بلوچستان: فوجی آپریشن، 10 افراد جبری گمشدگی کا شکار

19

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مزید 10 افراد کے جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خضدار، سوراب اور نوشکی میں پاکستانی فورسز کے آپریشنز اور چھاپوں کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ضلع نوشکی کے علاقے کلی مینگل مل میں آج صبح پاکستانی فورسز نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق تقریباً 20 گاڑیوں پر مشتمل فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی لی۔ آپریشن کے دوران سات افراد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

نوشکی سے جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے افراد کی شناخت شاہ خالد، محمد عرفان، محمد نیاز، نور محمد، محمد عارف، علاؤالدین اور عبدالباسط کے ناموں سے ہوئی ہے۔

ضلع خضدار کے علاقے ڈاکٹر کالونی سے 25 مئی 2026 کی شب تقریباً 2 بجے سیف الرحمان ولد محمد یعقوب (عمر 25 سال)، جو پیشے کے اعتبار سے دکاندار ہیں، کو سی ٹی ڈی اور ایم آئی کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

دوسری جانب ضلع سوراب کے علاقے حاجیکا میں یکم جون 2026 کی صبح تقریباً 6:30 بجے ایف سی اہلکاروں نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر عبید اللہ ولد محمد یعقوب (عمر 23 سال) اور خدا بخش ولد صالح محمد (عمر 54 سال) کو حراست میں لیا۔ دونوں افراد پیشے کے اعتبار سے کسان ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

علاوہ ازیں، مولہ میں گذشتہ روز ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق مولہ چٹوک میں پکنک منانے والے افراد پر بھی پاکستانی ہیلی کاپٹروں نے شیلنگ کی ہے، تاہم مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔