سلیپر سیلز – سنگت ھانلی

55

سلیپر سیلز

تحریر: سنگت ھانلی

دی بلوچستان پوسٹ

حالیہ دنوں شام سے تعلق رکھنے والی قریباً تیس سالہ ایک کردش خاتون سے گفتگو ہوئی، جو 2015 میں کوبانی کی جنگ سے چند ماہ قبل وائی پی جی میں شامل ہوئی تھیں، اور کوبانی ہی اُن کی پہلی جنگ تھی۔ گفتگو کے دوران اُنہوں نے اُس رات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کردش زبان بول رہے تھے اور اُنہوں نے مقامی جنگجوؤں جیسا لباس پہن رکھا تھا، اسی لیے ابتدا میں کسی کو اُن پر شک نہ ہوا۔ بعض گھروں نے تو اُن کے لیے دروازے تک کھول دیے کیونکہ لوگوں کو یقین تھا کہ سامنے اپنے ہی محافظ کھڑے ہیں۔ مگر چند لمحوں بعد اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔ حملہ آور گھروں کے اندر داخل ہونے لگے، عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، عورتوں اور بچوں سمیت دو سو سے زائد افراد مارے گئے، جبکہ کئی لڑکیوں کو “مالِ غنیمت” قرار دے کر اُن کے ساتھ زبردستی کی گئی۔

اگر باریکی سے دیکھا جائے تو یہ جون 2015 کی بات ہے، جب داعش کو چند ہفتے پہلے ہی شام کے سرحدی شہر کوبانی میں کردش جنگجوؤں کی طرف سے بڑی شکست ہوئی تھی۔ کرد جنگجو تنظیم وائی پی جی اور اُن کے اتحادی شہر کا زیادہ حصہ واپس لے چکے تھے اور ایک طویل خونریز معرکے کے بعد لوگوں کو محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید اب کوبانی دوبارہ سنبھل جائے گا۔ مگر 25 جون کی صبح قریباً چار بجے سرحد کے قریب ہر سمت سے تین، اور شہر کے اندر ملٹری پروٹیکشن کیمپس پر متعدد خودکش دھماکے ہوئے (جن میں کم از کم چار چار ہزار کلو بارود استعمال کیے گئے تھے) اور ان کے فوراً بعد سینکڑوں داعش جنگجو بھاری ہتھیاروں کے ساتھ شہر میں داخل ہو گئے۔ اچانک مختلف علاقوں میں شدید فائرنگ شروع ہوئی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کا ایک حصہ پہلے سے ہی شہر میں موجود تھا اور باہر سے آنے والوں کو سہولت فراہم کر رہا تھا۔ بعد کی اطلاعات کے مطابق کئی حملہ آوروں نے کرد اور مخالف جنگجوؤں جیسی وردیاں پہن رکھی تھیں، اور وہ اس حد تک مقامی ماحول میں گھل مل چکے تھے کہ وائی پی جی جیسے مڈل ایسٹ کے سب سے زیادہ تجربہ کار جنگجو بھی ابتدا میں انہیں پہچان نہ سکے۔ کچھ افراد پہلے سے شہر میں سلیپر سیل کے طور پر موجود تھے جبکہ باقی انہی راستوں اور چوکیوں سے گزرے جن سے عام اتحادی جنگجو گزرتے تھے۔

یہ بات درست ہے کہ داعش کی اس کو زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے سلیپر سیل کو صرف ایک منفی یا دہشت گردی سے جوڑنے والا لفظ سمجھنا اس کے پورے تصور کو محدود کر دیتا ہے۔ اصل میں یہ اصطلاح عسکری اور انٹیلیجنس دنیا سے آئی ہے، جہاں “sleeping” سے مراد یہ ہے کہ کوئی فرد یا نیٹ ورک فوری ایکشن میں نہیں ہوتا بلکہ ایک مخصوص وقت تک اپنی موجودگی کو نمایاں کیے بغیر ماحول میں موجود رہتا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر فعال ہو سکے۔

یہ تصور کولڈ وار کے دور میں زیادہ واضح ہوا، جب مختلف ریاستیں ایک دوسرے کے اندر ایسے ایجنٹس یا نیٹ ورکس تیار کرتی تھیں جو فوری کارروائی نہیں کرتے تھے بلکہ برسوں تک عام زندگی کا حصہ رہ کر معلومات اکٹھی کرتے یا مخصوص وقت پر متحرک ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

اگر اسے وسیع زاویے سے دیکھا جائے تو یہ صرف جنگی یا پرتشدد تناظر تک محدود نہیں رہتا۔ کسی بھی بڑی حکمتِ عملی میں، چاہے وہ سیاسی ہو، سماجی ہو یا تنظیمی، بعض اوقات افراد یا گروہ فوری ردعمل دینے کے بجائے طویل مدت تک مشاہدہ، سیکھنے اور ماحول کو سمجھنے کے مرحلے میں رہتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں کے بجائے درست وقت پر درست قدم اٹھا سکیں۔

اب اگر یہی سیکریسی بلوچ کی لینس سے دیکھیں تو پاکستان کے بے دریغ بجٹ اور اثاثوں کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔ انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ اس نے اپنی تمام جنگی و استخباراتی مشینری اور ٹیکنالوجی کو چوبیس گھنٹے بلوچ نوجوانوں کے پیچھے لگا رکھا ہے اور یہ کام انہوں نے بہت ہی سنجیدگی سے شروع کیا ہے۔

اب بلوچ نوجوان کیا کر رہے ہیں؟ بلوچ فرزند اب ماشاءاللہ اتنے عقل مند ہو چکے ہیں کہ انسٹاگرام، ٹک ٹاک پر اپنا نام رکھتے ہیں، اپنا علاقہ لکھتے ہیں، اپنی تصویر لگاتے ہیں، اور پھر کیا لکھتے ہیں؟ کہ میں مسلح جدوجہد کو سپورٹ کرتا ہوں، استاد میر احمد کے انقلابی گانوں پر اپنی تصویر ڈال کر کیپشن میں آزادی کے ایسے تحریر لکھ ڈالتے ہیں کہ عام پاکستانی تو کیا، ایجنسیوں کے بھی تن بدن میں آگ لگ جائے: “میں اپنی قوم کے لیے ہوں”، “میں آزادی چاہتا ہوں”، “میں اس شہید کا دوست ہوں”، “میں اس شہید کے نظریے سے متاثر ہوں”۔ آپ کو کیا لگتا ہے اس نوجوان کے پاس کتنا وقت ہوگا؟ زیادہ سے زیادہ دو دن؟ دو ہفتے؟ دو مہینے؟ چھ مہینے؟ قریباً تین ہفتے پہلے ایک ایسا ہی ساتھی نوجوان لاپتہ ہوا جسے ہم ہمیشہ اسی چیز کے لیے وارن کیا کرتے تھے۔

کیونکہ پھر سی ٹی ڈی، آئی ایس آئی، مقامی ڈیتھ اسکواڈز، ایم آئی کے آدمی بھی تو بیٹھے ہیں، ان کے پاس ہر علاقے میں مخبر موجود ہیں اور نوجوانوں کے ہزاروں نام ہیں۔ وہ ایک ایک کو سرچ کرتے ہیں، اور جیسے ہی وہ یہ پوسٹ دیکھتے ہیں تو فوری طور پر اس نوجوان کی فائل تیار ہو جاتی ہے۔ اور خواہ مخواہ ہونا بھی ایسا ہی چاہیے کیونکہ بدقسمتی سے دشمن کے پاس نہ تو ہماری جیسی سائیکی ہے، نہ بے وقوفانہ بہادری، اور نہ ہی وقت جسے وہ سوشل میڈیا کے بے مقصد بحث مباحثوں اور اپنی شناخت کے ساتھ ریڈیکل چیزیں پوسٹ کرنے میں لگا دے۔

اب وہ ٹارچر سیل میں ذلیل ہوتا امیچور فرزند کرے تو کیا کرے؟ جبکہ وہ مسلح یا سیاسی کسی طرح کی جدوجہد سے جڑا تک نہیں، اس کے لیے فائدہ مند ہونا دور کی بات۔ مگر دشمن کے پاس اس کی پوسٹس ثبوت ہیں، وہ ان چیزوں کو سپورٹ کرتا رہا ہے۔ اب کیا آپ کو نہیں لگتا، خدا نہ خواستہ، اس کی زندگی تحریک کے لیے بھی ناکارہ ہو سکتی ہے؟ تحریک چھوڑیں، اس کے اپنے لیے بھی ناکارہ۔ اب ہر روز ریاست کے کچھ غلیظ اہلکار اپنے بدبودار وجود کے ساتھ اس کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کریں، اس کے سفید ریش والدین کو تشدد کا نشانہ بنائیں، اس کی بہنوں کو بے عزت کریں، اس کے گھر سے قیمتی سامان چرا لے جائیں—کون ذمہ دار ہے؟ اگر سالوں سال اسے ٹارچر سیلز میں رکھا جائے؟ اگر سالوں سال اسے بند کمروں میں رکھا جائے؟ اگر اس کے ساتھیوں کے نام اس سے پوچھے جائیں؟ اور اس کی وجہ سے اور بے گناہ بھی انہی عقوبت خانوں کی زینت بن جائیں؟ کون ہوگا ذمہ دار آخر؟

کماش نے برسوں پہلے ایک نہایت اہم بات کہی تھی، جو میرے خیال میں آزادی کے لیے تشنہ ہر بلوچ کو اپنے ذہن میں نقش کر لینی چاہیے: “میں نے جتنا بھی مشاہدہ اور مطالعہ کیا ہے، اُس سے یہی سمجھ آیا کہ بلوچ تحریک کو آج تک جو بھی بڑا یا چھوٹا نقصان پہنچا، اُس کی بنیاد صرف اور صرف ہماری اپنی لاپروائی، آزاد خیالی، سستی اور بے احتیاطی رہی ہے۔

اور راز فاش کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ بیٹھ کر باتیں کریں یا معلومات بانٹیں؛ رازداری توڑنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ اپنی نشست، اپنے انداز، اپنے علاقے، اپنی سنگت، حتیٰ کہ اپنے فکر و خیالات سے بھی ایسے تاثرات اور امپریشن دیں جو پردے اٹھا دیں۔ کیونکہ تحریک کے اندر کی غفلت اور کمزوری کے بغیر کسی نقصان کا پہنچ جانا تقریباً ناممکن ہے۔”

آج بلوچستان میں آزادی کی جدوجہد میں ہر شخص کے لیے دو دنیائیں ہیں، اور ان دونوں کو ہر قیمت پر الگ الگ رکھنا ہے۔ پہلی دنیا: آپ اور وہ لوگ جو آپ کو ذاتی طور پر جانتے ہیں، جو آپ کے ساتھ جسمانی طور پر ہیں، آپ کے قریبی دوست، آپ کے ہمسائے، حتیٰ کہ آپ کی فیملی کے لوگ۔ یہاں کچھ نہ کہیں، یہاں محدود رہیں، کیونکہ جو لوگ آپ کو جانتے ہیں وہ آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں—عمداً یا سہواً، قصداً یا اتفاقاً، شعوری یا لاشعوری طور پر، براہِ راست یا بالواسطہ، ظاہر یا پوشیدہ، حق یا ناحق، قریب یا بعید۔ والدین کی پریشانی، ایک بہن کی بیوقوفی، ایک دوست کی غلطی، ان کے منہ سے نکلے چند الفاظ اور آپ ان ٹارچر سیلز میں، جہاں سے سلامت واپسی ایک اتفاق ہی ہو سکتی ہے محض۔

دوسری دنیا: آپ اور وہ لوگ جو صرف نظریے کی بنیاد پر جڑے ہوئے ہیں، جن کو آپ نہیں جانتے، جو آپ کو نہیں جانتے، جن سے آپ صرف انٹرنیٹ یا دیوان سرکلز میں ملتے ہیں۔ یہاں بات کر سکتے ہیں، مگر صرف جدوجہد کے لیے، اس سے زیادہ نہیں۔ یہ دونوں دنیائیں کبھی ملنی نہیں چاہئیں۔ جو آپ اپنے گھر میں ہیں وہ انٹرنیٹ پر نہیں۔

تو یہ بعید نہیں کہ بہت سے لوگ اسے ماننے کے لیے آمادہ نہ ہوں، اور بہت سوں کو یہ محض ایک سادہ سی بات محسوس ہو۔ مگر ایک حقیقت پسند کے نزدیک یہی وہ فکر ہے جو مسلح جدوجہد کی روح کو زندہ رکھتی ہے۔

رازداری کا مطلب یہ ہے کہ آپ دونوں دنیاؤں میں ایک مختلف شخص بن جائیں۔ آپ کے گھر میں آپ ایک ہیں، انٹرنیٹ پر آپ دوسرے ہیں۔ آپ کے نام مختلف ہو سکتے ہیں، آپ کے علاقے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن دونوں میں یہ ربط نہ ہو کہ وہ ایک ہی شخص ہے۔

اب اگر کوئی سوشل میڈیا کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا چاہے تو پہلے سیکھے۔ سیکھے کہ پروپیگنڈا کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے، کہ نیریٹو بنتا کیسے ہے، کہ لوگ کن چیزوں پر یقین کرتے ہیں اور کن چیزوں پر نہیں کرتے، کہ کیسے ایک اینانیمس نام سے بھی کوئی طاقتور پیغام دیا جا سکتا ہے۔

آخر میں بس یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اصل توجہ کس پر ہونی چاہیے۔ کیا ہم فرد کی نمائش میں الجھے رہیں یا تنظیم اور تحریک کے تسلسل کو مقدم رکھیں؟ سوال یہ ہے کہ مرکزِ نگاہ “میں” ہو یا “ہم”؟

اصل بات تو یہ ہے کہ جب نظریہ غالب آ جائے تو شخصیت پیچھے رہ جاتی ہے، اور جب شخصیت غالب آ جائے تو نظریہ دھندلا جاتا ہے۔ اگر انسان خود کو مسلسل مرکز میں رکھے تو اس کی شناخت شاید وقتی طور پر روشن رہے، مگر اس کے خیالات محدود ہو جاتے ہیں۔ اور اگر وہ خود کو نظریے کے اندر گم کر دے تو پھر اس کے خیالات وقت سے آگے نکل جاتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔ ٹیکنالوجی، معلومات، انٹیلیجنس سب کچھ اتنا ترقی یافتہ ہو گیا ہے کہ کوئی بھی راز زیادہ دیر تک راز نہیں رہ سکتا۔ لیکن اسی دنیا میں ایک اور حقیقت سلیپر سیل آپریشنز ہیں، اور ایک طرف ہمارے بلوچ بیٹے اور بیٹیاں ہیں جو کچھ کیے بغیر ہی اپنے جذبات کی وجہ سے ٹارچر سیلز میں ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔