شہناز کیوں لڑتی؟ – بادوفر بلوچ

165

شہناز کیوں لڑتی؟

تحریر: بادوفر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اپنی کتاب On the Use and Abuse‏ of History for Life میں نطشے وضاحت کرتے ہیں کہ تاریخ اور زبان دونوں کو حکمران طبقات اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جو چیز ابتدا میں ایک زندہ اور لچکدار تجربہ ہوتی ہے، اسے آہستہ آہستہ ایک “حتمی سچ” میں بدل دیا جاتا ہے۔

اسی طرح Georg Wilhelm Friedrich Hegel اپنی فلسفہ تاریخ میں یہ بتاتے ہیں کہ انسانی شعور تاریخی عمل کے ذریعے ترقی کرتا ہے، اگرچہ ان کا انداز زیادہ منظم اور نظامی ہے۔

سیاست میں اکثر طاقتور بیانیہ ہی سچ سمجھ لیا جاتا ہے، مگر زمینی حقیقت ہمیشہ مختلف ہوتی ہے۔

“آپ کی رائے میری حقیقت نہیں” صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اُن لوگوں کی آواز ہے جو خود کو نظر انداز، غیر نمائندہ یا غلط سمجھا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ بلوچستان کے تناظر میں یہ جملہ سیاسی، سماجی اور انسانی احساسات کی گہری عکاسی کرتا ہے۔ ہر تنازع کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ ایک فریق کی رائے شاید میڈیا میں نمایاں ہو، مگر دوسرے فریق کی حقیقت خاموشی میں چھپی رہ جاتی ہے۔

اکثریت لوگ شعوری یا لاشعوری بلوچستان کو صرف خبروں، سرکاری بیانیہ یا سیکیورٹی کے زاویے سے دیکھتے ہیں، لیکن ہاں رہنے والے افراد کی حقیقت مختلف ہے۔ ان کے لیے اصل مسائل روزگار، تعلیم، بنیادی سہولیات، وسائل پر حق، سیاسی نمائندگی اور شناخت کے تحفظ سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی فرق رائے اور حقیقت کے درمیان فاصلے کو بڑھاتا ہے۔

یہاں احساسِ محرومی کی وجود سے زیادہ قومی بقاء ، قومی دفاع ، قومی شناخت اور قومی آذادی کی نظریاتی و فکری شعور دراصل بلوچ قوم اور ریاست پاکستان کی درمیان ایک خطرناک خلیج پیدا کی ہے، یہی گہری اور واضح خلیج کی کوکھ سے شہناز جیسی باشعور و تعلم یافتہ لڑکی اپنی پر آسائش اور لگژری زندگی کو متروک کرکے آج بلوچستان کی سنگلاخ چٹانوں کو اپنا مسکن بنا کر اپنی پر امید اور پر اعتماد انقلابی مزاج سے دشمن کو للکار رہی ہے وہ خود ایک پیغام نہیں ، بلکہ ایک تاریخ ہے۔

آج شہناز جیسی ہزاروں لڑکے و لڑکیاں اور بزرگ بی ایل اے کو بطور بلوچ قومی فوج سمجھ کر جس طرح شامل ہورہے یا لاکھوں کے تعداد میں بلوچ بی ایل اے کے ساتھ دل و جان سے ہمدردی رکھتے ہیں یا ان کی طرف مائل ہوتے جا رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان میں صرف غیر تعلیم یافتہ افراد شامل نہیں بلکہ اکثریت پڑھے لکھے، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان بھی شامل ، یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ صرف سیکیورٹی کا نہیں بلکہ اعتماد، سیاسی شمولیت، انصاف اور مواقع کی کمی کا بھی نہیں بلکہ قومی تضاد اور قومی شناخت کی ہے گوکہ ریاستی ظلم و بربریت ، نا انصافی ، احساس محرومی بھی نظریاتی و فکری تضاد و تنازع کو ایک واضح سمت فراہم کرنے اور وسعت دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

جب ایک ریاست اپنے نوجوانوں کو امید، شناخت اور مستقبل دینے میں ناکام ہو جائے تو فاصلہ صرف جغرافیائی نہیں رہتا بلکہ ذہنی اور جذباتی بھی بن جاتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس نے ریاست پاکستان اور بلوچستان  کے درمیان تعلقات کو نہ صرف  کمزور کیا بلکہ اب پوائنٹ آف نو ریٹرن پہ پہنچا دیا۔ اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے طاقت سے زیادہ سیاسی بصیرت، مکالمہ، شفافیت اور عوامی اعتماد کی ضرورت تھی جس میں ریاست ابتدا سے آج تک ناکام ہی رہا۔

جب قومیں اپنے لوگوں کی آواز سننا شروع کرتی ہیں، تبھی حقیقی استحکام اور اتحاد جنم لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بلوچ اور اسکے مسلح تنظیم ایک صف پہ کھڑے ہیں اور یہ اشارہ ، اب ایک ایسی جنگ کی طرف پیشن گوہی کرتا ہے کہ بی ایل اے صرف ایک قومی و جنگی فوج کی شکل اختیار کرنے کے ساتھ ایک پورا ریاستی نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہوگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔