وائٹ ہاؤس میں تقریب کے دوران فائرنگ، صدر ٹرمپ کو نکال لیا گیا، حملہ آور گرفتار

31

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران مبینہ طور پر ’فائرنگ کی آوازیں‘ سنائی دی ہیں، جس پر ہلچل مچ گئی اور صدر ٹرمپ کو وہاں سے نکال لیا گیا۔

سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور صدر ٹرمپ خیریت سے ہیں۔ 

خبر رساں اداروں اے ایف پی اور اے پی کے مطابق واقعہ سنیچر کی رات کو اس وقت پیش آیا جب وہاں میڈیا کے نمائندوں کے اعزاز میں عشائیہ چل رہا تھا۔

صدر ٹرمپ سٹیج پر بیٹھے تھے اور انہوں نے تقریب سے خطاب کرنا تھا پھر ایک اہلکار ان کے پاس ایک پرچی لیے پہنچا جس پر ساتھ بیٹھی خاتون شدید خوفزدہ اور حیران دکھائی دی، اس کے ساتھ ہی کچھ آوازیں سنائی دینے پر ہلچل مچ گئی اور صدر کو نکال لیا گیا۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ایک شخص کی جانب سے فائرنگ کی گئی تاہم صدر ٹرمپ ٹھیک ہیں۔

فاکس نیوز کے مطابق حملہ آور کی شناخت کول تھامس ایلین کے نام سے ہوی ہے، جس کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے اور عمر 31 سال ہے۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو پکڑ لیا اور مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس سے زیادہ خطرناک کوئی اور پیشہ ہو – ٹرمپ

یہ گزشتہ چند سالوں میں تیسرا موقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اردگرد فائرنگ یا مبینہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے اور یہ ایک طرح کے تسلسل کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

میں خود بھی 13 جولائی سنہ 2024 کو پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں موجود تھا کہ جب 20 سالہ تھامس کروکس نے ٹرمپ پر فائرنگ کی تھی اور واشنگٹن میں آج کا ماحول اس دن کے میرے تجربے سے کافی حد تک قریب ہے۔

ایک اور فائرنگ کے واقعے سے گزرنے کے باوجود صدر ٹرمپ کا موڈ نسبتاً پُرسکون اور خوشگوار دکھائی دیا۔

تاہم یہ امکان کہ وہ کسی خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں ایسا موضوع ہے جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود بھی بارہا بات کی ہے۔

انھوں نے پریس بریفنگ روم میں کہا کہ ’میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس سے زیادہ خطرناک کوئی اور پیشہ ہو۔‘

ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقوں کا اس سے قبل بھی یہ ماننا ہے کہ بٹلر میں ہونے والا حملہ شاید امریکی صدر کے لیے سب سے زیادہ اہم تھا۔

اگرچہ اس واقعے کے محرکات اب بھی واضح نہیں لیکن آج کی رات کے واقعات بھی بظاہر ایک اور اہم واقعے کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ کے اس مؤقف کہ یہ عہدہ اپنی نوعیت میں انتہائی خطرناک ہے کو آج کے حالات میں مناسب قرار دیا جا رہا ہے۔

آج کا یہ واقعہ اسی ہوٹل کے اندر پیش آیا جہاں 1981 میں اُس وقت کے صدر رونالڈ ریگن کو گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا۔