پاکستانی میزائل امریکہ کے لیے خطرہ ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ

60

امریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبرڈ کی جانب سے جاری کردہ ’سالانہ خطروں کی جائزہ رپورٹ 2026‘ میں پاکستان کے میزائل پروگرام اور علاقائی پالیسیوں کو امریکی سلامتی کے لیے ’خطرہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

بدھ کو جاری کردہ اس رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں امریکی سرزمین کو درپیش براہِ راست خطرات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو امریکہ کے کٹر حریفوں یعنی روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ ایک ہی صف میں شامل کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں، بین البراعظمی میزائلوں، خودکش ڈرونز اور پراکسی جنگ کے ذریعے امریکہ کو ممکنہ خطرہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق: ’پاکستان مسلسل ایسی جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل نظام تیار کرنے کے ذرائع فراہم کرتی ہے، اور اگر یہ رجحانات جاری رہے تو ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار ہو سکتے ہیں جو امریکہ کے لیے خطرہ بنیں گے۔‘

34 صفحات کی اس رپورٹ کے ایک اور حصے میں امریکہ کو درپیش ایٹمی حملے کے خطرات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے: ’چین، روس، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جوہری اور روایتی پے لوڈز کے ساتھ ایسے نت نئے، جدید یا روایتی میزائل ڈیلیوری سسٹمز کی ایک وسیع رینج پر تحقیق اور انہیں تیار کر رہے ہیں، جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اس وقت تین ہزار بین الابراعظمی میزائلوں کا خطرہ ہے، جب کہ یہ تعداد 2035 میں بڑھ کر 16 ہزار ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں خودکش ڈرونز کا بھی ذکر ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایک طرف جہاں خودکش ڈرونز کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، وہیں چین، ایران، شمالی کوریا، پاکستان اور روس ان جدید میزائلوں کی تیاری کو ترجیح دینا جاری رکھیں گے جو امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

رپورٹ میں جنوبی ایشیا کو امریکہ کے لیے ایک مستقل سکیورٹی چیلنج قرار دیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ماضی کے تنازعات کے پیشِ نظر پاکستان انڈیا تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

علاوہ ازیں، عسکری اور علاقائی تنازعات کے تناظر میں بھی پاکستان پر تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان مصر، اسرائیل، ترکی اور متحدہ عرب امارات سمیت ان ممالک میں شامل ہے جو ’اپنے حریفوں کو اکسانے یا کمزور کرنے، یا قریبی تنازعات کا رخ اپنے حق میں موڑنے کے لیے مہلک امداد، پراکسی فورسز، یا اپنے فوجی اثاثوں کا ملا جلا استعمال کر رہے ہیں۔‘