تمپ میں جبری لاپتہ عثمان بلوچ قتل، سوراب، خاران اور وڈھ سے بھی لاشیں برآمد

53

ضلع کیچ کی تحصیل تمپ کے علاقے بالیچاہ سے پاکستانی فورسز کی حراست میں جبری لاپتہ کیے گئے ایک نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، قتل کیے گئے نوجوان کی شناخت عثمان ولد یار محمد کے نام سے ہوئی ہے، جو تمپ کے علاقے کلگ تگران کا رہائشی تھا۔

لواحقین کے مطابق، عثمان کو 15 روز سے زائد عرصہ قبل ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا۔

بتایا جا رہا ہے کہ عثمان کی جبری گمشدگی کے بعد اس کے خاندان پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ وہ پریس کانفرنس کرکے اپنے ایک بیٹے سلمان بلوچ سے لاتعلقی کا اعلان کریں۔

عثمان کے والد یار محمد نے ایک ہفتہ قبل تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے بیٹے سلمان بلوچ سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم، اس کے باوجود یار محمد کے دوسرے بیٹے، جو جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تھے، کو قتل کرکے ان کی لاش پھینک دی گئی۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں بلوچ قومی تحریک سے وابستہ افراد کے اہلِ خانہ کو عسکری اداروں کی جانب سے زبردستی پریس کانفرنسوں کے ذریعے اپنے پیاروں سے لاتعلقی کے اعلانات پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے بعد ان خاندانوں کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

دوسری جانب، ضلع سوراب کی تحصیل دشتِ گوران کے علاقے مل شاہورائی کے قریب سے دو نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن کی عمریں بالترتیب تقریباً 28 اور 27 سال بتائی جا رہی ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، دونوں افراد کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے۔

سوراب پولیس نے دونوں لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر ضروری قانونی کارروائی اور شناخت کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال سوراب منتقل کر دیا ہے۔

پولیس نے واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ جاں بحق افراد کی شناخت، قتل کے محرکات اور اس میں ملوث ملزمان کا سراغ لگایا جا سکے۔ مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔

ادھر خاران، کوئٹہ روڈ پر بابِ خاران کے قریب سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے، جس کی شناخت صلاح الدین ولد محمد علی کے نام سے ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی سی پیک روڈ کے قریب سے ایک شخص کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی تھی۔

دریں اثنا، ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ سے مسلح افراد کے ہاتھوں مبینہ طور پر اغوا کیے گئے شخص حضور بخش بارانزئی کی لاش بھی برآمد ہوئی ہے۔