خضدار: اساتذہ کی کمی کے باعث مزید اسکولوں پر تالے، بچوں کی بڑی تعداد تعلیم سے محروم۔ سروے

21

خضدار میں تعلیمی پسماندگی اور بحران نے شدت اختیار کر لی ہے، جہاں ضلع بھر میں بچوں کی بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہے، سروے رپورٹ کے مطابق بمشکل 35 فیصد بچے ہی اسکول جا رہے ہیں، جبکہ باقی بچے مختلف وجوہات کی بنا پر تعلیم سے دور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تعلیمی اخراجات کا بوجھ برداشت نہ کر پانا، اساتذہ کی شدید کمی اور اسکولوں تک طویل فاصلے طے کرنے کی مشکلات نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے، کئی بچے کئی کلومیٹر کا سفر طے کرنے کی استطاعت نہ ہونے کے باعث تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، تاہم سرکاری اسکولوں میں تدریسی عمل تقریباً معطل ہونے کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ 

دوسری جانب نجی اسکولوں کی بھاری فیس ادا کرنا بھی بیشتر والدین کے لیے ممکن نہیں، جس کے باعث بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے اور سینکڑوں بچے تعلیم کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔

سروے کے مطابق خضدار اور گرد و نواح کے متعدد اسکول اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہو کر کھنڈر میں تبدیل ہو چکی ہیں، ہزاروں تدریسی اسامیاں تاحال خالی ہیں، جس کے باعث بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے غیر مؤثر دکھائی دیتے ہیں۔

ضلع خضدار کے علاقے وڈھ، سارونہ، کنجڑ ماڑی، شاہ نورانی، اورناچ، زہری، نال، مولہ، کرخ اور باغبانہ سمیت دیگر علاقوں میں اسکول موجود ہونے کے باوجود اساتذہ کی عدم دستیابی کے باعث غیر فعال ہیں، موجودہ صورتحال میں ضلع بھر میں سینکڑوں بچے اور بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔

خضدار کے عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی اور سیکرٹری تعلیم سمیت دیگر حکامِ بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع میں تعلیمی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، بند اسکولوں کو فعال بنایا جائے اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں اساتذہ کی کمی کے باعث مختلف اضلاع میں اسکول بند ہو رہے ہیں، جبکہ متعدد اساتذہ تنخواہوں کی عدم فراہمی کے باعث اپنی نوکری چھوڑ کر دیگر شعبوں میں جارہے ہیں۔

سال 2024 میں حالیہ حکومت کے دور میں محکمہ تعلیم بلوچستان نے بند اسکولوں سے متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ صوبے میں مزید 542 اسکول بند ہوگئے۔

محکمہ تعلیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بند اسکولوں کو فعال کرنے کے لیے 16 ہزار اساتذہ کی ضرورت ہے، تاہم حکومت دعوؤں کے باوجود نئی بھرتیاں نہیں کرسکی، جبکہ پہلے سے موجود اساتذہ تنخواہوں کی عدم فراہمی کے خلاف آئے روز کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنا دے رہے ہیں۔

بلوچستان میں تعلیمی نظام کی تباہ حالی کے حوالے سے متعدد رپورٹس شائع ہو چکی ہیں، جہاں مقامی اور عالمی اداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

2023 کے الف اعلان کے اعداد و شمار کے مطابق تعلیم کے میدان میں بلوچستان دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے پسماندہ خطہ ہے اور یہاں تعلیم، صحت اور انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے۔

الف اعلان کے مطابق بلوچستان کی کل آبادی میں 27 لاکھ بچوں کو اسکول میں ہونا چاہیے تھا، مگر صرف 9 لاکھ بچے اسکولوں میں جاتے ہیں جبکہ 18 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، صوبے میں اسکولوں کی کل تعداد 12 ہزار 347 ہے، جن میں صرف 6 فیصد ہائی اسکول ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 76 فیصد بچے سرکاری اسکولوں میں داخلہ لیتے ہیں، 19 فیصد غیر سرکاری اسکولوں میں جبکہ 5 فیصد بچے دینی مدارس کا رخ کرتے ہیں۔216 اسکول اس وقت غیر فعال ہیں، جبکہ باقی اسکولوں میں سے 37 فیصد صرف ایک کمرہ جماعت پر مشتمل ہیں، اور 14 فیصد اساتذہ بغیر اسکول جائے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔