بلوچ نیشنل موومنٹ “بی این ایم” کے انسانی حقوق کے ادارے پانک نے اس حکم نامے کی شدید مذمت کی ہے جس کے تحت تقریباً 5 ہزار خاندانوں، یعنی لگ بھگ 30 ہزار افراد کو، مجوزہ فوجی یلغار سے قبل 30 اکتوبر 2026 تک شور پارود، قلات میں اپنے آبائی گھر خالی کرنے کا کہا گیا ہے۔
پانک نے اپنے بیان میں کہا کہ مجوزہ بے دخلی بنیادی انسانی حقوق، شہریوں کے تحفظ، اور مقامی برادریوں کے اپنی آبائی زمینوں، ذریعۂ معاش اور ثقافتی شناخت پر حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبائی زمین محض ایک علاقہ نہیں، بلکہ کسی قوم کی شناخت، تاریخ اور اجتماعی وجود کی بنیاد ہے اور بلوچ خاندان نسلوں سے ان زمینوں پر رہتے، کام کرتے، اپنے بچوں کی پرورش کرتے اور اپنے پیاروں کو دفناتے آئے ہیں۔
پانک کے مطابق پاکستانی حکام نے سرمچاروں کی موجودگی اور اس علاقے کے سرکاری زمین ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے انخلا کا حکم جاری کیا ہے، ایسے دعوے نہ تو من مانی بے دخلی کا جواز فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی حکام کو شہریوں کے حوالے سے ان کی ذمہ داریوں سے بری کرتے ہیں اور یہ کہ اس حکم کی وسعت اور مختصر مہلت فوری جانچ، شفافیت اور احتساب کا تقاضا کرتی ہے۔
پانک نے مقامی اقوام کے حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے اعلامیے کے آرٹیکل 10 کا حوالہ دیا جو مقامی اقوام کو ان کی آزادانہ، پیشگی اور باخبر رضامندی، منصفانہ معاوضے اور جہاں ممکن ہو واپسی کے اختیار کے بغیر ان کی زمینوں سے زبردستی بے دخل کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔
تنظیم نے شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے آرٹیکل 6 اور 17 معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے آرٹیکل 11 اور داخلی نقل مکانی سے متعلق اقوامِ متحدہ کے رہنما اصولوں کا بھی حوالہ دیا۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ 30 ہزار افراد کو ان کی زمینوں سے اکھاڑ کر کیمپوں میں منتقل کرنا انسانی وقار اور ان کی زندگی کے حقائق کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
پانک کے مطابق یے برادریاں طویل عرصے سے اپنے ہی گھروں میں بنیادی سہولیات سے محروم رہی ہیں، حکام کیا ضمانت دے سکتے ہیں کہ انہی لوگوں کو کیمپوں میں مناسب پناہ، حرارت، طبی سہولیات، صاف پانی اور صفائی کی سہولیات میسر آئیں گی؟
تنظیم نے مزید کہا کہ قلات بلوچستان کے سرد ترین علاقوں میں سے ایک ہے اور سردیوں کی آمد پر ہزاروں خاندانوں کو کیمپوں میں منتقل کرنا ان کی صحت، حفاظت اور زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
پانک نے کہا کہ حکام لوگوں کو یہ بتائے بغیر گھر چھوڑنے کا حکم نہیں دے سکتے کہ وہ کہاں جائیں گے، کیسے زندہ رہیں گے اور ان کے تحفظ کے لیے کیا ٹھوس انتظامات کیے گئے ہیں۔
تنظیم نے زور دیا کہ کسی کو بھی ان کے حقوق، وقار اور قانونی تحفظ کا مکمل احترام کیے بغیر ان زمینوں کو چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے جہاں ان کے آبا و اجداد نے زندگی گزاری اور جہاں وہ دفن ہیں۔


















































