ماہ رنگ، اخلاقیات، انقلابیت، حقیقت، اور عشقِ وطن کی غیر مروئی داستان
تحریر: ہارون بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
گزشتہ دو ماہ میں تقریباً تین چار مرتبہ میں نے تمہارے لیے تحریریں لکھیں، ان میں سے بیشتر میں نے مٹا دی ہیں اور چند ابھی بھی رکھی ہوئی ہیں۔ انہیں بار بار شائع کرنے کا سوچا، لیکن کبھی تحریریں کمزور لگیں جو میرے حقیقی جذبات کا احاطہ نہیں کر رہی تھیں، اور کبھی تم سے وابستہ جذبات کی وجہ سے الفاظ اور خیالات دونوں بھاری پڑ جاتے، کیونکہ ہمارے یہاں اکثر جذبات کو کمزوری کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ گو کہ مجھے معلوم ہے، ڈاکٹر، تم جذبات کو کمزوری کی علامت نہیں سمجھتے، کیونکہ یہ ہم نے تم سے سیکھا تھا کہ حقیقی جذبات، درد اور اپنے لوگوں و انقلابی ساتھیوں کو تکلیف میں دیکھ کر آنکھوں سے بے جھجھک نکلتے آنسو کسی کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ سچے جذبوں کی نشانی ہیں، جنہیں سچے انسان ہی سمجھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں۔
ماہ رنگ کو بطور عوامی رہبر، قائد اور موبلائزر دیکھنا، اور اسے بطور ایک انقلابی جہدکار و سنگت دیکھنا، سمجھنا اور اس کے کردار کو واضح کرنا دو مختلف پہلو ہیں، کیونکہ حقیقی کردار اسکرین پر دکھائی نہیں دیتا، وہ اپنے انقلابی سرکلوں میں دیکھا اور سمجھا جاتا ہے، وہی زندگی کرتا ہے۔ ماہ رنگ کی حقیقی شناخت انقلاب، جدوجہد، عشقِ وطن، سنگتی اور قربانی کی اس گہرائی تک پھیلی ہوئی ہے جہاں صرف وہ خود موجود ہے اور جہاں اسے صرف اس کے انقلابی، فکری اور نظریاتی سنگت ہی جانتے ہیں۔ ماہ رنگ کو لکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ جدوجہد اور جنگ کے کسی بھی محاذ اور مقام پر ہمیں یاد رہے کہ ایک ایسی انقلابی ساتھی ہیں جو سلاخوں کے پیچھے قید ضرور ہیں، مگر فکری اور نظریاتی حوالے سے وہ ہمارے ساتھ رہتی اور زندگی کرتی ہیں، جدوجہد کرتی ہیں اور ہمیں ہمت دیتی ہیں کہ ہم ہر حالات کا مقابلہ کرے۔
وہی ماہ رنگ جو انقلاب کی صرف باتیں اور تقریریں نہیں کرتی، بلکہ وہ انہیں جیتی ہے، ان میں زندہ رہتی ہے اور ان میں مرتی ہے۔ جو دشمن کے سامنے ہو تو بولان کی سخت پہاڑی جذبہ اپناتی ہے، اور جب وہ اپنی عوام، انقلابی جہدکار اور سنگتوں میں ہو تو اس کی روح چلتن کے گواڑغ کی شکل اختیار کرتی ہے، جس کا کردار ہر حوالے سے گواڑغ جیسا خوبصورت ہے، گویا بلوچستان کی تمام خوبیاں ان کے کردار میں رچ بس چکی ہوں، جو بہادر بھی ہے، للکار بھی رکھتی ہے اور وہ درد اور اذیت کی اس داستان میں بھی جیتی ہے جہاں غلامی کے بدترین دور میں ان کے لوگ زندگی کرتے ہیں۔ ماہ رنگ کی زبان میں للکار اس لیے ہوتی ہے کیونکہ اس کے دل میں عشقِ وطن کی وہ کہانی موجود ہے، جس کے ذرے ذرے میں درد اور اذیت موجود ہیں۔ ماہ رنگ بلوچستان کے لیے جدوجہد نہیں کرتی، بلکہ وہ بلوچستان کو جیتی ہیں؛ اس کے ذرے ذرے کو، اس کی بہادری، محبت اور اذیت کو، ان تمام جذبات میں زندگی کرتی ہیں، گویا وہ بلوچستان کا انسانی عکس ہیں۔ وہ ماہ رنگ، جسے ایک انقلابی شاعر نے یوں دو بند میں مکمل قید کرکے بیان کیا تھا کہ:
من ہر دیں بلوچستان گشاں
ماہ رنگ منی زبان ءَ کئیت
(میں جب بھی بلوچستان کہتا ہوں)
(ماہ رنگ میرے زبان پر آتی ہے)
ماہ رنگ کے انقلابی سنگت، اس کے ساتھ انقلابی زندگی کرنے والے بخوبی اس علم سے آگاہی رکھتے ہیں کہ وہ صرف ایک مشہور نام نہیں بلکہ بلوچ جدوجہد کا ایسا کردار ہیں جو خود میں ایک انقلابیت رکھتی ہیں، ایسا انقلاب جس کے پاس عمل اور حقیقت اس کی سب سے بڑی سچائیاں ہیں، بلکہ اس کی زندگی اور اخلاقیات خود انقلاب کو معنی بخشتی ہیں۔ ہم اکثر تھیوریز میں انسانوں کو ڈھونڈتے ہیں، جبکہ حقیقی انسان اپنی ذات میں نظریے کی مانند ہوتے ہیں، کیونکہ نظریہ انسان کو نہیں بلکہ انسان نظریہ بناتا ہے۔ علم، عمل اور اثر جب ایک ساتھ ہوں تو نظریہ پیدا ہوتا ہے، اور جو ماہ رنگ کو سمجھتے ہیں وہ اس کے کردار میں عمل، حقیقت اور اثر تینوں سے آشنا ہیں۔
گویا ماہ رنگ کی روح میں بلوچستان کی عظمت چھپی ہوئی ہو۔ وہ عظمت جہاں آج تک میں نے اپنی زندگی میں بہت کم، بلکہ گنے چنے انسانوں کو پہنچتے دیکھا ہے، کیونکہ معیار یہ نہیں ہوتا کہ آپ کو دنیا کیسے جانتی اور پہچانتی ہے، معیار یہ ہے کہ آپ کو آپ کے اردگرد، آپ کے قریبی لوگ، آپ کے سرکل میں موجود افراد کیسے دیکھتے ہیں۔ آپ کی عظمت کا اندازہ شاید پردے پر ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ ان بند دائروں میں موجود رہتا ہے جہاں آپ اٹھتے، بیٹھتے اور اپنے لاشعور میں موجود حقیقت کے ساتھ زندگی کرتے ہیں، کیونکہ حقیقت وہ نہیں جسے تم ظاہر کرتے ہو، بلکہ انسانی حقیقت ہر وقت اس کے اندر چھپی ہوئی ہوتی ہے جسے وہ لاشعور میں جیتا ہے، اور وہی انسان کی اصل شناخت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر انقلاب میں، جدوجہد میں، تحریک میں وہ زندہ حقیقت ہیں جو اپنے کردار اور معنی کو کسی کے الفاظ میں یا اظہار میں نہیں بلکہ اپنے عمل اور اخلاقیات میں دیکھتی ہیں۔ وہ لوگوں کے اظہار سے زیادہ اپنے افکار کو جیتی ہیں، کیونکہ اظہار وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں، مگر اخلاقیات، حقیقت، افکار، خیالات، مقصد اور معنی وقت کے ساتھ بدلنے والی چیزیں نہیں ہوتیں، وہ زندگی جینے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ ماہ رنگ کی زندگی اور عظمت ان بنیادوں پر قائم ہے۔
ڈاکٹر کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ وہ جو ہے، وہ اسی میں جیتی ہے۔ جب وہ اپنے لوگوں کا درد محسوس کرتی ہے تو وہ اپنے آنسو چھپاتی نہیں۔ ہم اکثر لوگوں کو اپنی حقیقت رد کرنے، چھپانے اور اس کی مصنوعی شکل دینے میں وقت لگاتے دیکھتے ہیں، اور جب کبھی ان کا سچائی سے سامنا ہوتا ہے تو وہ بکھر جاتے ہیں یا زیادہ مصنوعیت اختیار کرنے پر زور دیتے ہیں، جبکہ ایک حقیقی کردار کی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی حقیقت کے ساتھ جیتی ہے، کیونکہ حقیقت کے ساتھ جینا کبھی کبھار مشکل ہوتا ہے۔
ڈاکٹر کی شخصیت میں ایک نہایت احساس حصہ اس کا اپنے قوم، جہدکاروں اور انقلابی سنگتوں سے بے انتہا جذباتی وابستگی ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ڈاکٹر کے پاس ایک ڈائری ہوتی تھی، اور اس ڈائری میں وہ صرف بلوچ شہدا کے نام لکھتی تھیں۔ شہدا کے نام لکھ کر وہ اسے ایک ڈائری کی صورت میں اپنے پاس رکھتی تھیں، اور مقصد اتنا تھا کہ وہ ہر شہید کے نام کو یاد رکھنا چاہتی تھیں، تاکہ وہ سونے سے پہلے ان شہدا کے نام ایک مرتبہ پڑھیں اور انہیں یاد رکھیں، کیونکہ بلوچ شہدا، ان کا مقصد، جدوجہد اور قربانیاں ان کی روح کا حصہ بن چکی تھیں۔ اور مقصد جب انسان کی روح کا حصہ بن جائے، اور انسان جب ماہ رنگ کے مقام کا ہو، تو یقیناً ان کا ملاپ انقلاب کی صورت میں ہی نکل سکتا ہے۔ اور انہوں نے اپنے عمل، کردار اور ثابت قدمی سے واضح کر دیا کہ اگر مقصد اور کردار بڑے ہوں تو انقلاب ہر حالت میں ممکن بنایا جا سکتا ہے، اور انہوں نے وہی کیا جو ان کے مقام کا تھا، کیونکہ ماہ رنگ کا مقام بہت اونچا ہے۔ وہ ایک مکمل کردار ہیں، جس کے گفتار میں، عمل میں اور کردار میں کوئی ایک انچ بھی تضاد نہیں۔ اتنے صاف، شفاف، عملی اور اپنے جذبات میں حقیقت اور کردار میں واضح انسان بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔
ہم اکثر پلیٹ فارمز میں اثر ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی ناکامیوں کو جواز دینے کی نت نئے تھیوری پیش کرتے ہیں، مگر تاریخ ثابت کرتی ہے کہ پلیٹ فارمز نہیں، عمل اور کردار نتیجے کا ہمیشہ سبب بنتے ہیں، کیونکہ جدوجہد میں آپ جو بھی طریقہ کار اپنائیں، جہاں بھی کام کریں، لیکن مخلصی، صلاحیت، ہنر، نیک نیتی، محنت، حقیقت اور سچے جذبوں سے کام کرنا بنیادی شرط ہے، اور نیک نیتی و محنت سے جو بھی کام کیا جائے اور جہاں بھی کام کیا جائے، وہ قوم اور وطن کو وہی نتیجہ دے سکتا ہے جو ہر محاذ دے سکتا ہے۔
ماہ رنگ کی سیاست اس لیے کامیاب ہے کیونکہ انہوں نے سیاست جیسے عظیم راستے کا انتخاب عارضی مفادات کی تکمیل کے لیے نہیں کیا۔ ماہ رنگ کی سیاست کا مطلب ایک مخصوص اور محدود دائرے میں رہ کر ذاتی زندگی اور انقلابی زندگی کے درمیان ایک بیلنس قائم رکھنا اور دونوں کو ایک ساتھ لے کر جانے کی ایک کوشش نہیں تھی، بلکہ سیاست کو انہوں نے قومی مقاصد تک پہنچنے کی اپنی زندگی کا ذریعہ بنایا تھا۔ ان کے لیے سیاست ایک مخصوص ذاتی ایجنڈے کو حاصل کرنا یا اپنا ذاتی مقام تعمیر کرنا نہیں تھا، اور نہ ہی انہوں نے سیاست کا انتخاب اپنی شناختی بقا کی حفاظت کے لیے کیا، بلکہ ان کی سیاست کا معنی و مطلب عظیم قومی مقصد تک پہنچنے میں ہے۔
ماہ رنگ جس سیاست پر یقین رکھتی ہیں، اس کا نتیجہ کمپرومائز یا حالات کے مطابق چلنا نہیں، بلکہ وہ حالات کو بنانے پر یقین رکھتی ہیں۔ وہ اپنے عمل اور مقصد میں مکمل طور پر بے باک، بے پروا اور کسی بھی نتیجے تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ ان کی حکمتِ عملی حالات کے مطابق چلنا اور اپنے لیے کمپرومائزڈ راستے تلاش کرنا نہیں، بلکہ وہ مقصد کے لیے بدترین حالات کے لیے بھی تیار ہوتی ہیں۔ ماہ رنگ قوم کو اٹھانے میں کامیاب اس لیے ہوئیں کیونکہ وہ وہی تمام نتائج اپنے لیے قبول کرنے کو تیار ہوتی ہیں، جس راستے پر وہ دوسروں کو آنے کی دعوت دیتی ہیں۔ ماہ رنگ سے دشمن کا خوف اور عوام کی محبت کی وجہ یہی وہ حقیقی اور آفاقی سچائی ہے جسے ہم اکثر لاشعور میں یا مختلف ٹرمینالوجی، تھیوری اور القابات میں رد کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
انقلاب ذاتی نتیجے کی پروا کرنے والے انسان کبھی لا نہیں سکتے۔ ماہ رنگ آج جہاں ہیں، وہ ان کی انقلابی سچائی کا نتیجہ ہے، کیونکہ تاریخ میں ہم نے انقلاب کا نتیجہ کمفرٹ میں، یا انفرادی خوشحالی یا آزادی میں نہیں دیکھا ہے۔ مجھے ڈر اور ترس اپنے اور ان تمام انقلابی ساتھیوں کے لیے اس وقت آئے گا جب وہ انقلاب کی راہ میں اذیت کے بجائے آزادی، درد کے بجائے خوشی اور سخت حالات کے بجائے کمفرٹ کا شکار ہوں گی۔ جس دن ایک انقلابی جدوجہدکار درد، اذیت، تکلیف اور سختیوں سے نکل کر آزادی سے جینے لگے، اسے خود سے سوال ضرور کرنا چاہیے کہ وہ انقلاب کے کس مقام پر کھڑا ہے، کیونکہ انقلاب حقیقی معنوں میں انگاروں پر چلنے کا نام ہے۔ ماہ رنگ جیل میں اس لیے ہیں کیونکہ انہوں نے انقلاب کو صرف تقاریر میں نہیں بلکہ اخلاقی، شعوری اور عملی صورت میں جیا ہے۔
ماہ رنگ کی شخصیت کا ایک خوبصورت ترین حصہ اس کے اندر موجود وہ مضبوط حقیقت ہے جو اس کے رگ رگ میں پائی جاتی ہے، اور اس حقیقت کو دنیا کی کوئی طاقت شکست دے نہیں سکتی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ سارا دن ڈاکٹر کے خلاف باتیں کرنے والے انسان جب بھی اس کے سامنے ہوتے تو ان کی آنکھیں ہمیشہ ڈاکٹر کے سامنے نیچی ہوتیں، کیونکہ ڈاکٹر کی حقیقت اس حد تک طاقتور ہے کہ اس کے سخت ناقدین بھی ان کے سامنے بولنے کی جرات رکھنے سے عاری رہے ہیں۔
ایسا نہیں کہ ڈاکٹر مکمل ہے، پورا ہے، ان میں کمزوریاں نہیں یا غلطیاں نہیں کرتیں، مگر وہ جو بھی ہیں، وہ ایک زندہ حقیقت ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر عمل ان کی اندرونی مضبوط حقیقت کا عکاس ہے۔ ان کا درد، اذیت، عمل، مہر، نفرت، ہر چیز حقیقت پر مبنی ہے۔ وہ جنگ کے کسی بھی سخت حالات میں بھی فریب، راہِ فراریت اور متضاد رویہ اپنانے والوں میں سے نہیں ہیں۔ وہ عمل میں حقیقت کو ساتھ لے کر چلتی ہیں، اس لیے وہ بلوچ جدوجہد و جنگ کا ایک مضبوط اور طاقتور ترین باب بن چکی ہیں، اور اس باب کو کمزور کرنا، رد کرنا، انکار کرنا، نظرانداز کرنا گویا بلوچ جنگ، جدوجہد، تکلیف، اذیت، درد اور اندرونی سچائی و حقیقت کو رد کرنے کے برابر ہے۔ ان کی غیر موجودگی میں بھی ان کی سچائی اور حقیقت کی جھلک ہر جگہ دکھائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر، مجھے پتا ہے کہ جیلیں تمہاری مضبوطی اور عظمت کو کبھی بھی کم یا کمزور نہیں کر سکیں گی، وہ تمہاری عظمت کو مزید بڑھائیں گی اور دشمن کو ایک دن ضرور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گی، کیونکہ تمہاری عظمت کم ہونے کے لیے پیدا نہیں ہوئی ہے۔ جو اچھے حالات میں اتنی بہادر، مضبوط، طاقتور اور اخلاقی معیارات کی اس اونچائی کو چھوتی ہو، وہ تکلیف اور مشکل وقت میں مزید طاقتور اور عظیم بنے گی، کیونکہ دشمن کو تمہاری عظمت کے مقام کا پتا نہیں۔
ماہ رنگ کی اندرونی اور حقیقی معنویت شاید اس اسکرین میں کبھی ظاہر نہ ہو جہاں لوگ اسے دیکھتے ہیں، بلکہ سلاخوں کے پیچھے جب وہ اپنے ساتھیوں کے نام ہمت بھرے پیغام بھیجتی ہیں، اور جب سخت حالات کی ایک جھلک لوگ محسوس کرنے سے گھبرا کر بھاگ نکلنے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں، وہ انہی سخت حالات میں مسکرا دیتی ہیں اور انہیں ہمت کی نصیحت کرتی ہیں۔ وہ سلاخوں کے پیچھے بھی اپنے لوگوں کا گلہ نہیں کرتیں بلکہ انہیں اپنی حفاظت اور سلامتی کا کہتی ہیں، کیونکہ وہ سب کا درد خود لینا چاہتی ہیں، وہ کمزور ہونا جانتی نہیں، وہ الزام دینے اور لگانے پر یقین نہیں رکھتیں۔ وہ ہر درد، ہر اذیت اپنے لیے قبول کرنا چاہتی ہیں، وہ ہر کسی کا درد شیئر کرنا چاہتی تھیں؛ زندان میں قید نوجوان اور اس کے خاندان کا درد، دور کسی ویرانے میں پڑے ماورائے عدالت قتل ہونے والے بلوچ کا درد، قومی فکر و آجوئی کے لیے شہادت پانے والے نوجوان کے خاندان سے لے کر ہر اس بلوچ کا درد جو تکلیف اور مشکل میں ہوتا ہے۔ کبھی کبھار ان کے چہرے پر صرف درد اور اذیتیں ہوتیں، انہیں دیکھ کر ہی بلاوجہ قومی اداسی محسوس ہوتی، مگر ماہ رنگ ان حالات کے رحم و کرم پر زندگی نہیں گزارنا چاہتی تھیں بلکہ ان حالات کا مقابلہ کرنا چاہتی تھیں۔
ہم اکثر گفتار کو عمل کا متضاد سمجھتے ہیں، لیکن ماہ رنگ گفتار کے ساتھ انصاف کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ ماہ رنگ کو کبھی کبھار سخت اور ضدی کہا جاتا ہے، یقیناً وہ قوم، زمین، مقصد اور اپنے لوگوں کے لیے ایک سخت ضدی انسان ہیں، ایسی ضدی جو ان کی خوشحالی و آجوئی کے لیے ہر انتہا کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ مجھے پتا ہے کہ جیل میں بھی وہ کسی چیز کے لیے بھیک نہیں مانگیں گی۔ چاہے انہیں اپنی زندگی کے لیے ایک مرتبہ بھی درخواست دینے کے لیے کہا جائے، تو وہ ذاتی طور پر ظالم کے سامنے اپنی زندگی کے لیے درخواست نہیں دیں گی۔ ماہ رنگ بھیک مانگنے سے سخت نفرت کرتی ہیں، چاہے وہ قومی مقاصد ہوں، سیاسی حالات ہوں یا اپنی ذاتی زندگی کی کوئی چیز، وہ کمزوری سے نفرت کرتی ہیں۔ جدوجہد میں اور سخت حالات میں جینا ان کی جیسی زندگی کا بنیادی نکتہ بن چکا ہے۔
ماہ رنگ اپنی شناخت ان سرخیوں میں ڈھونڈنے والوں میں سے نہیں ہیں جہاں پہنچ کر اکثر لوگ اپنی حقیقی شناخت کھونے پر زور دیتے ہیں اور مصنوعیت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں، بلکہ وہ اپنی شناخت اور حقیقت اپنے گھر والوں، اپنی انقلابی اور قومی ذمہ داریوں اور اپنے انقلابی سنگتوں کے درمیان دیکھتی رہی ہیں۔ اور جو لوگوں میں حقیقت کے ساتھ زندگی کرتا ہے، اس کے وجود کو رد کر دینا کبھی ممکن نہیں ہوتا۔ ماہ رنگ کی ہستی اور وجود آخری دم تک ساتھ رکھنے والی وجود ہے، کیونکہ ان کی جدوجہد، ہستی، وجود، محنت اور جذبہ قربانی نہ حالات و واقعات کے ساتھ بدلتا تھا اور نہ ہی انہیں حالات ان کی حقیقت سے الگ کر سکتے ہیں۔
وہ الفاظ کے ہیر پھیر میں گھومنے اور خود کو ثابت کرنے کے فلسفے پر یقین نہیں رکھتی۔ وہ واضح، سادہ اور شفاف، مگر پرمعنی اور حقیقت کے ساتھ چلنے والی ہیں، اور آج بھی وہ اپنی حقیقت جی رہی ہیں۔ انسان کی اپنی حقیقت اگر مضبوط ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اور حالات اس کے راستے کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ ہم جہاں معنی میں عمل تلاش کرتے ہیں، وہ عمل میں زندگی جینے والی لڑکی ہے؛ خوددار، ایماندار، باوقار اور اپنے فکر و نظریے اور اصولوں پر لڑنے والی۔ نہ صرف دشمن بلکہ وہ اپنے ساتھیوں کے درمیان بھی واضح اور دوٹوک حقیقت کے ساتھ جینے والی عورت ہے۔
غلامی اور کالونیل اثرات کی وجہ سے ہماری عورتیں ہمیشہ ایک جینڈر والی متاثرہ ذہنیت رکھتی ہیں، جہاں وہ خود کے لیے ہمیشہ ایک عورت کے طور پر برتاؤ، یعنی جینڈر کی بنیاد پر ہمدردی کا تقاضا کرتی ہیں۔ ماہ رنگ کی سچائی، حقیقت، عمل، جدوجہد اور معنویت میں مجھے کبھی عورت جیسا برتاؤ کرنے کا تقاضا کرتے نہیں دیکھا، وہ ہر میدان میں انسانی معیار، انقلابی اور عملی معیار کا تقاضا کرتی رہی ہیں۔ یہی چیز اسے بہت سارے لوگوں سے الگ کرتی ہے۔ وہ ہمدردی اور رحم کی بھیک مانگنے والی نہیں، وہ ایک معیاری مقام پر جینے والے کردار کے روپ میں زندگی کرتی ہیں۔
دنیا میں علم، اخلاقیات، آگاہی، شعور اس وقت معنی رکھتے ہیں جب انہیں جینے والا انسان موجود ہو، وہ انہیں جینے والا انسان ہے، اور مجھے یقین ہے کہ وہ آخر تک انہی اصولوں پر زندگی گزارے گی، چاہے وہ کتنی ہی اذیت ناک اور تکلیف دہ کیوں نہ ہو، کیونکہ غلامی کی زندگی میں ہم نے جن اخلاقیات کو پال پوس کر بڑا کر دیا ہے، وہ آخری گراوٹ تک پہنچ چکے ہیں، جہاں منافقت، فریب، جھوٹ، ذاتیات، انفرادیت پسندی اور حقیقت سے دور ایک مکمل نظام بنایا گیا ہے، جہاں کردار کشی بھی ایک معیار بنا دی گئی ہے۔
ان کردار کشوں کے درمیان رہتے ہوئے اپنے الگ اور حقیقی کردار کی تشکیل کرنا ایک الگ جنگ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ماہ رنگ کامیاب اس لیے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے کردار کشی کرنے والے انسانوں کے بارے میں بھی ایک مرتبہ لب کشائی نہیں کی، اور شاید ڈاکٹر، اگر آپ ہمارے درمیان ہوتیں، تو لازمی مجھے یہ لکھتے ہوئے بھی ڈانٹتیں کہ کسی کے بارے میں غلط کہنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ ہر انسان اپنے عمل کا جواب دہ خود ہے۔ سچے کردار کی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ وہ تاریخ کے کسی بھی موڑ پر خود کے سامنے مجرم نہیں ہوتا، کیونکہ وہ تاریخ میں صرف سچائی کے ساتھ جیتا ہے، سچائی کے ساتھ مرتا ہے، اور تاریخ یہ ثابت کر چکی ہے کہ سچ اور حقیقت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں ہوتی۔
ڈاکٹر کے کردار کی ایک بڑی خوبصورتی اس یقین پر قائم ہے کہ وہ کبھی بھی کسی بھی حالات میں مکر و فریب، کمپرومائز اور شارٹ کٹ طریقہ کار کا سہارا نہیں لیتی۔ وہ اس مقام کا لحاظ رکھتی ہے جہاں وہ موجود ہے، جہاں لوگوں کا بھروسہ ان پر قائم ہے، جہاں اسے ان کے لوگ اور ساتھی جانتے ہیں۔ وہ ایک ایسا انسان ہیں جس میں اخلاقیات کا معیار اس مقام تک ہے کہ جہاں میں نے گھر کے بعد سیاسی پلیٹ فارم پر حقیقی معنوں میں اخلاقیات دیکھی، اور میں نے ذاتی زندگی میں اخلاقیات کی حیثیت کا ادراک بھی ڈاکٹر کے کردار کو دیکھ کر شروع کیا۔ اور آج کم، مگر ایک ایسی سوچ پر یقین رکھتا ہوں کہ عظیم اخلاقیات کے بغیر تنظیم، تحریک اور قوموں کی بنیاد رکھنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ جھوٹ اور فریب میں قومیں اور عظیم ریاستیں تشکیل نہیں پائی جا سکتیں۔ ڈاکٹر سے اخلاقیات کی جو تعلیمات سیکھنے کو ملیں، میں انہیں آج بھی کسی حد تک جاری رکھنے کی کوشش کرتا ہوں، کیونکہ معلوماتی تعلیم حاصل کرنا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے زمانے میں شاید اتنا مشکل نہیں، مگر اخلاقی تعلیمات کا فقدان ہر مقام پر دیکھنے کو ملتا ہے، اور اخلاقی تعلیمات کا تعلق معلومات سے نہیں، انسان کی اندرونی ذات سے رہتا ہے اور اس کی اندرونی شخصیت سے تعلق رکھتا ہے۔
ہم اکثر مواقع دیکھتے ہیں، مواقع تلاش کرتے ہیں، اپنی شخصیت، کردار اور اپنی ذات کی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے، لیکن ڈاکٹر اسی چیز کو حقیقی عمل، ثابت قدمی اور حقیقی حالات کا مقابلہ کرنے میں دیکھتی ہیں۔ وہ کسی بھی شخص کے سامنے اپنی ذات کی صفائی اور اپنے عمل کی وضاحتیں نہیں دیتیں۔ وہ لمبے چوڑے آرگومنٹ دینے والی بھی نہیں، بلکہ وہ اپنی توجہ عمل پر دیتی ہیں۔ جنگ اور سیاست میں نظرانداز کرنا ایک صلاحیت ہے، ڈاکٹر میں نظرانداز کرنے کی صلاحیت انتہائی زیادہ ہے۔ وہ ان چیزوں پر توجہ دیتی ہیں جو معنی خیز ہیں، جو انہوں نے اپنے بچپن سے سیکھی ہیں، اور وہ اپنے عمل کی وضاحت نہیں دیتیں، وہ بس کرتی جاتی ہیں۔ کبھی کبھار راستے کے سامنے رکاوٹیں ان کے لیے اذیت پیدا کر دیتی ہیں، اور وہ کبھی بھی اس کا اظہار لوگوں کے سامنے نہیں کرتیں، بلکہ وہ اسے اندرونی سطح پر جذب کر لیتی ہیں، اور زیادہ اذیت ناک ہو تو رو لیتی ہیں، مگر اس کا اظہار نہیں کرتیں، کیونکہ وہ اجتماعی مقصد میں انفرادیت کو فنا کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ خاموش طبع ہیں، بلکہ وہ ہائپر بھی ہو جاتی ہیں، جذباتی بھی ہوتی ہیں، مگر وہ چند لمحوں کی انسانی کیفیت ہوتی ہے، وہ لمحوں میں ختم ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر میں ایک خوبصورت عادت اپنے لوگوں کو قبول کرنے کی ہے۔ جہاں ہم اپنی ذات پر ایک بات ہو جائے تو سالہا سال اس انسان سے نفرت کرنے میں گزار دیتے ہیں، وہیں وہ ان لوگوں کو بھی دل سے قبول کرتی ہیں اور انہیں ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہیں جو ڈاکٹر کی کردار کشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ وہ لوگ جو ان کے ہر ایک چھوٹے سے چھوٹے رویے اور کمزوری کو لے کر ہنگامہ کرتے ہیں، وہ انہیں بغیر کسی بغض کے قبول کرتی ہیں۔ ایسی عادتیں اور انقلابی فکر بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ اور ایسے لوگ جب ان کے پاس طاقت، اختیار و نمود ہو، تو وہ اپنی ذات کے ساتھ ایک انتہائی مضبوط مصنوعی تعلق قائم کرتے ہیں اور اپنی ذات کو مقدم سمجھنے لگتے ہیں، لیکن ماہ رنگ کی ذات ہمیشہ ایک انقلابی اور سیاسی جدوجہدکار کی رہی ہے۔ انہوں نے اس سے زیادہ اپنی ذات کو کوئی حیثیت نہیں دی ہے، اور آج جہاں وہ ہیں، وہ انہی مضبوط انقلابی خیالات کے ساتھ مضبوط تعلق کی وجہ سے ہیں۔
ڈاکٹر کے ساتھ لوگ اس لیے نہیں جاتے تھے کہ وہ انہیں بڑی امیدیں دیتی تھیں، بلکہ اس لیے جاتے تھے کیونکہ انہیں علم تھا کہ یہ لڑکی جنگ اور سخت حالات میں انہیں کسی بھی وقت دھوکہ نہیں دے گی۔ اگر کسی حالت میں پہلی لاٹھی پڑنے کو ملتی تو اسے کھانے والی وہی ہوتی۔ وہ جیل اور سختیوں کی پروا نہیں کرتی، کیونکہ وہ لوگوں کا درد صرف بتاتی نہیں بلکہ ان کا درد اپنے دل میں محسوس کرتی ہیں۔ ان کے لیے شہیدوں کا لہو صرف ایک سیاسی مقصد نہیں بلکہ ایک معنی، احساس، مقصد اور زندگی ہے، اور وہ اس معنی کے ساتھ جینے پر یقین رکھتی ہیں۔ ماہ رنگ مضبوط اس لیے ہیں کیونکہ ان کی زندگی اور سیاست کا تعلق صرف علم، شعور اور آگاہی سے نہیں بلکہ حقیقی احساس، جذبات اور زندگی کے معنی و مقصد سے ہے۔ وہ خود کو کسی مقام پر نہیں بلکہ ایک شہید کی بیٹی کے اندر دیکھتی ہیں، ایک سچے انقلابی جدوجہدکار کے اندر خود کو محسوس کرتی ہیں۔ ان کے لیے زندگی گویا قومی اجتماعیت میں دفن ہونے کا نام ہے۔
ایک سچے کردار کی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف ایک وجود ہوتا ہے، مکمل الگ، مکمل جدا، اپنی پہچان اور شناخت رکھتا ہے، اپنے بنائے ہوئے معیارات پر جیتا ہے۔ ماہ رنگ انہی میں سے ہے۔ وہ صرف ایک ہے، جس کی کوئی دوسری ثانی نہیں، کیونکہ عظیم انسانوں کی ثانی نہیں ہوتی، ان کا وجود ایک مرتبہ ہوتا ہے اور وہ ایک ہی زندگی جیتے اور مرتے ہیں۔ ماہ رنگ نے جو اثرات بلوچ سماج پر چھوڑے ہیں، اس کی گہرائی بہت وسیع ہے۔ یقیناً یہ ایک طویل سفر ہے۔ ڈاکٹر کے لیے آنے والے دنوں میں مزید چیلنجز رہیں گے، مزید مشکلات کا سامنا رہے گا، لیکن مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر کی دیدہ دلیری کے سامنے یہ مسائل کبھی رک نہیں پائیں گے۔ ماہ رنگ نتیجے پر انتہائی زیادہ بھروسہ رکھتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جو مقصد وہ رکھتی ہیں اور جس مقصد کو وہ جیتی ہیں، وہ انہیں ضرور نتیجے تک پہنچائے گا، چاہے اس کے نتائج ان کے لیے جو بھی ہوں۔
ماہ رنگ کو جدوجہد کے ہر میدان اور ہر مقام میں موجود رکھنا، حصہ بنانا، اپنا سمجھنا اور اسے شامل کرنا اس لیے بھی ضروری ہے، کیونکہ وہ انفرادی زندگی کو ہماری اس اجتماعی جدوجہد میں مکمل طور پر دفن کر چکی ہیں جس کے لیے ہم قربانی دے رہے ہیں، اور ان کی زندگی کا ہر مقصد و معنویت اسی جدوجہد کی ہو چکی ہے۔ قومی جدوجہد کے ہر جدوجہدکار کو ماہ رنگ کو اپنے ساتھی کے طور پر یاد رکھنا اور حصہ بنانا چاہیے، کیونکہ ماہ رنگ کی ذات اور شخصیت دونوں اس جنگ میں جیتی اور مرتی ہیں۔ ماہ رنگ کو اپنی ہر مجلس کا حصہ بنانا، اسے شامل رکھنا، اسے یاد کرنا اور اسے اپنا سمجھنا ہی اس کے کردار اور جدوجہد کے ساتھ بہترین انصاف ہے، کیونکہ جس ماہ رنگ کو میں جانتا ہوں، مجھے یقین ہے کہ آج جیل میں بھی وہ اپنی ذات کو لے کر کسی فکر میں نہیں ہوں گی، بلکہ آج بھی وہ اپنے انقلابی ساتھیوں کو یاد کرتی ہوں گی، ان کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہوں گی، اور وہ ان کے لیے فکر مند ہوں گی، کیونکہ ان کی زندگی اور شخصیت دونوں انقلاب کی ہو چکی ہیں۔ ماہ رنگ انقلاب کا احساس ہیں، قومی شعور و آگاہی کا چہرہ، قربانی کی نسل در نسل حقیقت اور عشقِ وطن کی وہ داستان جو وطن سے شروع ہو کر وطن میں دفن ہوتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































