بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ ہکل نے تنظیم کی ذیلی بحری فورس “حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس” کا لوگو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس (ایمبلم) میں شامل ہر عنصر تنظیم کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عسکری تیاری اور سمندری دفاع سے وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس نشان کے مختلف اجزاء اور رنگ گہرے معنوں کے حامل ہیں، جو ادارے کے وژن اور ذمہ داریوں کو واضح کرتے ہیں۔
“لوگو میں نمایاں سفید چونچ والا سمندری عقاب نگرانی، مسلسل چوکسی اور درست نشانہ لگانے کی صلاحیت کی علامت ہے، جو فورس کی دفاعی حکمت عملی اور بروقت ردعمل کی اہلیت کو ظاہر کرتا ہے۔ “
“لنگر سمندری حدود پر مضبوط کنٹرول، استحکام اور غیر متزلزل موجودگی کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ رسی منظم سمندری مہارت، نظم و ضبط اور تمام آپریشنز پر مضبوط گرفت کی عکاسی کرتی ہے۔ “
“نشان میں شامل آپس میں کراس بندوقیں عسکری طاقت، دفاعی عزم اور ہر وقت جنگی تیاری کو ظاہر کرتی ہیں، جو فورس کی سکیورٹی ذمہ داریوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ “
“اسی طرح، کمپاس سمت شناسی کی مہارت، جدید نیویگیشنل صلاحیتوں اور وسیع آپریشنل دائرہ کار کی علامت ہے، جبکہ ستارے اعلیٰ کارکردگی، امتیاز اور قومی مقاصد کے حصول کی جانب رہنمائی کرنے والے اصولوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ “
“نشان میں استعمال کیے گئے رنگ بھی اپنی جگہ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ گہرا نیلا رنگ گہرے سمندر سے وابستگی، بحری طاقت اور پیشہ ورانہ شناخت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ سفید رنگ شفافیت، وضاحت اور ساختی درستگی کی علامت ہے، جو ادارے کے نظم و ضبط اور اصولی بنیادوں کو اجاگر کرتا ہے۔ “
تنظیم کے مطابق یہ نشان مجموعی طور پر “حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس” کے عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور سمندری دفاع کے لیے اس کی غیر متزلزل وابستگی کی جامع عکاسی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ رواں ماہ بی ایل اے نے بلوچ سمندروں کے دفاع کے لیے اپنے باقاعدہ بحری ونگ “حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس” (Hammal Maritime Defence Force – HMDF) کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس نئی ذیلی فورس نے اپنی پہلی آپریشنل کارروائی 12 اپریل 2026 کو صبح تقریباً 10 بجے، گوادر کے علاقے جیونی میں ‘مِل تیاب’ کے مقام پر کی، جہاں پاکستانی نیوی کی ایک گشتی کشتی کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
اس حملے میں کشتی پر سوار تینوں نیوی اہلکار نائیک افضل، سپاہی جمیل اور سپاہی عمر موقع پر ہلاک ہو گئے تھے۔

















































