نوابزادہ میر حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ جن لوگوں کو اسلام آباد جرگے میں بلایا گیا، ان لوگوں کے ساتھ یہ طے ہوا ہے کہ ریاست حقوق نہیں دے گی، جبر کا راستہ اختیار کیا جائے گا، اور جو بھی خونریزی اور نقصان ہوگا، ان کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ سرفراز عوامی نمائندہ نہیں ہے، آئی ایس پی آر کا نمائندہ ہے۔ اس کو اسی لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کا جو لہجہ ہے، وہ بہت سخت گیر انسان بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لہجے کی بنیاد پر اس کو ابھی تک رکھا ہے۔ مستونگ کے لوگ ہمیشہ اپنے سیاسی اصولوں پر ڈٹے ہیں، اس لیے انہیں یہ سزا دی جا رہی ہے کہ ان کے باغات اور درختوں کو کاٹنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ میں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان میں آئی ڈی پیز کا بہت بڑا بحران آ رہا ہے۔ پشتون اور بلوچ احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ملے تو دلی کو بھی ہم نے فتح کیا۔ جب پشتون اور بلوچ اکٹھے ہوئے، میر وائس ہوتک کی سربراہی میں، تو ہم نے گورگین کو بھی شکست دی۔ آپ جنوبی پشتونخوا بھی کہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ محمود خان صاحب کا کوئی خاص ایجنڈا ہوگا، ہماری دعا ہے کہ یہ پشتونوں کے مفاد میں ہو۔
مہر گڑھ میں ان کی رہائش گاہ پر ڈرون حملے کے حوالے سے سوال کے جواب میں نوابزادہ حاجی لشکری نے کہا کہ رہائش گاہ پر حملے میں گھر کو بھی نقصان ہوا ہے۔ ہم اس اسٹینڈ پر کھڑے ہیں کہ بلوچستان کو اس کے تاریخی حقوق ملیں۔ یہ سب کچھ اس کے ردِعمل میں ہوا ہے۔ ہم بھی اس سرزمین کے فرد ہیں، ہم بھی اس تکلیف کو برداشت کریں گے، مگر اپنے قومی اختیار اور حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ جو اس ریاست کے سہولت کار ہیں، یقیناً ان کو ایک دن جواب دینا ہوگا؛ خونریزی کا، تکلیفوں کا، نقصانات کا۔
















































