امریکی صدر ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی راستے کی تلاش میں بہت دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، جسے وہ جنگ کو ’سمیٹنا‘ کہتے ہیں۔
لیکن اس جنگ سے باہر نکلنے کے لیے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی واضح نہیں ہے اور امریکی صدر کے ملے جلے پیغامات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکے کہ کون سی حکمت عملی بہتر ہو گی۔
آیا اس جنگ کو جلد از جلد ختم کیا جائے یا ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے کسی تصفیے تک پہنچا جائے۔
منگل کے روز، ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکہ ایک ساتھ دونوں منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ چند گھنٹوں میں، پینٹاگون نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا حکم دیا اور امریکی مذاکرات کاروں نے ایرانی حکومت کو ایک نیا 15 نکاتی امن منصوبہ بھیجا۔
بدھ تک، وائٹ ہاؤس ایران پر زور دے رہا تھا کہ وہ اس معاہدے کو قبول کر لے جبکہ یہ دھمکی دے رہا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس ملک کو پہلے سے زیادہ سخت ضرب لگائیں گے، جس سے ٹرمپ کے ارادوں کے بارے میں مزید الجھن پیدا ہو گی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کوئی جھوٹا دعویٰ نہیں کرتے وہ ایران پر جہنم برپا کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس معاملے پر ایران کو کوئی غلط اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔‘


















































