ابراہیم علیہ السلام اور بی بی حاجرہ کے نقش قدم پر اسلمی کاروان – شاہین بلوچ

1

ابراہیم علیہ السلام اور بی بی حاجرہ کے نقش قدم پر اسلمی کاروان

تحریر: شاہین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ انسانی ایسے ان گنت جذبوں سے بھری پڑی ہے جہاں انسانوں نے اپنے وطن کی آزادی اور قوم کے روشن مستقبل کی خاطر عظیم قربانیاں دی ہیں لیکن ایک باپ کا اپنے ہی بیٹے کو آزادی کی راہ پر قربان کرنا، ایک ایسا دل دہلا دینے والا اور حوصلہ افزا فیصلہ ہے جو پتھر دل انسانوں کو بھی موم کر دے۔ یہ محض ایک باپ کی ذاتی قربانی نہیں، بلکہ اس تاریکی رات کا سب سے روشن دیا ہے جو قوم کی سوئی ہوئی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے جلایا گیا۔

سنت ابراہیمی اور بی بی حاجرہ کا یقین:
جب اللہ کا حکم ہوا، تو بوڑھے باپ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لختِ جگر، حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کہا: “بیٹا! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، تمہاری کیا رائے ہے؟” اور اس عظیم بیٹے نے جواب دیا: “بابا! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، کر گزرے۔ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”

تو دوسری طرف بی بی حاجرہ کا جگر دیکھیے! جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ میرے رب کا حکم ہے، تو انہوں نے کسی شکوے یا فریاد کے بغیر اپنے اکلوتے بیٹے کو قربانی کے لیے رضا مند کر دیا۔ یہ تسلیم و رضا کی وہ معراج تھی جس نے رہتی دنیا تک قربانی کو لازوال بنا دیا۔

جب شہید استاد اسلام نے دیکھا کہ قوم غلامی کا چادر اوڈھے ہوئے سوئی ہے تو اس نے وطن کی آزادی اور قوم کو آزادی کہ راہ پر لانے کے لیے اور سنت ابراہیمی زندہ کرنے کے لیے اپنے لغت جگر ریحان جان کو فدائی مشن پر بھیجنے کا فیصلہ کیا تو ریحان جان نے بھی اسماعیل علیہ السلام کہ طرح انکار نہیں کیا پوری یقین و حوصلہ کے ساتھ استاد کے فیصلہ کو تسیلم کیا جب یہ لمحہ یاسمین کو پتہ چلا تو اس نے بھی بی بی حاجرہ کی طرح اپنے بیٹے کو گلے سے لگا کر اس عظیم مقصد کی خاطر قربان ہونے کے لیے خوشی خوشی روانہ کردیا۔ انکو پتہ بھی تھا کہ بیٹے کی جست خاکی کفن و دفن تو بہت دور کی بات ہے اسکے ٹکڑے تک نہیں ملینگے ۔

 یہ قربانی لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ “اگر استاد اسلم اور لمحہ یاسمین وطن کی آزادی کی خاطر اپنے بیٹے کی قربانی دے سکتے ہیں، تو ہم اپنی آزادی کے لیے گھروں سے باہر کیوں نہیں نکل سکتے؟”

ایک باپ کے لیے دنیا کا سب سے مشکل کام اپنے بچے کی آنکھوں میں آنسو دیکھنا ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ باپ دیکھتا ہے کہ اس کی آنے والی نسلیں بھی غلامی کی چکی میں پسی رہیں گی، تو اس کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو محض اپنی اولاد نہیں، بلکہ ایک ایسی مشعل کے طور پر دیکھتا ہے جو پوری قوم کو راستہ دکھا سکتی ہے۔ وہ اپنے بیٹے کی جوانی، اس کے خواب اور اس کے مستقبل کو قوم کی آزادی کے لیے قربان کر دیتا ہے۔ یہ فیصلہ نفرت سے نہیں، بلکہ قوم کی آنے والی نسلوں کے لیے ایک پُراُمید حوصلہ سے جنم لیتا ہے

کسی بھی قوم کی سب سے بڑی تباہی اس کا غلامی پر راضی ہو جانا یا اسے اپنی تقدیر مان لینا ہے۔ جب ایک معاشرہ جبر کے سامنے سر جھکا دیتا ہے اور ظلم کو معمول سمجھنے لگتا ہے، تو وہاں خاموشی کا زہر پھیل جاتا ہے۔ ایسے میں کسی ایک ایسے عمل کی ضرورت ہوتی ہے جو لوگوں کے دلوں میں آگ لگا دے اور انہیں یہ باور کروائے کہ موت، غلامی کی ذلت سے ہزار درجہ بہتر ہے

جب ایک باپ اپنی اولاد کا لہو قوم کی آزادی کی راہ میں بہاتا ہے، تو اس کا اثر گہرا اور انقلابی ہوتا ہے۔

 یہ خون کی آخری بوند ایک ایسا لاوا بنتی ہے جو مزاحمت کی تحریک کو جنم دیتا ہے۔ لوگ غلامی کے احساس سے نکل کر آزادی کے حصول کے لیے متحد ہو جاتے ہیں۔

ایک عظیم باپ کا یہ عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ آزادی مفت میں نہیں ملتی۔ یہ ایک ایسا سودا ہے جس میں اپنی سب سے قیمتی شہ (اولاد) کو بھی قربان کرنا پڑتا ہے۔ اس قربانی کا اصل مقصد قوم کو غلامی کا احساس دلا کر انہیں مزاحمت کی راہ پر گامزن کرنا ہوتا ہے، تاکہ آنے والے کل میں کوئی اور باپ اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر مجبور نہ ہو۔ یہ ایک ایسی داستانِ شجاعت ہے جو ہر دور میں آزادی کے متوالوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔