کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6132ویں روز میں داخل

13

جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم دنیا کا طویل ترین اور پرامن احتجاجی کیمپ آج 6132ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔

منتظمین کے مطابق یہ محض ایک احتجاج نہیں بلکہ اُن خاندانوں کے صبر، کرب اور امید کی داستان ہے، جن کے پیارے برسوں سے لاپتہ ہیں۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ جس اذیت اور بے یقینی کا سامنا کر رہے ہیں، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ جبری گمشدگیاں نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ آئین و قانون کی کھلی نفی بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو بغیر قانونی عمل کے لاپتہ کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

انہوں نے حکومتِ وقت کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی اس کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی فرد پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی ہو سکے، اور اگر وہ بے گناہ ہے تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، اور اس عمل میں ملوث عناصر کے خلاف آئین و قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

مزید کہا کہ یہ آواز انصاف، قانون کی بالادستی اور انسانی وقار کے لیے ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ ریاست اس درد کو سمجھے گی اور عملی اقدامات کے ذریعے اس دیرینہ مسئلے کا حل نکالے گی۔