بلوچستان میں پاکستانی فورسز پر متعدد حملوں کی اطلاعات، ہلاکتوں اطلاعات

46

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز کے قافلوں، گاڑیوں اور چوکیوں پر مسلح حملوں اور دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جبکہ کئی فوجی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

زیارت کراس کے مقام پر پاکستانی فورسز کے ایک قافلے کو مسلح حملے میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں دو گاڑیاں تباہ ہوئیں، جن میں ایک فوجی ٹرک بھی شامل تھا، جبکہ تقریباً 15 اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ بعض ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور اہلکاروں کے ہتھیار بھی اپنے قبضے میں لئے گئے۔

دوسری جانب سوراب کے حاجیکہ علاقے میں بھی پاکستانی فورسز کے قافلے کو گاڑی میں نصب دھماکا خیز مواد کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جن میں ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ دوسری کو جزوی نقصان پہنچا۔

دھماکے کے نتیجے میں 10 اہلکاروں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔

رپورٹس کے مطابق سوراب میں گزشتہ رات سے انٹرنیٹ سروس معطل ہے، جبکہ خضدار اور قلات میں بھی نیٹ ورک سروسز بند کیے جانے کا اطلاعات موصول ہوئی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق واشک میں پاکستان فورسز کا تقریباً 18 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ سی پیک روٹ پر ایک بڑے حملے کی زد میں آیا۔ ابتدائی اطلاعات میں شدید جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم اس واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

زیارت کراس کے قریب ڈپٹی کمشنر ہرنائی کے اسکواڈ پر بھی حملے کی اطلاع ہے۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ واقعے میں دو مسلح افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کی مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

مستونگ کے گورو علاقے میں کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر پاکستانی فورسز کے ایک قافلے پر مسلح افراد کی جانب سے گھات لگا کر حملے کی بھی اطلاعات ہیں۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے میں کتنی ہلاکتیں یا نقصانات ہوئے۔

ادھر نوشکی کے کشنگی علاقے میں سینڈک منصوبے سے منسلک گاڑیوں کو بھی مسلح افراد کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے۔ واقعے کی نوعیت اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر مزید معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

ضلع کیچ میں تمپ، گومازی اور ملانٹ کے درمیان پاکستانی فورسز کی ایک چوکی پر حملے کی بھی اطلاع ہے۔ مقامی اطلاعات کے مطابق علاقے میں کم از کم پانچ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم دھماکوں کی نوعیت، ممکنہ جانی نقصان اور چوکی کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں ماضی میں بھی پاکستانی فورسز، سرکاری تنصیبات اور سی پیک و معدنی منصوبوں سے وابستہ مقامات کو بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ مذکورہ حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔