بلوچستان ایم پی ایز کا زرداری کے در پہ سجدہ – عابد میر

12

بلوچستان ایم پی ایز کا زرداری کے در پہ سجدہ

تحریر: عابد میر

دی بلوچستان پوسٹ

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان سے اپنے ایم پی ایز کی ایک بیٹھک سجائی، جو مبینہ طور پر ڈھائی سالہ حکومت والے فارمولے کے مستقبل پر غوروغور کے لیے بلائی گئی تھی۔ یہاں بالکل وہی مناظر دیکھنے کو ملے جو الیکشن سے قبل نوازشریف کے سرینا ہوٹل والے “جرگے” میں دیکھنے کو ملے تھے…. وہی مناظر جو ایک زمانے میں وائسرائے صاحب کی بگھی کو سرداروں کی طرف سے کھینچتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔ ہمارے کچھ سردار میاں محمد نوازشریف کی بگھی میں جُت گئے تھے، کچھ اب زرداری صاحب کی بگھی میں جُتنے کو تیار ہیں۔

پتہ نہیں کس کی شرارت کا شاخسانہ تھا کہ ہمارے علاقے کے سردارہ زادہ فیصل خان جمالی کی زرداری صاحب سے جھک کر ملنے والی تصویر لے کر پبلک کر دی جو اب سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئی پڑی ہے اور ہر طرف سے ان پر اب طنز و تحقیر کے نشتر چلائے جا رہے ہیں۔ ہم نے اس پر ہلکا پھلکا کمنٹ کیا کہ وہ “خاندانی روایت” کے تحت جھک کر مل رہے ہیں تو اس پر ان کے اور ہمارے ہاں سرداری نظام کے چاہنے والے (سرداروں کے فکری باڈی گارڈز) ان کے دفاع میں پِل پڑے اور اسے کلچر اور روایت کی پاس داری قرار دیا۔

ہم ایک پل کو مان لیتے ہیں کہ وہ ایسا کلچر اور روایت کی پاس داری میں کر رہے ہوں گے تو ان کلچر پرستوں سے سوال یہ ہے کہ روایت کی یہ پاس داری اس وقت کہاں چلی جاتی ہے کہ جب یہ اپنے باپ کی عمر کے ہاریوں، کسانوں سے مل رہے ہوتے ہیں؟ ان سے تو یہ ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے۔ بلوچ روایت ہر بزرگ سے جھک کر ملنے کی ہے، جب کہ سرداری روایت میں صرف خود سے طاقت ور اور اعلیٰ مسند نشیں سے جھک کر ملنے کی روایت ہے۔ اور جمالیوں میں یہ روایت بلاشبہ خاندانی طور پر پائی جاتی ہے۔

ظفراللہ جمالی کا مجھے ایک بار انٹرویو کرنے کا موقع ملا اور جان محمد جمالی سے دو بار ملاقات کا، میں نے انھیں انتہا درجے کا متکبر اور بے اخلاق انسان پایا۔ میں نے ان کی محفلیں دیکھی ہیں، جہاں عام انسانوں سے یہ ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے۔ لوگوں سے تحقیر سے پیش آنا ان کا معمول ہے۔ اور پاکستان بھر میں یہ شریف النفس سیاست دان سمجھتے جاتے ہیں۔ وجہ یہ کہ اسلام آباد کے صحافیوں سے ملتے ہوئے یہ انتہائی شریف النفس بن جاتے ہیں، ان کی ساری رعونت، تکبر اور طاقت صرف اپنے علاقے کے لیے قہر ہے۔ جہاں سے یہ ووٹ بھی لیتے ہیں، جہاں کے عوام کے نام پر یہ کھاتے کماتے بھی ہیں۔

پچاس ساٹھ برس سے ایک ہی خاندان کی حکمرانی ہے۔ پورے علاقے میں کوئی مرکزی سڑک سلامت نہیں، کوئی اعلیٰ تعلیمی ادارہ نہیں، علاج معالجے کی کوئی سہولت نہیں۔ عوام کی ٹکے کی فکر نہیں۔ اور پھر بھی ان کے لیے مطالبہ ہے کہ ان سے احترام سے پیش آیا جائے، کیوں کہ “سردار زادہ” ہیں۔ ہماری طرف سے ایسے سرداروں، سردازادوں اور ان کے گلے سڑے بدبودار سرداری نظام کے لیے تین طلاق قبول فرمائیں۔

آصف علی زرداری اس وقت پاکستانی اقتداری سیاست کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی جیسے کارناموں کے لیے ہم ان کے زیربار احسان ہیں لیکن بلوچستان کے معاملے میں وہ اور ان کی پارٹی اتنی مقروض ہے کہ ساری عمر بھی شاید اس کا قرض نہ اتار پائے۔ اور ایسا آج سے نہیں، 1970ء کی دہائی سے ہے۔ بھٹو اپنے تمام تر جینئس پن کے باوجود ہمارے لیے زہرقاتل ثابت ہوا۔ وہ ہمارے جینئس عوامی رہنماؤں کو سات ماہ برداشت نہ کر سکا، ان سے ہی اپنا آئین بنوایا، منظور کروایا اور پھر انھی کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا۔ ایوب خان سے لے کر، ضیاالحق اور پھر مشرف تک ہر ڈکٹیٹر کی آنکھ کا تارا رہنے والا جمالی خاندان بھٹو کا بھی دوست رہا۔ اور آج پھر اسی پارٹی کی چھتری تلے اپنے سسکتے سرداری سسٹم کو بچانے کی تگ و دو میں ہے۔

زرداری صاحب پیپلزپارٹی کی ملک گیر ساکھ بحال کرنے کو بلوچستان کو کیش کرنے کے خواہاں ہیں۔ ہر الیکٹیبل ان کے لیے قابلِ قبول ہے، خواہ وہ کتنا ہی عوام دشمن کیوں نہ ہو۔ خواہ وہ ملاں ہو، جاگیردار ہو، سردار ہو، اسمگلر ہو، قاتل ہو، جابر ہو، سیٹ لینے والوں سے سیٹ لے سکتا ہے تو پیپلزپارٹی کے دروازے اور بانہیں اس کے لیے کھلی ہیں۔

ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہمارے اکابرین ان سرداروں اور سرداری نظام کے خلاف برسوں جدوجہد کرتے ہیں، عوام کو باشعور بناتے ہیں، کوئی ایک طالع آزما ڈکٹیٹر یا کوئی جمہوری وڈیرہ آ کر پھر سے انھیں گود لے لیتا ہے اور انھیں ہیرو بنا دیتا ہے۔ ورنہ آج کے بلوچستان میں کوئی سردار ایسا نہیں جو بنا سرکاری باڈی گارڈز کے اپنے حلقے میں جا سکے، عوام سے مل سکے۔ عوام کو ان سے ٹکے کی دلچسپی نہیں رہی۔ اس لیے انھوں نے بھی عوام کی بجائے خود کو اشرافیہ کی خدمت پہ مامور کر لیا ہے۔ جہاں سے انھیں اپنا دانہ پانی ملنے کی امید ہے۔

سو، سندھ میں سندھی دانشوروں کو اسٹیبشلمنٹ کے مقابلے میں پیپلز پارٹی بھلے آخری جمہوری امید نظر آتی ہو، ہمارے لیے یہ 1971 میں ہماری عوامی حکومت کو توڑ کر انھیں داخلِ زنداں کرنے والی اس جماعت کا تسلسل ہے جو آج ختم ہوتے ہوئے گلے سڑے بدبودار سرداری نظام کو پھر سے اپنے کندھے مہیا کر رہی ہے۔ وہ سردار جن کے خلاف ملا مزار بنگلزئی کی “لاٹ نا بگھی” سے لے کر، یوسف عزیز مگسی، گل خان نصیر اور آزادت جمالدینی کی روشن فکر شاعری ہمارے ماتھے کا جھومر ہے۔

ہماری طرف سے جتنی نفرت اس عوام دشمن و ازکارِ رفتہ سرداری نظام کے لیے ہے، اتنی ہی اسے کندھے مہیا کرنے، طاقت فراہم کرنے اور اس کے لیے پسندیدگی رکھنے والے ہر فرد، ہر ادارے، ہر جماعت کے لیے بھی ہے۔ ہم عوام ہیں، ہم عوام میں سے ہیں، ہم عوام کے ساتھ رہیں گے، عوام کی بات کرتے رہیں گے۔ ہر عوام دشمن نظام کے خلاف ہماری نفرت آمیز قلمی جدوجہد جاری رہے گی، آخری سانس تک!!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔