بلوچ نیشنل موومنٹ کے مطابق پارٹی چئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے ورلڈ سندھی کانگریس کی 38ویں سندھ انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ اور سندھی اقوام کے لیے قومی آزادی، جمہوریت، امن اور پائیدار مستقبل کا حصول ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتا ہے، کیونکہ قومی آزادی کے بغیر جمہوریت، امن اور پائیدار مستقبل محض خوبصورت الفاظ اور دل بہلانے والے خواب بن کر رہ جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں، لیکن سندھ کے لوگوں کے درمیان انھیں کسی اجنبی قوم کے درمیان موجود ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ سندھ اور بلوچستان صرف دو ہمسایہ سرزمینیں نہیں بلکہ صدیوں پر محیط انسانی، ثقافتی، معاشی اور سیاسی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ ان کی سرحدیں، تہذیبی یادیں، تاریخی تجربات اور موجودہ مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر قومی آزادی واضح سیاسی جدوجہد، مستقل مزاجی اور قربانیوں کے بغیر حاصل کی جا سکتی تو دنیا کی تاریخ میں لاکھوں انسانوں کو اپنی جانیں قربان نہ کرنا پڑتیں۔ قومی آزادی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ طویل سیاسی جدوجہد، واضح مقصد اور بے شمار قربانیوں کا نام ہے۔بلوچ اور سندھی سرزمینوں پر جاری استحصال اور قبضے کا تسلسل نہ صرف ان اقوام کی شناخت بلکہ ان کے مستقبل کے لیے بھی خطرہ ہے، کیونکہ ان کے لیے اپنی سرزمین کا سوال محض زمین کا نہیں بلکہ قومی وجود، شناخت اور آنے والی نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچ اور سندھی قیادت کو اپنی اپنی قومی شناخت، سیاسی تنظیموں اور جداگانہ ترجیحات کا احترام کرتے ہوئے انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں، سیاسی قیدیوں، وسائل، ماحولیات اور بین الاقوامی فورمز پر مؤثر نمائندگی جیسے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کرنے چاہییں۔تعاون کی بنیاد جذباتی نعروں کے بجائے باہمی احترام اور برابری پر ہونی چاہیے۔حقیقی اتحاد یہی ہے کہ دونوں اقوام اپنی شناخت اور ترجیحات برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کے برابر کھڑی ہوں اور ہمدردی کو عملی یکجہتی میں تبدیل کریں۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ تاریخ نے بلوچ اور سندھی اقوام کو بے شمار زخم دیے ہیں، لیکن تاریخ مواقع بھی فراہم کرتی ہے اور آج دونوں اقوام کے سامنے اپنی قومی ریاستوں اور سیاسی نظاموں کی ازسرِنو تعمیر کے حوالے سے ایک اہم موقع موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منتشر صلاحیت کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منظم سیاسی اور سفارتی قوت میں تبدیل کیا جائے۔
انھوں نے بلوچ اور سندھی اقوام کے درمیان یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ جہاں بھی اپنی آواز دیں گے، سیاسی اسٹیج سے لے کر مشکل ترین محاذ تک، آپ بلوچ کو اپنے پہلو میں پائیں گے۔



















































