سابق پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کو انسداد دہشتگردی عدالت کوئٹہ میں پیش کردیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حوالے کردیا۔
ڈاکٹر عائشہ فیض کو سی ٹی ڈی کی جانب سے انسداد دہشتگردی عدالت کے جج سید علی مبین کے روبرو پیش کیا گیا۔ دورانِ سماعت تفتیشی حکام کی جانب سے عدالت سے ڈاکٹر عائشہ فیض کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تاکہ مقدمے سے متعلق مزید تفتیش اور شواہد اکٹھے کیے جاسکیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل اور تفتیشی حکام کی استدعا سننے کے بعد ڈاکٹر عائشہ فیض کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں سی ٹی ڈی کے حوالے کردیا۔
ذرائع کے مطابق سابق پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف ایک مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں بھی درج ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ مقدمے میں بھی ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
دوسری جانب سابق پولیس سرجن کے خلاف تقریباً تین روز قبل کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) میں بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کی تحقیقات کے سلسلے میں انہیں حراست میں لے کر عدالت میں پیش کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی کی جانب سے عدالت کو مقدمے اور تفتیش سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا گیا، تاہم مقدمے میں عائد دفعات اور الزامات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
عدالت کی جانب سے تین روزہ جسمانی ریمانڈ دیے جانے کے بعد سی ٹی ڈی حکام ڈاکٹر عائشہ فیض سے مقدمے کے حوالے سے مزید تفتیش کریں گے۔ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر عائشہ فیض نے چند روز قبل پریس کانفرنس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال، اس کے تاریخی پس منظر اور حالیہ واقعات پر اظہارِ خیال کیا تھا۔
انہوں نے بلوچ آزادی کی تحریک میں خواتین کے کردار پر بات کی تھی۔ مزید برآں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے آئندہ پرتشدد واقعات کی صورت میں مستونگ کے باغات کو بلڈوز کرنے سے متعلق بیان کی بھی مذمت کی تھی۔












































