بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ نوجوان خالد ساسولی کوئٹہ کے علاقے سریاب میں پولیس فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہو گئے۔
خالد ساسولی کے والد نے بیٹے کی موت پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا، میرا بیٹا ایک انسان کی جان بچانے کے لیے خون دینے گیا تھا لیکن وہ خود واپس زندہ نہیں آ سکا۔
لواحقین کے مطابق خالد اپنے تین دوستوں کے ہمراہ کوئٹہ آئے تھے تاکہ سول ہسپتال میں زیر علاج ایک مریضہ کو خون کا عطیہ دے سکیں۔ خون دینے کے بعد وہ واپسی کے سفر پر تھے کہ سریاب کے علاقے منیر احمد روڈ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
عینی شاہدین کے مطابق واقعہ رات کے وقت اس وقت پیش آیا جب علاقے میں معمول کی ٹریفک اور پولیس گشت جاری تھا۔ اچانک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری محفوظ مقامات کی جانب بھاگنے لگے۔
ایک مقامی دکاندار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اپنی دکان بند کر رہا تھا کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔ “چند ہی لمحوں میں لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور زخمی نوجوان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا،”
ہسپتال ذرائع کے مطابق خالد ساسولی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا، جہاں وہ کئی گھنٹوں تک زیر علاج رہے۔ تاہم ان کی حالت ابتدا ہی سے تشویشناک تھی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔
سرکاری حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے، تاہم تاحال پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال معمول پر آ گئی ہے لیکن شہری حلقوں میں تشویش برقرار ہے۔ لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یاد رہے کہ دو ہفتے قبل کوئٹہ پولیس کی حراست میں ایک نوجوان، اسرار قلندرانی، دورانِ حراست تشدد کے باعث جان کی بازی ہار گئے تھے، جس پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔



















































