بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں مزید دو نوجوانوں کے لاپتہ ہونے کے کیسز سامنے آئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ مہناز سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ طالب علم شہیک بلوچ ولد رحیم بخش کو 31 مارچ کو تربت شہر سے ریاستی حمایت یافتہ مقامی ملیشیا، جسے عرف عام میں “ڈیتھ اسکواڈ” کہا جاتا ہے، کے افراد نے حراست میں لیا۔ واقعے کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
اسی طرح 21 سالہ نور خان ولد نذر محمد، جو تحصیل پسنی کے علاقے سردشت کلانچ کے رہائشی اور ایک طالب علم ہیں، کو 28 مارچ کو ملٹری انٹیلی جنس (MI) کے اہلکاروں نے پسنی شہر کے وین اسٹاپ سے دن دہاڑے حراست میں لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق انہیں زبردستی گاڑی میں ڈال کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے دونوں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تشویشناک حد تک جاری ہے اور عالمی اداروں کو فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔
دوسری جانب جامعہ بلوچستان کے شعبہ بلوچی کے پانچویں سمسٹر کے طالب علم ممتاز بلوچ ولد دلبود، جو چند روز قبل جبری طور پر لاپتہ ہو گئے تھے، بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہیں عید کی تیسری رات تربت کے علاقے کولوائی بازار، آپسر سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد کئی روز تک ان کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں تھیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق ممتاز بلوچ کی واپسی پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم دیگر لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ بدستور اپنے پیاروں کی بازیابی کے منتظر ہیں۔
















































