20 اگست: دل میں زندہ ایک خوبصورت یاد
تحریر: وسیما بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
سربلند ہمارے لیے صرف ایک نام نہیں، بلکہ ایک ایسی یاد ہے جو ہماری اجتماعی یادداشت میں اب رچ بس چکی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے بارے میں جو خواب دیکھے اور اپنے لوگوں کے لیے جو امیدیں رکھی تھیں، وہ آج بھی ہمیں یاد آتی ہیں۔ ان کی جدائی کا غم ہمارے لیے بہت بڑا ہے، مگر ان کے کردار نے ہمارے درد و دکھ کو بھی دفن کر کے ہمیں ایک ایسی بلند و بالا فکر سے جوڑ دیا جو ایک قوم کے لیے نہ صرف مشعلِ راہ ہے بلکہ عظیم کردار بننے کے لیے بھی ایک مثالی تصور سے کم نہیں ہے۔ یہی مثالی کردار کا تصور، اجتماعی یادداشت اور قربانی کا فلسفہ ہماری قومی وقار اور تشکیلِ ریاست کے لیے اہم عناصر ہیں۔ آج ہم انہی یادداشتوں کو بلوچ قومی دانائی و حکمت کے ساتھ پرکھتے ہیں اور عملاً انہیں اپنی زندگی کا اہم حصہ بھی سمجھتے ہیں جو ہمیں نہ صرف وقتِ مصیبت میں حوصلہ افزائی دیتے ہیں بلکہ بلوچ قوم پرستی سے جڑ کر ایک حقیقی راہ پر ہماری توجہ کو مرکوز کرتے ہیں۔ اسی لیے بیس اگست ہمارے لیے یادداشت و تاریخ کے دریچے کا اہم حصہ ہے۔
سربلند اکثر اپنے وطن اور اپنے لوگوں کی بات کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ انسان کو اپنے وطن کے لیے محنت، ہمت اور خلوص کے ساتھ کام کرنا چاہیے کیونکہ غلامی کے وقت اپنی ذاتی خواہش، زندگی اور گھربار کو بلائے تاک رکھ کر قومی فرض کے ساتھ وفاداری برتنی ہوگی۔ اگر ان نازک حالات میں ہمیں اپنی زندگی پیاری ہوئی تو قومی شناخت کو خاک میں ملانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ آج جب میں ان کی باتیں یاد کرتا ہوں تو دل بہت اداس ہو جاتا ہے۔ ان کی آواز اور ان کے الفاظ آج بھی میرے ذہن میں گونجتے ہیں کہ کیوں ہم اس وقت ان مثالی باتوں کو سمجھنے سے قاصر رہے۔
آپ کی عظیم قربانی نے ہمیں احساسِ غلامی، قومی فریضہ اور وطن سے محبت کرنے کا سلیقہ سکھایا۔ اب بلوچستان کا ہر گوشہ، ہر مسکن، ہر علاقہ ہماری ذات سے زیادہ عظیم ہے لیکن گوادر کا ساحل منزلِ مقصود کی طرح میرے وجود میں ڈھل چکا ہے۔ کیونکہ گوادر میرے لیے صرف ایک جگہ نہیں، بلکہ میری سربلند جان کی یادوں سے جڑی ہوئی جگہ ہے۔ وہاں کا ہر منظر مجھے ان کی یاد دلاتا ہے۔ ایک عزیز انسان کو کھونا بہت بڑا دکھ ہے، اور اس دکھ کو الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ان کی یاد ہمیشہ میرے دل میں ایک خاص مقام رکھے گی۔
میں ان تمام بہنوں اور خاندانوں کے دکھ کو بھی سمجھتا ہوں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے ہیں۔ کسی بھائی، بیٹے یا عزیز کی جدائی کا درد بہت گہرا ہوتا ہے۔ ایسے خاندانوں کے دکھ کو سمجھنا اور ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ مگر سربلند کی قربانی نے ہمیں سکھایا کہ کمزوری کو کس طرح طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ تو اس عظیم کردار کے خون کے ہر قطرے کو نظریاتی فکر میں تبدیل کریں اور میری بہنوں سے یہی گزارش ہے کہ اپنے دکھ کو حوصلے میں بدلیں، اپنے پیاروں کی عظیم یادوں کو زندہ رکھیں اور اپنی قومی شناخت کی خاطر اگر خاردار راستوں سے گزرنا ہو تو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کریں۔ ہماری طاقت اس وقت مضبوط ہوگی جب ہم سچ، صبر اور امن کا راستہ اختیار کریں گے۔
سربلند جان کی یاد مجھے یہ احساس دلاتی ہے کہ زندگی میں اپنے لوگوں کے لیے اچھا کام کرنا، تعلیم حاصل کرنا، دوسروں کا ساتھ دینا اور اپنی قوم کے لیے مثبت کردار ادا کرنا بہت اہم ہے۔ میں جب تک زندہ ہوں، اپنے وطن اور اپنے لوگوں کے لیے اچھے اور پُرامن کام کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔
سربلند جان آج ہمارے درمیان نہیں، لیکن ان کی یاد ہمارے دلوں میں موجود ہے۔ گوادر میرے لیے ہمیشہ ایک یادگار جگہ رہے گا، کیونکہ وہاں ان کی یادیں وابستہ ہیں۔ ہم اپنے پیاروں کو واپس نہیں لا سکتے، مگر ان کی اچھی یادوں کو عزت، محبت اور امن کے ساتھ ہمیشہ زندہ رکھ سکتے ہیں۔
میرا بڑا بھائی ہمارے گھر کی وہ روشنی تھا جس کے ہوتے ہوئے ہر چیز مکمل محسوس ہوتی تھی۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ گھر میں کچھ بھی نہ ہو، بس میرا بڑا بھائی میرے پاس ہو۔ اس کی موجودگی ہی میرے لیے سکون، حوصلہ اور خوشی تھی۔ آج بھی گھر کے کسی کونے میں اس کی یاد آتی ہے تو دل خاموش ہو جاتا ہے، اور آنکھیں اسے ڈھونڈنے لگتی ہیں۔ لیکن میں اس بات پر افسردہ یا پشیمان نہیں ہوں کہ وہ آج ہمارے ساتھ موجود نہیں ہے، بلکہ میں جانتا ہوں کہ اس نے ایک ایسا راستہ اپنایا ہے جس میں پوری قوم کی فلاح و بہبود، وقار اور کامرانی وابستہ ہے۔ اسی لیے اس نے اپنی زندگی کو اس قوم کے عظیم مقصد کے خاطر وقف کر دی۔
کبھی کبھی جب میں یادوں کے دریچے سے دیکھتا ہوں تو آپ صرف ایک بہن کے لیے بڑے بھائی نہیں تھے بلکہ باپ کے سائے کی طرح، دوست جیسا سہارا اور مشکل وقت میں حوصلہ تھے۔ تمہاری باتیں، تمہاری مسکراہٹ اور تمہارا خیال رکھنے کا انداز آج بھی میرے دل میں محفوظ ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، مگر کچھ رشتوں کی کمی کبھی پوری نہیں ہوتی۔ تم جتنا یاد آتے ہو، اتنا ہی دل تمہاری موجودگی کو ترستا ہے۔
سربلند جان، تم ہمارے گھر کی وہ روشنی تھے جس کی قدر شاید تمہارے ہوتے ہوئے پوری طرح سمجھ نہ سکی۔ آج تمہاری یاد میرے دل میں ایک ایسی جگہ رکھتی ہے جہاں کوئی اور نہیں آ سکتا۔ میری دعا ہے کہ تم ہمیشہ سکون میں رہو، اور میری ہر دعا میں تمہارا ذکر رہے۔ ایک بہن اپنے بڑے بھائی کو کبھی نہیں بھولتی؛ تم میری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہو گے۔
بیس اگست سربلند جان کی یاد کا دن ہے۔ اگست کا مہینہ آتے ہی وہ دن بار بار یاد آتا ہے، جب تم ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ تمہاری یادیں آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔
سربلند جان، تمہاری بہت یاد آتی ہے۔ تمہاری باتیں، تمہاری مسکراہٹ اور تمہاری یادیں آج بھی دل کے قریب ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، مگر کچھ لوگ دل سے کبھی دور نہیں ہوتے۔ ہم تمہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ تمہاری یاد ہمارے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گی، اور بیس اگست کا دن ہر سال تمہاری یاد کو مزید تازہ کر دے گا۔
بیس اگست آتے ہی دل پھر تمہیں یاد کرتا ہے
تم بچھڑے تو جیسے گھر کی ایک روشنی کم ہو گئی
وقت گزر گیا، مگر تمہاری یاد آج بھی ویسی ہی ہے
آنکھیں خاموش ہیں مگر دل ہر لمحہ تمہیں پکارتا ہے
سربلند جان، تم بہت یاد آتے ہو، آج بھی، ہمیشہ بھی
سربلند جان کی ذمہ داریوں کو آگے بڑھانا ہے، ہم سب تو سربلند جان تو نہیں بن سکتے لیکن ہم کوشش کریں گے کہ ایک سچے اور مخلص جہدکار بننے کے لیے شب و روز محنت کریں۔ آج جب بھی میں سربلند جان کے بارے میں سوچتی ہوں تو بس ان کا نظریہ، سوچ و فکر، اپنائیت، خلوص اور محبت مجھے یہ احساس دلاتی ہے کہ سچے اور بہادر جہدکار صرف جسمانی حوالے سے ہم سے دور ہیں، فکری اور شعوری حوالے سے نہیں۔
اب اگر سورج گوادر کے سمندر کو دیکھ کر روشنی دے گا تو وہ روشنی فدائی سربلند کی فکر کو لے کر تمام جگہوں کو یہ پیغام دے گی کہ اس سرزمین کے ”زرپہازگ” نیلے سمندر کو غلامی سے چھٹکارا دینے کے لیے ضرور آئیں گے۔
پروم کی سرزمین نے سربلند جان جیسے بیٹے کو جنم دیا۔ ان کی قربانی ایک ایسی یاد ہے جسے وقت آسانی سے مٹا نہیں سکتا۔ اس کی یاد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اپنے وطن سے محبت، اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھانا اور اپنے مقصد پر ثابت قدم رہنا اہم ہے۔ ہمیں ان کے خوابوں کو سمجھتے ہوئے اپنے وطن کے بہتر اور پُرامن مستقبل کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایک جہدکار کے طور پر ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہمیں شہداء کے نقش قدم پر ہمگام ہو کر، ان کے فلسفے کو زندہ رکھتے ہوئے سربلند جان کے مشن کو تکمیل تک پہنچانا ہے اور اس عزم کا اعادہ بھی کرنا ہوگا کہ ہمیں شہداء کے سامنے سرخرو ہونا ہے، کیونکہ آج نہ صرف شہداء کی امیدوں کو پورا کرنا ہوگا بلکہ اپنی سرزمینِ مادرِ وطن بلوچستان کے لیے آخری سانس اور آخری گولی تک لڑنا ہوگا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔