حوثیوں کا باب المندب کے قریب العمری فوجی اڈے اور جزیرہ زقر پر کنٹرول کا دعویٰ

40

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یمن کی حوثی تحریک (انصار اللہ) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے آبنائے باب المندب پر نظر رکھنے والے اہم فوجی مرکز العمری گارژن کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

حوثیوں کے مطابق ان کی بحری فورسز نے بحیرۂ احمر میں واقع اہم جزیرہ زقر پر بھی مکمل کنٹرول قائم کر لیا ہے اور جزیرے کو مخالف فورسز سے خالی کرا لیا گیا ہے۔

باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس علاقے میں کسی بھی فریق کی عسکری پیش قدمی عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل کے لیے اہم نتائج مرتب کر سکتی ہے۔

حوثیوں کے دعوے پر یمنی حکومت یا سعودی حمایت یافتہ فورسز کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم حالیہ دنوں میں مغربی یمن کے ساحلی علاقوں میں شدید لڑائی اور حوثیوں کی پیش قدمی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

حوثی فورسز باب المندب سے صرف 75 کلومیٹر دور: عینی شاہدین نے یمن کے بندرگاہی شہر مخا میں کیا دیکھا؟

عینی شاہدین اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے سٹریٹجک بندرگاہی شہر مخا پر قبضہ کر لیا ہے۔

مخا پر قبضے کے بعد ایران کا حمایت یافتہ گروہ آبنائے باب المندب سے صرف 75 کلومیٹر دور رہ گیا ہے۔

آبنائے باب المندب ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جو ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارتی راستے کے جنوبی دروازے کی حیثیت رکھتی ہے۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہیں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کوئی خطرہ نہیں سمجھا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے سعودی عرب سے وابستہ جہازوں کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی کا اعادہ کیا ہے۔

یمن کے بندرگاہی شہر مخا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بدھ کی شب حکومت نواز افواج کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد حوثی جنگجو شہر میں داخل ہو گئے، جس کے نتیجے میں متعدد خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔

شہر کے رہائشی ایک شخص نے بی بی سی عربی کے پروگرام مڈل ایسٹ لائف لائن کو بتایا کہ ’شہر پر قبضہ اچانک ہوا، کسی قسم کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے باعث لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ صورتحال اتنی خراب تھی کہ زخمی افراد سڑکوں پر پڑے تھے اور ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔‘

ایک اور شخص نے بتایا کہ جمعرات کو حوثی جنگجو مخا شہر کی سڑکوں پر گشت کر رہے تھے، جبکہ سرکاری دفاتر اور دکانیں بند تھیں۔

انہوں نے مزید کہا: ’اس وقت ہمیں نہیں معلوم کہ انصار اللہ (حوثی) کیا کرے گی۔ ہر شخص اپنی سلامتی کے بارے میں خوفزدہ ہے۔‘

بے گھر ہونے والے بہت سے خاندان مشرق کی جانب شہر عدن کا رخ کر رہے ہیں، جہاں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدارتی کونسل اور حکومت قائم ہیں۔

ایک خاتون نے بی بی سی عربی کو بتایا ’ہم اپنے بچوں کے ساتھ بھاگ نکلے اور مسلسل دوڑتے رہے۔ ہمارے پاس نہ بستر ہے، نہ گھر اور نہ ہی کوئی سامان۔ ایک گھنٹے کے اندر سب کچھ تباہ ہو گیا۔ انہوں نے ہمیں نہ کوئی موقع دیا اور نہ ہی پہلے سے خبردار کیا تھا۔‘

’ہم ایسی خواتین ہیں جن کے پاس اپنا دفاع کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں اور ہمارے ساتھ معصوم بچے بھی ہیں۔‘

تاہم حوثیوں کی جانب سے مخا پر قبضے کی باضابطہ تصدیق فوری طور پر سامنے نہیں آئی ہے۔

حوثیوں سے منسلک المسیرہ ٹی وی کے مطابق انصار اللہ کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ’سعودی دشمن کے حمایت یافتہ دستوں کو باہر نکالنے کے بعد مغربی ساحلی اضلاع میں جھڑپیں ختم ہو گئی ہیں۔‘

یمنی حکومت کی حامی نیشنل رنزسٹنس فورسز کے سربراہ طارق صالح نے بھی کہا کہ انہوں نے مغربی ساحل پر واقع اپنا کمانڈ سینٹر ایک ’محفوظ مقام‘ پر منتقل کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی فورسز نے ’حالیہ دنوں میں ایران کی منصوبہ بندی اور حمایت سے ہونے والی حوثیوں کی پیش قدمی کا سامنا کرتے ہوئے بھاری قیمت چکائی ہے۔‘

دوسری جانب ایک یمنی فوجی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثی جنگجوؤں نے بحیرۂ احمر میں واقع جزیرہ زقر پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جو مخا سے تقریباً 80 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ ان کے مطابق حوثیوں نے راکٹ فائر کیے اور کشتیوں کے ذریعے زمینی حملے کے بعد جزیرے کا کنٹرول حاصل کیا۔

اس دوران یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد علیمی نے عرب ممالک اور دیگر ریاستوں پر زور دیا کہ وہ یمن کے ساحلی علاقوں کے تحفظ اور ملک پر ریاستی کنٹرول کی بحالی میں مدد فراہم کریں۔

حوثیوں کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے ’(یمن کی) خودمختاری اور علاقائی پانیوں کے دفاع کے اپنے حق‘ پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو یقین دہانی کروائی کہ بحیرۂ احمر میں جہاز رانی بدستور محفوظ ہے۔

تاہم اس نے یہ بھی واضح کیا کہ سعودی بحری جہازوں پر عائد پابندی بدستور برقرار ہے۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے مغربی صوبوں تعز، الحدیدہ، مأرب اور الجوف میں 64 فضائی حملے کیے۔

سعودی فوج کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

تاہم یمن میں حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے بدھ کی شام کو کہا تھا کہ وہ جنوب مغربی سعودی شہروں خمیس مشیط، ابہا اور جازان پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے ایک سلسلے کا جواب دیں گے۔

سعودی حکام کے مطابق منگل کو حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب پر درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے، جس کے نتیجے میں 73 شہری زخمی ہوئے اور کئی تیل تنصیبات میں آگ لگ گئی، جس سے ان کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل ہو گئیں۔

حوثیوں کا کہنا تھا کہ یہ حملے حالیہ دنوں میں ہونے والی درجنوں سعودی فضائی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔

ان کارروائیوں میں پیر کے روز صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں واقع ایک جیل پر حملہ بھی شامل تھا، جس کے بارے میں حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ اس میں کم از کم 23 شہری ہلاک ہوئے۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یمن کی تباہ کن خانہ جنگی میں حوثیوں کے خلاف یمنی حکومت کی حمایت کرتا آ رہا ہے۔

چار سال سے جاری غیر رسمی جنگ بندی جولائی میں کمزور پڑنا شروع ہوئی، جب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف ’بحری پابندی‘ کا اعلان کیا اور سعودی ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بحیرۂ احمر میں موجود آئل ٹینکروں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔

حوثیوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر سعودی پابندیوں کے ساتھ ساتھ صنعا ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک فضائی حملے کا جواب دے رہے ہیں، جس کا الزام انہوں نے سعودی عرب پر عائد کیا۔