افغان حکام کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع بہسود میں ایک مکان پر پاکستانی فضائی حملے میں کم از کم 17 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
صوبہ ننگرہار میں طالبان حکومت کے وزارتِ اطلاعات اور ثقافت کے سربراہ امر قریشی بدان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 11 بچے شامل ہیں جبکہ باقی چھ خواتین اور مرد تھے۔
بتایا جا رہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور لاشوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
امر قریشی کے مطابق پانچ زخمیوں کو ننگرہار کے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے حکام نے بی دعویٰ کیا ہے کہ ضلع بہسود کے علاقے گردی کیچ میں شہاب الدین نامی شخص کے گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت بیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔
متاثرہ خاندان کا ایک فرد کا کہنا ہے کہ ’سب کچھ ختم ہو گیا، میرے بچے چلے گئے، میرا بھائی اور میرا شوہر چلا گیا، اور میری کنواری بیٹیاں ماری گئیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ رات دیر گئے ایک فضائی حملے میں مکان کو نشانہ بنایا
گیا تھا۔
ننگرہار پولیس کے ترجمان سید طیب حماد نے طلوع نیوز کو بتایا، ’پاکستانی فوج نے صوبے کے ضلع بہسود میں ایک شہری کے گھر کو نشانہ بنایا، جس میں ایک ہی خاندان کے 23 افراد ہلاک ہو گئے۔‘ اب تک ملبے سے صرف چار افراد کو نکالا جاسکا ہے اور جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
بہسود کے علاوہ صوبہ ننگرہار کے خوگیانی اور غنی خیل اضلاع سے بھی حملے کی اطلاعات ہیں۔
’پکتیکا میں مدرسے کو نشانہ بنایا گیا‘
افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ سنیچر کی شب مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ضلع برمل میں فضائی حملے میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا جس سے مدرسے کی عمارت کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رمضان کے باعث مدرسہ بند ہونے کی وجہ سے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مدرسے کی عمارت کا ایک حصہ تباہ ہو گیا ہے جبکہ وہاں موحود کتابوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔


















































