محفوظ رکھتی ہے۔ اس کے اندر ذاتی نمود، خود غرضی اور سستی شہرت کی ارزاں خواہش نہیں پائی جاتی۔

وہ بلوچ قوم کو متنبہ کرتی ہے کہ جبر کے سامنے خاموشی اختیار کرنا محض سیاسی کمزوری نہیں بلکہ قومی غیرت، اجتماعی شرف اور انسانی وقار کے منافی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ بلوچ خواتین کو بھی مخاطب کرتی ہے، مگر انہیں محض جذبے، علامت یا وقتی ابال کے طور پر نہیں پکارتی، وہ چاہتی ہے کہ عورتیں اس تحریک میں علم، شعور، حکمت اور فکری بصیرت کے ساتھ شامل ہوں، کیونکہ اس کے نزدیک وہ شرکت جو آگہی سے خالی ہو، دیرپا معنویت پیدا نہیں کرسکتی۔ حریف کی عسکری قوت کو للکارتے ہوئے اس کا لہجہ مزید سخت، مزید صریح اور مزید آہنی ہوجاتا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ بلوچستان کی بیٹیاں اب نرم ہدف نہیں رہیں، وہ اس جبر کے مقابل طوفان کی مانند اٹھ کھڑی ہوئی ہیں اور اس خطے کے سب سے بڑے عسکری ڈھانچے کے اقتدار کو براہِ راست چیلنج کررہی ہیں۔

سدو کا ایک اور وصف مجھے ہمیشہ متوجہ کرتا ہے، وہ یہ کہ سدو شکست اور کامیابی دونوں کو عارضی حالتیں سمجھتی ہے۔ بہت سے لوگ شکست میں اپنی پوری شناخت کھودیتے ہیں، اور بہت سے لوگ کامیابی میں۔ سدو دونوں سے ایک فاصلہ قائم رکھتی ہے۔ اس کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ ایک قوم نے کتنی کامیابیاں حاصل کیں یا کتنی ناکامیاں برداشت کیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان تجربات نے اس کے شعور کے ساتھ کیا کیا۔ کیا اس نے ان سے کچھ سیکھا؟ کیا اس نے اپنے آپ کو بہتر سمجھا؟ کیا اس نے اپنے فریبوں کو پہچانا؟ اگر نہیں، تو فتح بھی شکست کی ایک مہذب صورت بن جاتی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ وہ امید کو بھی مختلف انداز میں سمجھتی ہے۔ اس کیلئے امید کوئی جذباتی کیفیت نہیں، نہ ہی کوئی خودکار یقین۔ امید ایک فکری اور اخلاقی عمل ہے۔ وہ آدمی سے تقاضہ کرتی ہے کہ وہ حقیقت کو اس کی تمام دشواریوں کے ساتھ دیکھے، مگر اس کے باوجود مستقبل کے امکان سے دستبردار نہ ہو۔ اسی لیئے سدو کے اندر خوش فہمی نہیں ملتی، مگر مایوسی بھی نہیں ملتی۔ اس کے ہاں ایک تیسری کیفیت موجود ہے، جسے شاید استقامت کہا جاسکتا ہے۔ وہ استقامت جو انسان کو شور کے بغیر اپنے مقام پر قائم رکھتی ہے۔

(۳)
رات اب اپنے آخری مدارج میں ہے۔ آسمان کی سیاہی میں وہ گہرائی پیدا ہوچکی ہے جو صرف اُن ساعتوں میں پیدا ہوتی ہے جب فجر ابھی وارد نہیں ہوئی ہوتی مگر تاریکی کے اقتدار میں پہلی غیر مرئی دراڑ پڑچکی ہوتی ہے۔ بلوچوں کے پہاڑ اپنی تمام سنگلاخی اور وقار کے ساتھ بدستور موجود ہیں، مگر نظر سے اوجھل، جیسے صدیوں کے بوڑھے محافظ جنہوں نے اپنی نگہبانی ترک نہیں کی مگر اپنے وجود کا اعلان کرنا چھوڑ دیا ہو۔ وادیاں اپنے اندر بے شمار آوازیں، بے شمار نام, بے شمار گمنام زندگیاں سمیٹے خاموش پڑی ہیں۔ ہوا جب ان کے درمیان سے گزرتی ہے تو مجھے ہمیشہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زمین اپنے اہل خاک رفتگاں سے گفتگو کررہی ہو۔ بلوچستان میں بعض راتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں آدمی کو اپنے زمانے سے زیادہ اپنے ماقبل کا احساس ہوتا ہے، گویا ایام کی تمام تہیں ایک دوسرے کے اوپر سے سرک گئی ہوں اور اچانک تاریخ، یادداشت، خواب، ہجرت، شکست، آرزو, خون، محبت، سب ایک ہی تاریک ندی میں بہتے ہوئے دکھائی دینے لگیں۔

سدو مجھے اب کسی ایک چہرے، ایک آواز، ایک گفتگو، ایک مجلس، یا ایک واقعے کی صورت میں یاد نہیں آرہی۔ وہ مجھے اُس جوھر کی طرح یاد آرہی ہے جس سے زمانے اپنی نایاب شخصیتیں تراشتے ہیں۔ جیسے مٹی میں نمک شامل ہو، جیسے پانی میں کوئی معدنی کیفیت شامل ہو، ویسے ہی بعض ارواح میں ایک ایسی چیز شامل ہوتی ہے جس کا کوئی نام نہیں رکھا جاسکتا۔ وہ محض علم نہیں، وہ ذہانت نہیں، وہ شجاعت نہیں، وہ استقامت بھی نہیں۔ وہ شاید ان سب سے پہلے کی کوئی شے ہے۔ کوئی قدیم جوہر، کوئی داخلی قامت، کوئی ایسا مخفی محور جس کے گرد انسان کا باطن گردش کرتا ہے اور جس کے ٹوٹتے ہی آدمی اپنے ہی اندر اجنبی ہوجاتا ہے۔

سدو کا بطورِ کمانڈر منظرِ عام پر آنا محض ایک فرد کا ظہور نہیں، بلکہ ایک ایسے تنظیمی اور علامتی ارتقا کا نقطہ عروج ہے جس کی نمایاں تمہید ۲۰۲۲ میں شاری کے فدائی سے رقم ہوئی، جب مزاحمت کے بیانیئے میں پہلی مرتبہ فدائیت کا ایک نسائی رخ پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوا اور عورت، ارادہ، ایثار اور مسلح جدوجہد کے باہمی تعلق نے پورے خطے میں ایک نئی فکری ہلچل کو جنم دیا۔ اس کے بعد سمعیہ قلندرانی، ماہل، دروشم بلوچ، حتم ناز، بانڑی، زرینہ بلوچ، مریم بزدار، حوا اور آصفہ مینگل جیسی مختلف معاشرتی اور تعلیمی پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین کی فددائیت نے اس سلسلہ ارتقا کو مزید وسعت بخشا۔ یوں بلوچ مزاحمت برائے آزادی میں عورت کی موجودگی محض علامتی یا استثنائی نہ رہی، بلکہ بتدریج مزاحمت کی عملی، تنظیمی اور عسکری نمایاں باب بنتی چلی گئی۔

تاہم اس تغیر کی جڑیں صرف پہاڑوں، مورچوں اور معرکوں میں نہیں ملتیں۔ انہی برسوں میں بلوچ قومی زندگی کا ایک اور منظر بھی ابھر رہا تھا، جہاں ماہ رنگ بلوچ، جیسی بیٹی جبری گمشدگیوں، سیاسی حقوق اور اجتماعی انصاف کے مطالبات کو لے کر احتجاجی کاروانوں، دھرنوں اور عوامی تحریکوں کی صفِ اوّل میں دکھائی دے رہی تھی۔ یہ بھی مزاحمت ہی کی ایک صورت تھی۔ یہ ایک ایسا راستہ تھا، جو اس امید کے ساتھ اختیار کیا گیا کہ صدائے احتجاج شاید سنگ دل کالونیل ایوانوں تک رسائی حاصل کرسکے۔ مگر بلوچ سرزمین پر نافذ نوآبادیاتی حکمرانی نے اس امید کو بھٹی میں ڈال دیا۔ گرفتاریاں، تھری ایم پی او، فورتھ شیڈول، سیاسی کارکنوں کی تعزیر، اور پھر جبری گمشدگیوں کے اس سلسلے کا عورتوں تک پھیل جانا، یہ سب واقعات بلوچ اجتماعی شعور میں محض سرکاری اقدامات کے طور پر محفوظ نہیں ہوئے، بلکہ ایک وسیع تر تجربہ غلامی، بے دخلی اور محکومی کی علامات بن گئے۔

سدو اسی تغیر پذیر عہد کی ایک نئی صورت بن کر ابھری ہے۔ اگر ماہ رنگ اور اس کی ہم عصر خواتین، بلوچ عورت کی سیاسی خود آگاہی اور پرامن مزاحمت کا استعارہ ہیں، تو سدو اسی بیداری کا ایک اور، زیادہ سخت، زیادہ تصادمی اور زیادہ غیر مصالحت پسند اظہار ہے۔

(۴)
اب دور افق پر ایک مدھم سفیدی نمودار ہو رہی ہے۔ ابھی تک صبح نہیں ہوئی، صرف تاریکی کی مطلق العنانی میں پہلی دراڑ پڑی ہے۔ میں اس لمحے میں سدو کو کسی فرد، کسی نام، کسی منصب یا کسی تنظیمی مرتبے کی صورت میں نہیں دیکھتا۔ وہ مجھے ایک ایسے دروازے کی مانند محسوس ہوتی ہے جو ابھی ابھی کھلا ہو۔ ایک ایسی راہداری جس کے آخری سرے پر نگاہ ابھی پوری طرح نہیں پہنچ سکتی۔ یہ آغاز ہے۔

(۵)

اب افق کی سفیدی کچھ اور نمایاں ہوگئی ہے۔ پہاڑوں کی سیاہ پیشانیاں آہستہ آہستہ روشنی کی باریک دھار سے منور ہونے لگی ہیں۔ رات ابھی موجود ہے، مگر اس کے لہجے میں پہلے جیسا یقین باقی نہیں رہا۔ اور شاید یہی وہ منظر ہے جس میں سدو کو سمجھا جاسکتا ہے۔ نہ بطورِ یاد، نہ بطورِ افسانہ، نہ بطورِ روایت، بلکہ بطورِ آغاز۔ ایک ایسا آغاز جس کی پوری معنویت ابھی مستقبل کے بطن میں پوشیدہ ہے۔ اس لیئے میں اس کے متعلق کوئی آخری جملہ نہیں لکھتا، کیونکہ آخری جملے اُن لوگوں کیلئے ہوتے ہیں جن کے راستے ختم ہوچکے ہوں۔ سدو ان نامکمل صبحوں میں سے ہے جن کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ سورج ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوا، مگر افق نے اس کی آمد کی شہادت دینا شروع کردی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔